.

جہاد بھی فساد بھی

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف جہاد دوسری طرف فساد یہ ہے وطن عزیز کی تازہ ترین صورت حال۔ شمالی پاکستان کی پتھریلی زمین پر ملک کو بھارتی تخریب کاروں اور ان کے سادہ لوح پاکستانی ساتھیوں سے ملک کو بچانے کے لیے ہمارے فوجی جوان زندگی کی بازی لگائے ہوئے ہیں لیکن کچھ لوگ پاکستان کے اندر پر آسائش اور محفوظ پر لطف ایوانوں میں بیٹھ کر پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں سے ستائے ہوئے نوجوانوں کو سب کچھ تہس نہس کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

ٹی وی پر پاکستانی جوانوں کے نام ان کی یہ تخریبی ہدایات پوری قوم نے سنی ہیں جن کے نتیجے میں تھانے جل رہے ہیں، اسلحہ لٹ رہا ہے اور پولیس کی جانیں خطرے میں ہیں، راستے بند ہیں، پٹرول نہیں ہے اور ملک دم بخود ہے کہ اس کے یوم آزادی کے قریب یہ کیا ہو رہا ہے۔ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ تو ہمیشہ جشن کے دن رہے ہیں۔ بڑوں سے زیادہ بچے اپنے ملک کی سالگرہ مناتے ہیں۔
خوبصورت کپڑے پہنتے ہیں اور چھوٹی بڑی پاکستانی جھنڈیوں اور پرچموں سے گھروں کو سجاتے ہیں۔

یہ دن بچوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ کون ہیں، ان کا ملک کون سا ہے اور وہ کس بڑے نظریاتی ملک کے شہری ہیں لیکن کچھ سیاست دانوں نے اپنی سیاسی کامیابی کے لیے ملک کا امن داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ سیاسی کامیابی بھی اگر کوئی زندہ سلامت دیکھنا چاہے تو قومی سلامتی کی اس کانفرنس کی صدارت کرنے والے کو دیکھ لے جس کے پاؤں کے نیچے ایوان لرز رہا ہے اور محکمہ موسمیات زلزلے کے مرکز اور اس کے اثر کو تاپ رہا ہے کہ وہ کتنی شدت کا ہے۔

حکومت جمہوری ہو یا کسی دوسری قسم کی، اس کی طاقت فوج اور افسر شاہی نہیں عوام ہیں جن کی تائید کسی حکمران کو تخت پر قائم رکھتی ہے۔ اگر عوام ساتھ نہ ہوں تو پھر کوئی بھی اندرونی یا بیرونی طاقت حکمران کو سلامت نہیں رکھ سکتی۔ ایک میجر راولپنڈی سے چلتا ہے اور پاؤں کی ٹھوکر سے ایوان اقتدار کا دروازہ کھولتا ہے اور پھر دنیا کے بدل جانے کی اطلاع دیتا ہے۔

موجودہ حکومت صرف پاؤں کی کسی ہلکی سی ٹھوکر ہی برداشت کر سکتی ہے کیونکہ اس ملک کے عوام جنھوں نے بھاری اکثریت سے انھیں منتخب کیا اور تخت پر بٹھایا بعد میں اپنے اس فیصلے سے اس قدر مایوس ہوئے کہ حکمرانوں کا نام تک سننے پر تیار نہ ہوئے اور ایک دوسرے سے شیر کو ووٹ دینے کی معذرت کرنے لگے۔ عوام کی یہ بیزاری تو کسی فوجی حکومت میں بھی سامنے نہیں آئی جب کہ ایسی حکومت میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لیکن اس وقت قوم بہت خوش ہے کہ اس کانفرنس کے ہوتے فی الحال لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی اور ٹی وی وغیرہ چل رہے ہیں اور زندگی کسی حد تک معمول کے مطابق رواں ہے لیکن ٹی وی پر وہ چہرے دکھائی دے رہے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا یہ سالگرہ کا دن بدامنی کا دن بن گیا ہے اور ہم حالات سے ڈر رہے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ پوری قوم اپنے مجاہدوں کی محبت میں اپنی سرشاری قائم رکھے ان کے لیے دعائیں کرے اور ان کے کارناموں پر فخر کرے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جہاد کا موقع نصیب ہوا ہے اس سے پہلے ہم دوسروں کے حملوں کا جواب دیتے رہے اور اپنے آپ کو بچاتے رہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے اپنی حفاظت کے لیے تلوار اٹھائی ہے اور ہمارے جوان میدان جنگ میں ثواب کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

یہ ایک ایسی عجیب جنگ ہے کہ اگر اس میں جان سے چلے بھی جائیں تب بھی جان سے محروم نہیں ہوتے۔ ہماری طرح کھاتے پیتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اس خدائے ذوالجلال والاکرام کا فیصلہ ہے جس کے ہاتھ میں ہماری زندگی اور موت ہے۔ اس نے میدان جہاد کے مجاہدوں کا فیصلہ پہلے سے ہی سنا دیا ہے لیکن اس فیصلے پر کسی سیاسی ہنگامے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کو یہ یاد رہے کہ ہم بھارتی تخریب کاروں کے خلاف جانیں دے رہے ہیں، امریکا ان کی پشت پر ہے اور ہمارے حکمران خاموش ہیں۔

ان کی خاموشی میں ہم فریاد کر رہے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ دوستی نہیں دشمنی کریں۔ ہم دشمنوں کے ساتھ دوستی نہیں دشمنی سے خوش ہوتے ہیں۔ مرحوم مجید نظامی نے بتایا کہ ایک بار ان کے دوست میاں صاحب اور ان کے بڑے صاحبزادے میاں نواز شریف ان سے ملنے آئے اور درخواست کی کہ وہ بھارت کی دوستی کے خلاف اپنی مہم ذرا کم کریں۔ وہ بھارت جا کر وہاں ان سے کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔

نظامی صاحب نے کہا کہ وہ تو ایسا ہرگز نہیں کر سکتے لیکن بھارت سے دوستی ہمارے کسی سیاست دان کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اسے ووٹ نہیں ملیں گے۔ نظامی صاحب چلے گئے لیکن میاں صاحب بھارت کے ساتھ کاروباری دوستی پر بدستور مصر ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم سرکاری دورے پر بھارت گئے تو وہاں وہ فولاد کی صنعت کے ایک بڑے سے ملے اور اس کے ساتھ ملاقات کے لیے برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹے کو بھی بھارت بلا لیا اور اس کے ساتھ اس بھارتی سے ملاقات بھی کی۔ لگتا یوں ہے کہ ہمارے حکمران سیاست سے زیادہ کاروبار میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اس میں اس قدر گم ہیں کہ انھیں پاکستان کے بھاری مینڈیٹ کی بھی پروا نہیں ہے۔

میں آج ایک طرف جہاد اور دوسری طرف فساد اور ہنگاموں پر ہی لکھنا چاہتا تھا لیکن یہ فساد جاری ہے اور ابھی 14 اگست کو چند دن ہیں جب ہمارے لیڈروں نے اپنا اپنا کوئی حتمی اعلان کرنا ہے۔ آیئے ہم سب مل کر انتظار کرتے ہیں کہ ملک کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ ایک تو ہم نے نو دن تک چھٹیاں کیں اب ہم ان مظاہروں کی چھٹیاں کر رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.