.

چودہ اگست کی خوشیوں پر ڈاکہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حسن بن صباح، ہٹلر اور امام خمینی۔ یہ تین ہیرو ہیں ڈاکٹر طاہر القادری کے۔
یہ انکشاف ان کے سابق وائس چیئر مین اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے ایک میڈیا گروپ کے سامنے کیا ،یہ سن کر ہم سب چونک گئے، ہم پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو۔

انکشافات ا ور بھی ہیں مگر پہلے کچھ زیادہ کرنٹ باتیں۔ جن سے دل دکھی ہو کر رہ گیا ہے۔
یوم آزادی کو دھوم دھام سے منانے کا آغاز جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء میں ہوا، آمرانہ حکومتوں کو پاپولر اقدامات سے عشق ہوتا ہے، لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے۔

ایک یوم آزادی اب سر پہ کھڑا ہے ، جس کی ساری دنیا میں دھوم مچ چکی ہے۔ پاکستان تماشہ بن گیا ہے۔ ایک بھوت لوگوں کے ذہن سے اترا نہیں تھا کہ دوسرا بھوت تیار کھڑا ہے۔

ایک طرف انقلاب کا ڈنکا بج رہا ہے، دوسری طرف سونامی پھنکار رہا ہے، دونوں نے مل کر لوگوں سے ان کے چودہ اگست کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ ابھی یہ خوشیوں بھر ادن دور ہے مگر پورا ملک سخت محاصرے میں ہے، نہ کوئی سواری دستیاب ہے، نہ پٹرول ، نہ پانی، نہ بجلی، نہ موبائل فون، اندھیروں اور بھوک، پیاس کا راج ہے، شہروں کے شہر قید خانے بن گئے ہیں۔ سڑکیں، شاہراہیں، ہر راستے کو کنٹینروں سے جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔

یہ برکت ہے انقلاب اور سونامی کی۔ لوگ بد دعائیں دیتے ہیں جھولیاں اٹھا اٹھا کر ان دو لیڈروں کو، ایک دیسی، دوسرا پر دیسی ۔
یہ انقلاب کیا ہے۔ہفتے کے روز میری ملاقات علامہ احمد علی قصوری سے ہوئی، وہ قادری صاحب کے ساتھی رہے، یونیورسٹی کے دنوں سے، یہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ علامہ صاحب کہتے ہیں کہ انہی دنوں جب قادری صاحب ایل ایل بی کر رہے تھے تو ان کے ذہن میں مستقبل کا ایک نقشہ تھا ، ایک خواب رچا بسا تھا۔ اس کے لئے پانچ مرحلے درکار تھے اور آخری مرحلے پر انقلاب کا بگل بجانا تھا۔ جو انہوں نے اب بجا دیا، مگر یہ کامیاب نہیں ہو پائے گا اور اس کی وجوہ پر قادری صاحب نے کبھی غور نہیں کیا تھا۔

علامہ صاحب نے اپنے سابق لیڈر کی صرف برائیاں نہیں گنوائیں، ان کی ساری صفات پربھی روشنی ڈالی، کہتے ہیں کہ وہ بلا کے ذہین ہیں، ان کی یادداشت لا جواب ہے، وہ اپنے خطاب سے سامعین کو مسحور کر دیتے ہیں، میں بھی اس زمانے میں کہا کرتا تھا کہ کاش! میری عمر انہیں لگ جائے۔

ان کی محبوب تریں ہستیوں میں تین نام نمایاں ہیں ایک حسن بن صباح جس کے ایک اشارے پر اس کے فدائی پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دیا کرتے تھے۔ دوسرا ہٹلر جس نے ایک دنیا تسخیر کرنے کی ٹھانی اور اپنے مقاصد کے لئے قتل عام کیا، تیسرے امام خمینی جو کامیاب انقلاب برپا کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔

مگر قادری صاحب میں جہاں ایک سے ایک بڑھ کر خوبی ہے، وہیں ایک خامی بھی ہے کہ وہ ایک اچھے انسان نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کسی ساتھی کا مستقل نباہ نہیں ہو سکا، ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے ایک سے ایک بڑھ کر جوہر قابل آیا مگر دو چار گام چلنے کے بعد ان کے رستے الگ ہو گئے۔

یہ تجزیہ ہے علامہ احمد علی قصوری کا جو پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سینیئر وائس چیئر مین کے مناصب جلیلہ پر فائز رہے۔اور برسوں تک انکے ساتھ رہے۔ اور یہ ذکر میں یہیں چھوڑتا ہوں، قارئین اس گفتگو کا مزید تجزیہ خود کرتے رہیں۔

لیکن اپنی طرف سے ایک اشارہ دیتا چلوں کہ کچھ ایسی ہی شخصیت عمران خان کی بھی ہے، مگر چھوڑیں اس قصے کو ، وہ جانیں یاان کے ساتھی جانیں ۔کرکٹ کا کھلاڑی سیاست کا اناڑی ہے۔ اور اس کا بھرپور مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

مجھے تو یہ دکھ رہ رہ کر ستا رہا ہے کہ سال میں ایک دن آتا ہے جب پوری قوم اپنے ملک کا یوم آزادی مناتی ہے۔خوشیوں سے دیوانہ ہو ہو جاتی ہے، موٹر سائیکلوں پر نوجوان ہلا گلا کرتے ہیں اورکوئی ان کو کوستا نہیں، سبھی ان کو داد دیتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں۔

یہاں پھر مجھے علامہ احمد علی قصوری یاد آئے، انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کا قیام رمضان المبارک میں عمل میں آیا، شب قدر کو اس کی آزادی کا اعلان ہوا، یہی مہینہ اور یہی برکتوں اور رحمتوں والی رات وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا ، گویا خدا نے اس گھڑی کو اس ملک کے قیام کے لئے خود چنا ۔ یہ مبارک گھڑی روح کو سرشار کر دیتی ہے۔ اور پچھلے ستاسٹھ برس سے ہم اس گھڑی میں مست الست ہو جاتے ہیں۔ مگر اس سال ہماری ساری مستی ہوا ہو گئی۔

ایک طرف قادری، دوسری طرف عمران، دونوں کا ایجنڈہ نامعلوم اور پر اسرار۔

اور تیسری طرف پاکستان کے بیس کروڑ عوام ہیںجن کے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم ہے، وہ سرخوشی اور سر مستی میں باہر سڑکوں پر نکلنا چاہتے ہیں ، ناچنا چاہتے ہیں مگر سبھی راستے بند، کیوں، اس لئے کہ قادری ا ور عمران خان ایک انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ ا س انقلاب پر مطمئن نہیں جو ستاسٹھ برس قبل قائداعظم نے برپا کیا تھا، خون کا ایک قطرہ تک بہائے بغیر، پر امن سیاسی تحریک اور جدوجہد کے ذریعے نیا ملک قائم ہوا، ایک دنیا ششدر رہ گئی، آج عمران ا ور قادری نے بھی دنیا کو ششدر کر کے رکھ دیا ہے کہ کس طرح قائد اعظم کے پاکستان کو شل کر کے رکھ دینا ہے۔ جکڑ کے رکھ دینا ہے۔

آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ جس کے لئے افواج پاکستان جانیں نچھاور کر رہی ہیں۔ دوسرا مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ جس کے لئے حکومت اپنی سی کوششوںمیںمصروف ہے۔اور نوجوانوں کے لئے روز گار، بیماروں کے لئے علاج کی سہولت مگر ان میں سے کوئی ایک مسئلہ بھی قادری اور عمران کے ہونٹوں پر نہیں آیا۔
انا کے مارے ہوئے یہ دو شخص انقلاب اور سونامی کے لئے کوئی اور تاریخ رکھ لیتے۔ میرے یوم آزادی کی رنگ و نور سے نہائی ہوئی قوس قزح پر سیاہیاں تو نہ پھیرتے۔

یہ میرے ملک کا یوم آزادی ہے یا خدا نخواستہ اس دن کو یوم سقوط پاکستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
میں نے اس حکومت پر جی بھر کے تنقید کی ہے، پھر کروں گا جب اس نے کوئی بھی غلط روش اختیار کی مگر یہی حکومت اب درد دل کا اظہار کر رہی ہے، اس نے پوری سیاسی قومی قیادت کو یک جا کیا ہے اور ملک کے سنگین تریں مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف پوری پارلیمنٹ اور قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین، دوسری طرف ایک شیخ رشید ، ایک شجاعت حسین ، ایک پرویز الہی، ایک قادری اور ایک عمران ، سبھی زیرو مل کر بھی زیرو بنتے ہیں۔ مانگے ،تانگے کی سواریاں۔

یہ صرف میرے اور آپ کے چودہ اگست کی خوشیوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔مگر آیئے، ہم گھروںمیںنہ بیٹھیں، سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں تھامیں اور ان کے انقلاب اور سونامی مارچ کے سامنے دیوار بن جائیں۔ اس مصنوعی انقلاب کو رد کر دیں، مسترد کردیں ، پاﺅں کی ٹھوکر سے ، جوتی کی نوک سے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.