.

اسرائیل کا ناجائز قیام

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1897ء میں بیسل (سوئٹزر لینڈ) کی پہلی صہیونی کانگریس کے جس اجلاس میں آسٹروی صہیونی تھیوڈر ہرزل کا یہودیوں کی الگ ریاست کا نظریہ زیر بحث آیا اس میں اور اس کے فالو اپ میں یوگینڈا (گزشتہ قسط میں سہواً گھانا لکھا گیا ہے تصیح فرمالیں) کے علاوہ فلسطین، ارجنٹینا، آسٹریلیا، صحرا سینا (مصر) قبرص اور یوگنڈا میں سے (کسی ایک میں ) اسرائیل کے قیام کی تجویز زیر بحث رہی بظاہر اسرائیل کے قیام کے مخالف قدامت پسند یہودیوں اور اس کے حامی جدید یہودیوں (صہیونیوں ) کی طرف سے بھی ہوئی لیکن دل سب کا فلسطین پر ٹھکا، جہاں پہلے ہی مشرقی یورپ سے فلسطین میں آ کر آباد ہونے والے یہودیوں اور فلسطینی عربوں میں تنازعہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت فلسطین برطانیہ کی کالونی تو نہیں تھا لیکن اس پر اس کا انتظامی کنٹرول تھا یا فلسطین پہنچنے والے یہودیوں نے زرعی خطوں کی خریداری بھی شروع کر دی تھی جس کے بعد ان کے مطالبات اور انتظامیہ میں دخل بڑھتا گیا جو فلسطینیوں اور یہودیوں کے تنازعات میں تبدیل ہو گیا۔ برطانوی اتھارٹی بڑی چالاکی سے فلسطین میں اپنی جگہ بھی بنا رہی تھی ’’یہاں لارنس آف عریبیا‘‘ کی خفیہ کارروائیوں اور عربوں کے جذبات کو ابھارنے کی وجہ سے عثمانی سلطنت کا کنٹرول ختم اور برطانیہ کا اثر بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 19 ویں صدی کے وسط ( سلطنت عثمانیہ کا زوال شروع ہونے سے قبل تک)، وسطی یورپ (سربیا اور بوسینیا ) سے لے کر شمالی افریقہ اور شام سے یمن تک کے خطے یا تو سلطنت عثمانیہ کے انتظامی کنٹرول میں تھے یا ان کی حیثیت ترک اثر اور دبدبے کے ساتھ نیم خودمختاری کی سی تھی لیکن اس مرحلے میں ترکوں کی طاقت پر ان کی پرتعیش زندگی غلبہ پانے لگی، جبکہ برطانوی اور فرانسیسی سامراج اس خطے کے گرد و نواح میں غلبہ پا چکے تھے۔

جنگ عظیم (1914-1918)سے قبل جنگ بلقان جس میں جنوب مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ یورپی نو آبادیاتی طاقتوں کا ہدف بن کر ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگے ،مشرقِ وسطیٰ کے عرب اور مسلم ممالک بھی ان کا ہدف بنتے نظر آئے جنہیں سلطنت عثمانیہ کے انتظامی کنٹرول سے نکال کر اپنے زیر اثر لانے کے لئے برطانیہ نے ترکی سے براہ راست کوئی بڑا معرکہ کرنے کی بجائے براہ راست عربوں کو ترکوں کے خلاف ٹکرانے کے لئے ان میں ’’عرب نیشنلزم ‘‘ کے جذبات ابھارنے اور ان میں خلافت کے شہری ہونے کی بجائے ’’ترکی کی غلامی‘‘ میں ہونے کے احساسات پیدا کرنے اور بھڑکانے کی حکمت عملی تیاری کی۔ یہ ایک بڑے منفی قومی مقصد کے لئے قلم و زبان کی خاموش جنگ شروع کرنے کا منصوبہ تھا، جس کی کمان برطانوی حکومت نے عربی زبان و بیان اور کلچر پر عبور رکھنے والے دانشور کیپٹن لارنس آف عریبیا کو سونپی جس نے عربی ثقافت کے تشخص کو انتہائی عیاری اور کامیابی سے ابھارا اور عربوں میں ترکی کے خلاف سخت تعصب پیدا کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ وہی کام تھا جو مدینہ کے یہودیوں اور ایران میں صباحی تحریک کے گٹھ جوڑ سے جنگِ قادسیہ میں ایرانیوں کی مسلمان فوج سے شکست کے بعد سازش سے کیا گیا۔

لارنس آف عریبیہ نے اپنے قومی مقاصد کے لئے ترک و عرب میں خلیج پیدا کرنے کے لئے جو علمی و قلمی حربے استعمال کئے وہ ہم مسلمانوں کے لئے تو بلاشبہ گہری سازش ہی تھی جس میں برطانیہ مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، تاہم ہندوستانی مسلمانوں اور خود ترکوں کے لئے یہ خاتمہ خلافت کا محاذ کھولنا تھا جس کے ذریعے عرب مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع کی تعلیم عظیم کے برعکس عربی تشخص میں مبتلا عرب، عرب و حجم کے تعصب میں مبتلا ہو کر خاتمہ خلافت کے لئے ذہناً امادہ ہو گئے۔ خلافت کے مقامی عرب منتظمین دشمن خلافت انگریز سے ملتے گئے۔ اسی پر تو مرشد اقبال نے یہ نوحہ لکھا کہ:

کیا سناتا ہے مجھ کو ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

1948ء میں اسرائیل کے ناجائز قیام سے قبل 4, 5 عشروں کا یہ پس منظر اہم ترین اور غور طلب ہے کہ (دشمن طاقتیں کب اور کیسے اپنے ناممکن اہداف کو ممکن بنانے کے لئے سرگرم ہوتی ہیں۔)

عظیم سلطنت عثمانیہ کا حامل ترکی ’’مرد بیمار‘‘ کہلانے لگا تھا عربوں کو جداگانہ تشخص میں ڈبو دیا گیا عربوں نے ’’قومیت ‘‘ میں غرق ہو کر مسلم ترک سلطنت کے خاتمے کے لئے یورپی استعمار سے گٹھ جوڑ تک پر آمادگی کی۔ سرزمین فلسطین پر یورپ سے مالدار یہودیوں کی آمد کا سلسلہ تو پہلے ہی شروع ہو چکا تھا جو غیر معمولی معاوضوں پر غریب عرب کسانوں سے کھیت اور باغات خرید رہے تھے۔ مفتیِ اعظم فلسطین ’’ امین الحسینی‘‘ خود اور ان کے ساتھی فلسطینی کسانوں اور زمینداروں کے گھروں پر دستک دے کر انتباہ کرتے رہے کہ یہودیوں کو زمینیں نہ بیچی جائیں، پھر بھی ہر دو فرقوں کے یہودی قیام اسرائیل سے قبل 29 فیصد زرخیز زرعی قطعات خریدنے میں کامیاب ہو گئے۔ جس کے بعد عربوں اور یہودیوں میں زرعی زمینوں کے حوالے سے آئے دن تصادم بھی ہونے لگے اور برطانیہ جو لارنس آف عریبیا کے ’’علمی مورچے‘‘ سے یہودیوں کی آمد اور قیام کے استحکام کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہا تھا ترکی کے فلسطین میں اثر و نفوذ کے مکمل خاتمے کے لئے فرانس اور روس سے بھی گٹھ جوڑ کئے ہوئے تھا جو جنگِ عظیم اول (1914ء) شروع ہونے پر اتحادی بھی بنے۔

ترکی صورتحال کے پیش نظر جنگ کے آغاز پر ہی جرمنی کا اتحاد بن چکا تھا۔ دوران جنگ ہی اکتوبر 1916ء میں سلطنت عثمانیہ کو پارہ پارہ کر دینے والا ’’ THE SYKES - PICOT AGREEMENT‘‘ برطانیہ، روس اور فرانس کے درمیان ہوا ۔ یہ سال زار روس کی عیسائی حکومت کا آخری سال تھا۔ معاہدہ دو سفارت کاروں ’’سرمارک سائیکس ‘‘ اور ’’جارج پائیکوٹ ‘‘ نے ترتیب دیا۔ جس کے مطابق مشرقی وسطیٰ کا غالب خطہ برطانیہ اور فرانس کے کنٹرول میں لانے پر اتفاق ہوا۔ اس کے تحت عرب کو زیر اثر خود مختار ریاست بنانا تھا اور فلسطین برطانیہ فرانس اور روس کے مشترکہ کنٹرول میں آنا تھا ۔ ابتدامیں یہ معاہدہ خفیہ رہا لیکن ایک سال بعد جب 1917ء میں روس میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا تو انقلابیوں نے برطانیہ کو شرمندہ اور عربوں کو آگاہ کرنے کے لئے معاہدے کی تمام شقیں عام کر دیں ۔ انقلابیوں کا موقف تھا کہ معاہدہ عربوں بشمول فلسطینیوں کی توقعات سے بے وفائی ہے۔ جس میں فلسطین کا الگ عرب ریاست بننا بھی شامل تھا۔ امر واقع یہ ہے کہ عملاً فلسطین پر برطانوی کنٹرول تھا جو پہلی جنگِ عظیم میں یہودیوں کی خفیہ امداد (مالی و دیگر) سے ان کا بہت ممنون ہو چکا تھا خصوصاً ماہر یہودی کیمیا دان چیم و یزمان نے برطانیہ کو تباہ کن بارود تیار کرنے میں بہت مدد دی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی بحرہ روم کے ساحل پر یورپ سے آنے والے یہودیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ۔ عرب یہودی تنازع کے دوران بیشتر فلسطینی عرب رہنما جلاوطن کر دیئے گئے۔ یہ سب سلسلہ غیر قانونی اور عربوں اور برطانوی اتھارٹی کے درمیان معاہدوں کی خلاف ورزی تھی۔ نازیوں سے بچ جانے والے یہودی بھی برطانوی اتھارٹی کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطین ہی پہنچائے جا رہے تھے۔

جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد اقوامِ متحدہ وجود میں آیا جہاں سے مسئلہ فلسطین پر امریکی کردار غالب ہو گیا۔ برطانیہ فروری ء1947 میں مسئلہ فلسطین اقوامِ متحدہ لے گیا جہاں اس کے لئے سپیشل کمیٹی بنائی گئی۔ طے پایا کہ فلسطین کی 56 فیصد رقبہ یہودیوں کو دیکر ان کی ریاست بنا دی جائے جبکہ یہ فلسطین پر موجود کل آبادی کا 33 فیصد تھے ۔ بیت المقدس کو انٹرنیشنل زون قرار دیا گیا۔ عربوں نے پلان سے اختلاف اور یہودیوں نے اتفاق کیا۔ بعد میں اس فارمولے میں بھی یہودیوں کے حق میں ترامیم ہوئیں ۔29 نومبر 1947ء کو امریکہ، فرانس اور روس سمیت 33 اقوام نے اس پارٹیشن فارمولے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ تمام اسلامی ممالک، بھارت، یوگو سلاویہ اور یونان نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم اس کے نتیجے میں اسرائیل تو ایک الگ مملکت بن گیا لیکن فلسطینیوں کی الگ ریاست پر اتفاق کو مسلسل کٹھائی میں ڈال کر نوبت موجودہ غزہ تک پہنچائی گئی پھر اس میں 67ء کی جنگ میں اسرائیل نے شام اور اردن کے علاقے پر بھی قبضہ کیا۔

پاکستان آج اپنی سماجی سیاسی اور اقتصادی حالت میں عثمانی دورِ خلافت کے اختتام جیسا ’’مرد بیمار‘‘ ہی ہے لیکن ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ تاہم جگہ کی کمی کے باعث متذکرہ ادھوری کہانی میں بھی پاکستانیوں کے لئے بڑے بڑے سبق سمائے ہوئے ہیں ۔ذرا سوچئے!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.