.

غزہ کے مظلوم فلسطینی تنہا نہیں

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے پوری دنیا بالخصوص اسلامی ممالک میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا ہو گئی ہے جس کے خلاف نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے لوگ بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں نہ آیا ہو اور وہاں کے شہریوں نے اسرائیل سے اپنی نفرت کا اظہار اور غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت نہ کی ہو۔

اس حوالے سے پاکستان سمیت الجیریا، صومالیہ، نائیجریا، نیویارک، واشنگٹن، پیرس، لندن، برسلز، برلن، ٹوکیو، چین اور دوسرے ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ اسی سلسلے کا ایک بڑا مظاہرہ گزشتہ دنوں لندن میں دیکھنے میں آیا جہاں ہزاروں برطانوی باشندے اسرائیل مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے جن پر تحریر تھا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کو سپورٹ کررہی ہے اور سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد بھی برطانیہ نے ابھی تک اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہیں کی جبکہ برطانوی وزیر برائے مذہبی و سماجی امور بیرونس سعیدہ وارثی کے استعفے کے بعد برطانوی حکومت مزید دبائو میں آگئی ہے۔ سعیدہ وارثی نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو لکھے گئے اپنے خط میں تحریر کیا کہ ’’اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کرنا برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں اور وہ برطانوی حکومت کی غزہ کے حوالے سے پالیسی کا مزید دفاع نہیں کرسکتیں، اس لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہورہی ہیں۔‘‘ واضح ہو کہ سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر تھیں جو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد سے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی پالیسی پر کھل کر اپنے اختلافات کا اظہار کر رہی تھیں۔

غزہ کی بدترین صورتحال کا اندازہ اس خط سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو ناروے کی ایمرجنسی میڈیسن کے صدر ڈاکٹر میڈر گلبرٹ نے امریکی صدر اوباما کو تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر گلبرٹ حال ہی میں غزہ کے الشفا اسپتال میں کچھ وقت گزارکر ناروے واپس لوٹے ہیں۔ اپنے خط میں انہوں نے امریکی صدر کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ’’مسٹر اوباما! اگر آپ باپ ہونے کے ناطے اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتے ہیں تو میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ صرف ایک رات غزہ میں گزاریں، مجھے یقین ہے کہ اس سے تاریخ تبدیل ہوجائے گی۔‘‘ خط میں مزید تحریر ہے۔ ’’غزہ کے اسپتالوں میں مجھے جگہ جگہ لاشیں نظر آئیں جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی تھی جنہیں دیکھ کر کوئی بھی صاحب اولاد شخص اسرائیلی جارحیت کی مذمت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غزہ کے ان اسپتالوں میں انسان اپنے آپ کو انتہائی بے بس محسوس کرتا ہے جہاں جگہ جگہ انسانی گوشت کے ٹکڑے پھیلے تھے، ہسپتال زخمیوں سے بھرے تھے اور مزید زخمیوں کے لئے جگہ دستیاب نہیں تھی۔‘‘

واضح ہو کہ 8 جولائی 2014ء سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1960 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد شہریوں اور معصوم بچوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے غزہ میں شہری ہلاکتوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پرزور دیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی طرف سے اسپتالوں اور اسکولوں پر جان بوجھ کر حملے کئے جارہے ہیں جن کی تفتیش ہونا چاہئے۔ حماس اور اسرائیل کے مابین مصالحت کا کردار ادا کرنے والے ملک مصر نے دونوں فریقین سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر دوبارہ آجائیں مگر حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل، غزہ کے 7سالہ محاصرے کو ختم کرے جسے اسرائیل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں جبکہ حماس نے غزہ کو اسلحے سے پاک کرنے کے اسرائیلی مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

غزہ کی موجودہ صورتحال کو انسانی المیہ اور اسرائیلی حملوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا جارہا ہے جو اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب تک جاری ہیں۔ ان حملوں کے باعث 5 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر اور 16 ہزار سے زائد گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ غزہ کی موجودہ افسوسناک صورتحال میں او آئی سی اور عرب لیگ کی خاموشی معنی خیز ہے جو سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کے باوجود خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے اور اپنا فعال کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ او آئی سی جو اسلامی ممالک کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف اسلامی ممالک کا اجلاس طلب کرتی اور اسرائیل کو غزہ میں مزید جارحیت سے روکتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ او آئی سی کے سرگرم عرب ممالک کے حکمراں جنہیں امت مسلمہ کے لئے مثالی کردار ادا کرنا چاہئے تھا، امریکہ کے دبائو پر مکمل خاموشی اختیار کئے بیٹھے ہیں جس سے اسرائیل کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے جبکہ پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک بھی غزہ کی موجودہ صورتحال میں اپنا وہ کردار ادا نہیں کررہے جو انہیں ادا کرنا چاہئے تھا تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ان ممالک کے شہری اسرائیلی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

غزہ کے نہتے شہریوں سے اظہار یکجہتی اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کا انوکھا طریقہ مجھے حالیہ دورہ مراکش کے موقع پر دیکھنے کو ملا۔ مراکش میں میرے آفس میں کام کرنے والے اسٹاف نے بتایا کہ مراکشی باشندے غزہ کے اُن متاثرہ فلسطینی خاندانوں جن سے اُن کی واقفیت بھی نہیں ہوتی، کو روزانہ فون کرکے اظہار یکجہتی کرتے ہیں تاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس نہ کریں۔ اس موقع پر میری سیکریٹری جس کے پاس غزہ کے کچھ متاثرہ فلسطینی خاندانوں کے ٹیلیفون نمبرز تھے جنہیں وہ اکثر فون کرکے خیریت دریافت کرتی تھی، نے کچھ ایسے متاثرہ فلسطینی خاندانوں سے میری بات کروائی جن کے پیارے اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے تھے۔ میں نے جب اُنہیں بتایا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے اور تمام پاکستانی، فلسطینی بہن بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں تو یہ سن کر انہوں نے تمام پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُنہیں خوشی ہے کہ اُن کے دکھ درد میں پاکستانی بھی شریک ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے بعد سے غزہ کے متاثرین کی امداد کی آڑ میں پاکستان میں جگہ جگہ چندے اکٹھے کئے جارہے ہیں لیکن افسوس کہ ابھی تک حکومت پاکستان یا شہریوں کی جانب سے کوئی امداد غزہ کے متاثرین تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے اور اسرائیلی جارحیت کا شکار غزہ کے معصوم زخمی بچوں کو علاج کے لئے پاکستان لانے کے انتظامات کرے تاکہ مزید بچوں کی ہلاکتوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے بھی زخمی فلسطینی بچوں کے لئے کچھ اسی طرح کے انتظامات کئے ہیں۔ فلسطینی عوام ماضی کی طرح محض جنگ بندی نہیں چاہتے بلکہ اپنا حق مانگتے ہیں کیونکہ اب وہ غلاموں کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتے لہٰذا دنیا کو فلسطینیوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔ انسان خوشی اور غم کے مواقعوں پر دوسروں کی طرف سے خوشی اور غم بانٹنے کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اپنے فلسطینی بہن بھائیوں جو آج اپنے آپ کو تنہا سمجھ رہے ہیں، کے دکھ درد میں شریک ہوں تاکہ اُنہیں یہ احساس ہو کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ تنہا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.