بادشاہت اور کیا ہوتی ہے؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

سلیم صافی محترم و مکرم عطاء الحق قاسمی صاحب، صاحب کمال نہیں بلکہ صاحبِ کمالات انسان ہیں۔ وہ ادیبوں کے لئے فیصل آباد کے گھنٹہ گھر ، دانشوروں کے لئے لاہور ، کالم نگاروں کے لئے جاتی امرا، مزاح نگاروں کے لئے وزیر اعظم ہائوس اور شاعروں کے لئے لاہور آرٹس کونسل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی دلربائی شخصیت کا طواف کئے بغیر میدان ہائے ادب و صحافت کے بے چین دلوں کو سکون نصیب ہوتا ہے اور نہ ان کے شرف تلمذ سے مستفید ہوئے بغیر کوئی مستند قرار پا سکتا ہے۔ میں تو ان کے صاحبزادے یاسر پیرزادہ کی تحریر، تقریر اور محبت بھرے روئیے کا بھی مداح ہوں۔ گویا قاسمی صاحب میرے نواز شریف تو یاسر پیرزادہ شہباز شریف ہیں ۔ ان کو جواب دینے کا میں اپنے آپ کو قابل سمجھتا ہوں اور نہ اس ناخوشگوار کام کی خواہش دل میں رکھتا ہوں لیکن میری زندگی کا المیہ یہ ہے کہ مجھے اکثر اوقات ناخوشگوار کاموں پر وہی لوگ مجبور کر لیتے ہیں جن سے میں محبت کرتا ہوں ۔

قاسمی صاحب نے میرے کالم ،سیاسی عمرے’’ بادشاہت اور دھرنے ‘‘ کے جواب میں ’’نواز شریف کی بادشاہت ‘‘ کے ذریعے عنوان جوابی کالم تحریر کیا۔ میں نے پڑھا‘ خوش ہوا اور چپ رہا لیکن انہوں نے اس پر اکتفا نہیں کیا اور دوسری قسط بھی تحریر کر دی۔ شکر ہے ان کے بن بلائے مہمان آئے ورنہ انہوں نے مزید بھی لکھنا تھا۔ حالانکہ ہمارے ایک اور استاد میاں صاحب کی ترجمانی کرتے کرتے اب باقاعدہ طور پر ترجمان کی منزل پا گئے ہیں اور یوں بھی درجنوں کی تعداد میں وزیر اور مشیر موجود ہیں ، جن کا فریضہ ہے کہ وہ ہم جیسے گستاخوں کو جواب دیں لیکن شاید میری قسمت میں یہ آزمائش لکھی ہوئی تھی‘ اس لئے ان کی بجائے محترم قاسمی صاحب نے نہ صرف میرا جواب لکھا بلکہ دونوں کالموں میں مجھے تاکید کی کہ میں میاں صاحب کی بادشاہت کی مثالیں دوں ۔ یوں انہوں نے مجھے انتہائی ناخوشگوار صورت حال سے دو چار کر دیا ہے ۔ اب میں اگر مثالیں دوں تو قاسمی صاحب کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو جاتا ہوں اور اگر نہ دوں تو ان کی فرمائش پوری نہیں ہوتی ۔ یوں درمیانہ راستہ تلاش کر کے چند اشاروں پر اکتفا کرتا ہوں اور اگر ان کا اصرار جاری رہا تو مجبوراً تفصیل سے مثالیں دے دوں گا۔ قاسمی صاحب جانتے ہیں کہ میاں صاحب سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں۔ سیاست کے ذریعے ‘ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کی حیثیت سے ‘ سیاسی کیڈر سے اٹھ کر وہ سیاسی طریقے سے اقتدار میں آتے ہیں لیکن ایوان اقتدار میں داخل ہوتے ہی وہ سیاسی کی بجائے کاروباری شخصیت بن جاتے ہیں ۔ ان کے اردگرد بڑے بڑے کاروباری لوگ یا پھر چند عزیز ، چہیتے اور چاپلوس ہی نظر آتے ہیں اور یہ جمہوری حکمرانوں کا نہیں بلکہ بادشاہوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔

میرے اور قارئین کے علم میں اگر قاسمی صاحب اضافہ کر لیں تو ان کی عنایت ہوگی کہ وزیر اعظم بننے کے بعد میاں صاحب نے اپنے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا سے کتنی ملاقاتیں کی ہیں اور ایک بڑی کاروباری شخصیت سے کتنی کی ہیں؟ یا پھر اپنے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پارٹی صدور کو کتنی بار شرف باریابی بخشا ہے اور برطانیہ سے حکمرانی کے لئے بلائے گئے گورنر پنجاب سے کتنی بار ملے ہیں؟ اگر تناسب ایک نسبت پچاس سے کم ہو تو میں اپنی بات واپس لے لیتا ہوں۔ مجھے بتایا جائے کہ اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کے مرکزی اور صوبائی مشاورتی فورمز کے کتنے اجلاس ہوئے ہیں؟ وزیر اعظم صاحب نے قومی اسمبلی میں کتنا وقت صرف کیا ہے؟ ان کے سینیٹ کے دوروں کی تعداد زیادہ ہے یا پھر سعودی عرب ، چین اور برطانیہ کے دوروں کے؟ اپنے اقتدار کے چار سو سے زائد دنوں میں انہوں نے کتنے دن لاہور میں ، کتنے اسلام آباد میں ، کتنے مری کے کوہساروں میں اور کتنے بیرون ملک گزارے اور کتنے دن باقی تین بدقسمت صوبوں اور فاٹا کے حصے میں آئے؟

بقول قاسمی صاحب کے وزیر اعظم صاحب پارلیمنٹ کو زیادہ وقت اس لئے نہیں دے سکے کیونکہ وہ بڑے بڑے پروجیکٹس سے متعلق میٹنگز میں مصروف رہتے ہیں حالانکہ وہ گزشتہ تین ماہ میں قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے لئے دو گھنٹے نہیں نکال سکے اور قاسمی صاحب سے بڑھ کر کون سمجھ سکتا ہے کہ جب امن وامان کی یہ حالت رہے گی اور سول ملٹری تعلقات میں یہ تنائو رہے گا تو یہاں بڑے پروجیکٹس کیسے کامیاب ہوسکیں گے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ لا قانونیت کے بعد اس ملک کے دوبڑے مسائل صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے ۔

میرے علم میں نہیں کہ وزیرِ اعظم صاحب نے ان دوشعبوں سے متعلق کتنی میٹنگز کی ہیں ۔ اگر قاسمی صاحب کے علم میں ہوں تو ہمیں بھی آگاہ کریں ۔ میٹروبس کی افادیت جو قاسمی صاحب نے بیان کی ہے ، اپنی جگہ لیکن ٹریفک کا مسئلہ اسلام آباد میں سنگین ہے یا پھر کراچی میں؟ یہ بھی بتایا جائے کہ اس پروجیکٹس سے متعلق کتنی میٹنگز ہوئیں اور کراچی، پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا میں امن وامان کے مسئلے سے متعلق کتنی ہوئیں؟ میں نے عمرے پر نہیں بلکہ وزیر اعظم کے نفلی اور سیاسی عمرے پر اعتراض کیا۔ قاسمی صاحب خود عالم فاضل اور ایک بڑے عالم دین کے جانشین ہیں۔ وہ مجھے بتائیں کہ وزیر اعظم کے لئے دین کی رو سے نفلی عمرہ زیادہ ضروری ہے یا پھر اپنے شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کی فکر اور اس حوالے سے محنت؟۔ مجھے یہ بھی بتایا جائے کہ یہ عمرے کی کونسی قسم ہے کہ جس پر جاتے ہوئے دو ڈھائی سو کریٹ آموں کے لے جائے جاتے ہیں ۔ قاسمی صاحب نے جدہ کے سرور پیلس میں قیام ہی نہیں کیا بلکہ درجنوں عمروں کی سعادت بھی حاصل کی ہے ۔ ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ عمرے کی عبادت چند گھنٹے میں تمام ہو جاتی ہے ۔ اب یہ کونسا عمرہ تھا کہ جس کی ادائیگی پر دس دن لگ گئے ؟

بادشاہت کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جب وزیر اعظم صاحب دس روزہ دورے سے واپس تشریف لائے تو مری کی طرف چل دئیے۔ 4 اگست کو جب وہ ڈونگا گلی میں نظاروں سے لطف اندوز ہورہے تھے تو ایک کاروباری دوست سے ملاقات کی ضرورت محسوس کی ۔ ان کو لینے کے لئے سرکاری ہیلی کاپٹر لاہور بھیجا گیا۔ اب یہ بادشاہت نہیں تو اور کیا ہے ؟۔جہاں تک اقرباپروری اور دوست پروری کی مثالوں کا تعلق ہے تو درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں لیکن اشارتاً اتنا عرض کروں کہ یہ جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فعال ترین جج جسٹس شوکت صدیقی نے بیس سے زائد محکموں کے سربراہوں کی تقرریوں کو غیرقانونی قرار دیا تو یہ تقرریاں کس بنیاد پر ہوئی تھیں؟۔ اگر اقربا پروری اور چمچہ پروری کی بنیاد نہیں تھی تو پھر عدلیہ نے ان کی چھٹی کیوں کرا دی۔ نہ تو میری خواہش ہے کہ نواز شریف صاحب کی جگہ شہباز شریف صاحب وزیر اعظم بن جائیں اور نہ یہ میری تجویز ہے۔

میں نے کسی اور تناظر میں وہ بات کی تھی ۔ ہاں البتہ جس پرویز مشرف کی یہ خواہش تھی، ان پرویز مشرف کے یارغار کو حکومت نے نہ جانے کس پروری کی بنیاد پر پی آئی اے کا سربراہ بنایا ۔ پرویز مشرف کو چیلنج کرنے والے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان کو فارغ کر دیا لیکن میاں صاحب کو وہ اتنے عزیز تھے کہ افتخار چوہدری کے فارغ ہوتے ہی ان کو دوبارہ اسی پی آئی اے کا مختار بنا دیا جبکہ دوسری طرف طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والے سید غوث علی شاہ کے ساتھ کیا سلوک ہوا ، وہ قاسمی صاحب بھی بہتر جانتے ہیں ۔ قاسمی صاحب نے وزیر اعظم کے فقیرانہ مزاج کی مثال یہ دی ہے کہ وہ خود ڈرائیو کرتے ہوئے ان کے دفتر آتے ہیں تو اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ فقر کی نہیں بلکہ بادشاہانہ مزاج کی علامت بھی ہوسکتی ہے ۔ قاسمی صاحب کو شاید اپنی محفل کی چاشنی کی قدر نہ ہو لیکن ہم اس چاشنی سے واقف ہیں ۔ ان کی محفل کی چاشنی ہم جیسے مزدوروں کی تھکاوٹ دور کر دیتی ہے تو بادشاہوں کی تو ضرور کرتی ہو گی۔ یوں بھی علمی اور ادبی حوالوں سے قاسمی صاحب کا مقام مرتبہ بادشاہوں سے بلند ہے اور میاں صاحب ماشاء اللہ ان حوالوں سے انتہائی غریب ہیں۔ اب اگر بادشاہ وقت امور مملکت کی تھکن اتارنے کسی وقت وہاں خود ڈرائیو کرتے ہوئے اپنے لاہوری ذوق کی تسکین کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ وہ سیاست میں بھی فقیرانہ مزاج کے حامل ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size