.

اوباما کی واپسی کا خیر مقدم

فیصل جے عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے چند دنوں کے دوران مکمل طور پر ایک نیا باراک اوباما سامنے ابھر کر آیا ہے۔ یقیناً اگر کسی نے اوباما کا تھامس فرائیڈمین کو دیا گیا انٹرویو پڑھا ہے، یا کسی نے عراق میں داعش کے جنگجووں کے خلاف امریکا کی جاری اہدافی کارروائیوں کے بارے میں بیان سنا ہے تو اسے یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ وہ پوچھے کہ آیا یہ وہی امریکی صدر ہیں جو اتنا عرصہ لاتعلق بیٹھے رہے۔ اس سے قطع نظر کہ اوباما کے لہجے میں یہ تبدیلی مشیران کی تبدیلی کی وجہ سے ہے یا مذکورہ مسائل کی ضرورت سے زیادہ سمجھ اور تفہیم اس کا سبب بن گئی ہے۔

بہرحال امریکی اقدام کے لیے اس نئی خواہش اور ارادے کو خوش آمدید کہا گیا ہے اس کے باوجود کہ یہ تاخیر سے کیا گیا ہے۔ تاہم اوباما کے سب سے بڑَے ناقد سینیٹر جان مکین یہ سوچنے کے لیے ممکن ہے حق بجانب ہوں کہ امریکا کی محدود اہدافی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی اور ان کارروائیوں کا دائرہ داعش کے زیر قبضہ شامی علاقوں تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔ لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے کہ اوباما کی طرف سے سامنے آنے والی حالیہ تبدیلی اہم پیش رفت ہے۔

انتہا پسندی سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے

دو سال کے دوران ہم نے سنا اور دیکھا ہے کہ مشیران اور ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکا کا بہترین مفاد اسی میں ہے کہ داعش ایسے سنی انتہا پسند گروپ موجود رہیں۔ تاکہ یہ ایران کے منظم کردہ شیعہ عسکریت پسندوں کے ساتھ نبر آزما رہیں۔ اس لڑائی کے دو فائدے یہ ہوں گے کہ شیعہ سنی انتہا پسند باہم دست و گریبان ہو کر مصروف رہیں گے، جس سے مغرب محفوظ ہو گا اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے لڑتے لڑتے کمزور ہو جائیں گے۔ تاہم حالیہ واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ مکمل طور پر غلط ہے۔ جہاں انتہا پسند گروپ سخت مشکلات کا شکار ہیں جیسا کہ اسامہ بن لادن کے قتل کا واقعہ عسکریت پسندوں کے لیے بڑا دھچکا تھا لیکن اس واقعے کے بعد انتہا پسندی کو پہلے سے بھی زیادہ مقبولیت ملی۔

بلاشبہ ہم ایک صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں کہ داعش کے شروع میں چند سو عسکریت پسند تھے، اب یہ ہزاروں میں ہیں۔ ان میں کئی ایسے بھی ہیں جو امریکا اور یورپی ملکوں کے شہری ہیں، اب داعش قبضہ میں لی گئی زمین سے امریکا کے لیے براہ راست خطرے کا سبب ہے۔ صدر اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا ہے کہ داعش کی چند ماہ کے دوران ہونے والی پیش قدمی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس اور ماہرین کے تجزیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اوباما کا یہ اعتراف اس امر کا متقاضی ہے کہ مشرق وسطی کے بارے میں بہتر معلومات کی بنیاد پر پالیسی بنائی جائے۔

یہ پہلو بھی اوباما نے اجاگر کیا ہے کہ عراق کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سب گروپوں کو ملا کر بنائی جائے۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ امریکا نے نوری المالکی کی حکومت کی حمایت بالآخر ختم کر دی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکا نے نوری المالکی کے دور حکومت میں ان کی مسلسل کرتوتوں پر چپ کیوں سادھے رکھی۔ وہ ایرانی ایجنڈے پر ملک کو کمزور کرتا رہا اور سنی عوام کو امتیازی کارروائیوں کا نشانہ بناتا رہا۔ صدر اوباما کے اس موقف میں مکمل طور پر جان ہے کہ سب گروہوں کو شریک کر کے داعش کے خلاف لڑنا آسان ہو گا۔ پوری عراقی عوام کو داعش کے خلاف متحرک کیا جا سکے گا اور اتحادیوں اور دوستوں کی حمایت بھی حاصل ہو سکے گی۔

کردوں کی تعریف

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اوباما نے اپنے نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کردوں کی تعریف کی ہے۔ بلاشبیہ کردوں نے اس وقت کو استعمال کیا ہے جو انہیں امریکی فوجیوں کی قربانیوں سے میسر آیا تھا، اس وجہ سے کرد علاقہ نوری المالکی کے پورے دور حکومت میں حقیقی طور پر فعال رہا ہے۔ اوباما کی کردوں کے لیے یہ تعریف ان معنی کا اظہار ہے کہ داعش کے خلاف کردوں کی امریکا کو حمایت مل سکے گی۔ امریکی انتظامیہ کو یہ بھی سمجھنا چاہیے امریکا کے عراق سے جانے کے بعد کردوں، مسیحیوں، یزیدیوں اور سنیوں کو حالات کے رحم و کرم پر رہنا پڑا، اگرچہ کہ یہ سب آپس میں ایک جیسے انتہا پسندانہ خیالات نہیں رکھتے تھے۔ جیسا کہ شیعہ لوگ داعش کے حوالے سے بربریت کی بات کرتے ہیں۔ اوباما کو یہ سمجھنا ہو گا کہ داعش عراق اور شام دونوں ملکوں میں ایک ہی ہے۔ اس لیے ایک جگہ اس کے خلاف کارروائی کرنا اور دوسری جگہ نہ کرنا غلط ہو گا۔

اپنے انٹرویو میں اوباما نے کلی طور پر شام کے حوالے سے غلط تصور پیش کیا ہے کہ یہ محض ایک خواب جیسا خیال ہے کہ شامی باغیوں کو اسلحہ دیا جائتو اس سے فرق پیدا ہو گا کیونکہ باغی ایک ایسی ریاست کے خلاف لڑ رہے ہیں جسے روس کلی طور پر مدد دے رہا ہے۔ اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو یہ کہنا جائز ہو گا کہ امریکا نے پر امن مظاہرین کو مدد دینے کے لیے جس قدر جلد لیبیا میں مداخلت کی تھی اس کے مقابلے میں شامی رجیم شہریوں کو ذبح کر رہی ہے، اب تک شام میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، بیس لاکھ سے زائد شامی عوام پناہ گزینی اور ہجرت پر مجبور ہو چکےہیں۔ ان حالات میں شام شیعہ اور سنی دونوں طبقوں کے لیے ذرخیز زمین بن چکا ہے۔

اس تناظر میں امریکا، شام کے حمایتی ایران پر دباو ڈال سکتا تھا بجائے اس کے کہ وہ راتوں رات ایران کا دوست بن گیا۔ جبکہ شام کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا تھا اور ایرانی ہم خیال حزب اللہ اس کے ساتھ شامیوں کو قتل کر رہی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ اب امریکا خطے کو چھوڑ کر جانے سے جس خلاء کے پیدا کرنے کا ذریعہ بنا اب اسے اس خلاء کا احساس ہو چکا ہے۔ اس لیے امریکی صدر خطے میں اپنے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر علاقے کے امن کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔ اوباما کو اس واپسی پر خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.