جمہوریت کیوں سہمی ہوئی ہے؟

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

عمران خان اپنے موقف پر تنہا کھڑے ہیں جبکہ طاہر القادری کے نامعلوم روئیے کی وجہ سے ان کو ملکی سیاست میں اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اگر یہ دونوں اندازے درست ہیں تو پھر حکومت کے سامنے کیا مسئلہ ہے؟ اس کا سانس کیوں پھول چکا ہے؟ اگر گزشتہ بدھ کو شہباز شریف کے ایک ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو سے کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ انہیں فوری طور پر یوگا کی مشقوں کی ضرورت ہے تاکہ اپنے سانس کو کنٹرول کرتے ہوئے خود کو پرسکون رکھ سکیں۔ میں نے اس انٹرویو کا صرف آخری حصہ دیکھا تھا، تاہم میں جو کچھ بھی دیکھ سکا، اس سے یہی تاثر ملتا تھا کہ اربابِ حکومت کے پائوں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ شہباز شریف کی شخصیت، بلکہ حکومت، کا سب سے فعال حصہ ان کی انگشتِ ، پینترے بدل بدل کر کبھی چوہدریوں، کبھی عمران خاں اور کبھی ڈاکٹر قادری پر حملہ آور ہو رہی تھی۔ یہ بات آسانی سے نوٹ کی جا سکتی تھی کہ ہمارے دوست اینکر انتہائی دوستانہ ماحول میں انٹرویو کر رہے تھے. ان کو انٹرویو کی سہل نگاری کا مولوی اسماعیل میرٹھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود مسٹر شریف کی سانسیں برہم تھیں۔

عمران خان اور طاہر القادری کا شکریہ کہ ان کے دبائو کی وجہ سے حجرہ نشیں وزیرِ اعظم نے یکا یک سیاسی صلاح مشورے کی ضرورت محسوس کر لی۔ گزشتہ چند ایک دن سے سیاسی رہنمائوں سے مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں، تاہم مسلۂ یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی کے قائد کے علاوہ باقی زیادہ تر رہنما کاعذی شیر ہیں اور وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر پانچ ہزار افراد بھی اکٹھا کرنے کے قابل نہیں۔ اس پر روسی رہنما اسٹالن کا لافانی استفسار ذہن میں آتا ہے...’’پوپ کے پاس کتنے ڈویژن فوج ہے؟‘‘ پوچھا جا سکتا ہے کہ میرے دوست سید خورشید شاہ صاحب کتنے افراد اکٹھے کر سکتے ہیں؟ عملی طور پر پی پی پی کم از کم پنجاب کی حد تک غیر فعال ہے۔ اس عالم میں ان کی ’’اخلاقی حمایت‘‘ کا وزیرِ اعظم کو کیا فائدہ ہو گا؟

لانگ مارچ سے نمٹنے کے لئے حکومت کی زنبیل میں جو مستعمل ہتھیار ہے، اُسے عامیانہ زبان میں ’’شوشے چھوڑنا‘‘ کہا جا سکتا ہے... یومِ آزادی کی طویل تقریبات منانا، قومی پرچم تقسیم کرنا اور سترہ اگست کو یومِ فلسطین منانا وغیرہ۔ لانگ مارچ حکومت کے لئے ایک حقیقی خطرہ ضرور ہے لیکن اس کے مقابلے پر حکومتی اقدامات کو سیلاب میں کاغذ کی نائو کے سہارے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ ترکی میں طیب اردوان کو سیکولر طاقتوں پر مشتمل اپوزیشن سے سنگین خطرہ لاحق ہے لیکن اُنہیں عوام کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ جب گزشتہ موسمِ گرما میں تقسیم چوک میں فسادات پھوٹ پڑے تھے تو وزیرِ اعظم کی ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ نے بھی ان کی حمایت میں بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔ آج پی ایم ایل (ن) سے کہیں کہ اپنے سیاسی قلعے لاہور میں ہی کوئی جلسہ کر کے دکھا دیں۔ آج پنجاب حکومت پوری مشینری استعمال کرتے ہوئے مال پر بھی ایک معقول ہجوم اکٹھا نہیں کر سکتی۔

حکومت کے سامنے اصل مسلۂ یہی ہے۔ اس کے پاس گزشتہ انتخابات کا مینڈیٹ اور حکومت کرنے کا حق موجود ہے۔ اسے لاہور کی تاجر برادری کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ پی ایم ایل (ن) کے منشور میں ٹیکسوں کے نفاذ کا کوئی وعدہ نہیں اور نہ ہی یہ ایسی بدعات پسند کرتی ہے، لیکن آج یہ اسٹریٹ پاور دکھانے کے قابل نہیں ۔ اس دوران تنہا کھڑے عمران خاں اور طاہر القادری ہی پنجاب میں عوام کو جوش دلا کر باہر نکال سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے عمران خان کی طرف سے بڑی بڑی ریلیوں کے انعقاد نے حکومت کی رات کی نیند حرام کر رکھی تھی جبکہ خادمِ اعلیٰ دیوانہ وار اپنی فعالیت دکھا کر یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش میں تھے۔ دوسری طرف طاہر القادری کے زبانی احکامات پر ان کی تنظیم کے نوجوان پولیس کی گولیاں کھانے سینہ تان کر باہر نکل آتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ طاہر القادری کوئی بھی انتخابی کامیابی حاصل نہ کر سکیں لیکن اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ وہ جی ٹی روڈ پر ایک بڑا جلوس لے کر آ سکتے ہیں۔ اس دوران حکومت کی صفوں میں افراتفری پھیل رہی ہے ۔ ان کے پاس لے دے کے واحد سہارا پنجاب پولیس ہے لیکن اسی پولیس کو ماڈل ٹائون واقعہ میں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا اور اب اس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف آنے والے عوامی سیلاب کو روک لے گی۔

اس وقت حکومت کے حق میں صرف یہ بات ہے کہ عمران اور قادری مل کر اسلام آبادکی طرف مارچ کرنے پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں۔ حکومت کا اس طرح ’’ساتھ ‘‘ دینے کا الزام کس پر لگایا جائے، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ چونکہ عمران کی ’’مرکزی مجلسِ عاملہ‘‘ ان کی اپنی ذات پر ہی مشتمل ہے، اس لئے ان کو یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اکیلے کی سیاسی خودکشی کی راہ پر سفر جاری رکھیں اور حکومت کا بال بھی بیکا نہ ہونے دیں۔ اس وقت حکمرانوں کے لئے سب سے اچھی خبر یہی ہے کہ انقلابی اور سونامی جتھے متحد ہونے کے قابل نہیں۔ اگر یہ دونوں الگ الگ مارچ کریں گے تو حکومت ان سے عہدہ برا ہو سکتی ہے ، لیکن ان کی متحد قوت کے سامنے پہلے پولیس کے شیر جوان منتشر ہو جائیں گے اور پھر کاغذ کے شیر بھی سیلمانی ٹوپی پہن لیں گے۔

جس دوران وزیرستان میں جنگ لڑتے ہوئے فوج قربانیاں دے رہی ہے، سیاست دانوں نے اپنے ڈرامے شروع کر رکھے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی خاطر کون، کیا کر رہا ہے۔ ہماری ملکی تاریخ میں سیاسی طبقے اور دفاعی اداروں میں تفاوت کی لکیر اتنی گہری کبھی نہ تھی۔ فوجی جنرل یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے ذہن میں کیا ہے؟ قوم کو اخبارات کی فلک شگاف شہ سرخیوں نے بھی کنفیوژن میں ڈال رکھا ہے۔ اس وقت دونوں متحارب قوتوں کے درمیان کسی سمجھوتے کا امکان ختم ہو چکا۔ عمران اور قادری اس حکومت کو ختم کرنے پر کمر بستہ ہو چکے ہیں۔ وہ ایک طرح سے اپنی کشتیاں جلا چکے ہیں۔ اگر عمران خان کا آزادی مارچ قادری کے پی پی پی دور کے دھرنے اور قادری کا انقلابی مارچ ایک مرتبہ پھر مبارک سلامت پر ختم ہو گیا تو یہ دونوں رہنما پھر طویل عرصہ تک مارچ کرنا تو درکنار، ایک بیان بھی دینے کے قابل نہیں رہیں گے۔ دوسری طرف شریف برادران بھی کسی سمجھوتے پر راضی نہیں ہو سکتے کیونکہ اس عالم میں حریفوں کو کوئی رعایت دینا دیوار سے ایک اینٹ سرکانے کے مترادف ہوگا۔ اس کے بعد پھر یار لوگ صحن سے راستہ خود ہی بنالیںگے۔ ایک اور بات، فریقین کے سامنے ایسی بھی صورت نہیں کہ دونوں کو بیک وقت فاتحین قرار دیا جا سکے۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے ایک دودن ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوںگے۔ اگر عمران خان اور قادری مل کر اسلام آباد کے دروازے پر دستک دیں گے تو صورتِ حال سنگین ہوجائے گی اور حکومت محصور ہو کر رہ جا ئےگی۔ چونکہ حکومت عوام کے خلاف کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتی، اس لئے حالات مارچ کرنے والوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ اس موقع پر پیدا ہونے ڈیڈ لاک کو کون توڑے گا؟ اُس وقت سراج الحق یا محمود خان اچکزئی کے جمہوریت کے حق میں دئیے گئے بیانات کام نہیں آئیں گے۔ اُس موقع پر، ہمیں یہ بات اچھی لگے یا نہ لگے، بات اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔

ہر بحران کے دو پہلو ہوتے ہیں... کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے؟ اس وقت معاملات ہماری خواہشات کے سانچے میں نہیں ڈھلتے بلکہ حالات کا بے رحم ہاتھ اُنہیں اپنی مرضی سے ٹکسال کرتا ہے۔ اس وقت حکومت، جو ایک سال پہلے بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئی تھی، بحران کی زد میں اپنے بچائو کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ حالات درست عمل کے متقاضی ہیں لیکن حکومت کے لبوں پر صرف جمہوریت کی تعریف وتوصیف جاری ہے۔ وزیر ِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کے سامنے ڈٹ جائیں گے۔ اکتوبر 1999ء میں بھی وہ ڈٹے ہوئے تھے لیکن اچانک وہ سعودی سرزمین پر پائے گے۔ بھٹو صاحب بھی ڈٹ گئے تھے لیکن نہ کوئی آسمان ٹوٹا اور نہ زمین کانپی! اگر عمران اور قادری قدم سے قدم سے ملا کر اسلام آباد کی طرف عازم ِ سفر ہولئے تو شہباز شریف کی لہراتی ہوئی انگلی کسی کام نہیں آئے گی۔ حالات خاصے سنگین دکھائی دیتے ہیں۔تاہم خوشا، ہماری سرزمین پر اتنے مزارات و مقابر ہیںکہ کائنات کے کسی اور گوشے میں نہیں ملیں گے۔ کیا کسی دعا کو شرف ِ قبولیت پاتے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا کوئی معجزہ رونما ہو گا؟ لیکن اگر عمران اور قادری اپنے اپنے مورچے میں دھنسے رہے تو پھر بقول شاعر .. ’’پلائو کھائیں گے احباب، فاتحہ ہوگا۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size