.

فتویٰ اور انقلاب ؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

علامہ طاہر القادری نے دہشت گردی اور خودکش بم دھماکوں کے خلاف انگریزی زبان میں اپنے مشہور فتویٰ کا اختتام کرتے ہوئے صفحہ 413 پر یہ دعا بھی تحریر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس فتویٰ کو تمام انسانیت کی رہنمائی بہتر سمجھ، کنفیوزڈ انسانوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بنائے۔ جب علامہ صاحب نے اپنے اس فتوے کو کتابی شکل میں نیوریاک میں لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرنے کے بعد چند پاکستانیوں اور تقریب میں ڈیوٹی پر موجود 15سے زائد باوردی امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے افسران کو اپنے دست مبارک سے مجلد فتوے کی ایک ایک کاپی کا تحفہ دیا تو میں بھی ان تحفہ پانے والوں میں شامل تھا مگر اس وقت بھی میں تقریب کے ماحول، 300پاکستانیوں کے اجتماع سے اردو کی بجائے انگریزی میں خطاب کی وجہ اور ایک عام کینیڈین شہری کے خالص پاکستانی اجتماع میں باوردی امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے افسروں کی ڈیوٹی کے حوالے سے ’’کنفیوژن‘‘کا شکار تھا۔اگلے روز میری خبر اس تما م کنفیوژن کی نشاندہی کے ساتھ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے پر علامہ صاحب کے بعض معتقدین مجھ سے خاصے ناراض تھے مگر کسی کو حقائق کی تردید کی جرأت نہیں ہوئی۔

جب سے علامہ طاہر القادری نے پاکستان میں ’’انقلاب مارچ‘‘ اور حکومت کا تختہ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر الٹنے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ میں نے علامہ کے عطا کردہ انگریزی فتویٰ کے باب نمبر آٹھ تا دس یعنی صفحہ 173 تا 219 یعنی 46 صفحات کو بار بار پڑھا کیونکہ یہ تین باب مسلمان ملک اور اس کی حکومت کے خلاف بغاوت، حکومت کا تختہ الٹنے اور بغاوت کرنے والوں کے لئے سزا ’’اور‘‘ ایک کرپٹ حکومت کے خلاف جنگ کی قانونی حیثیت کے بارے میں قرآن و حدیث اور مختلف فقہا، حنفی، شافعی ، مالکی اور حنبلی مکاتب فکر کے اصولوں اور طریقوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کن انداز میں اپنا فتویٰ بھی لکھاہے۔فتوے کے ان 46صفحات کو بار بار پڑھنے کے باوجود اس بڑی واضح تحریر نے مجھ جیسے کم علم انسان کا تو ’’کنفیوژن‘‘ مزید بڑھا دیا ہے اور جب علامہ قادری کے فتوے اور ان کے ’’انقلاب مارچ‘‘ اور 10 اگست کے تاریخی خطاب، ہاتھ توڑ دینے، اسلام آباد سے انقلاب لائے بغیر زندہ واپس آنے والے ساتھیوں کو قتل کرنے کی ہدایت اور تشدد کو فروغ دینے کے ارشادات کو ان کے اپنے فتویٰ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ کنفیوژن علامہ کے قول اور فعل کا تضاد دکھائی دیتا ہے اور متعدد سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر علامہ طاہر القادری تشریح اور تفصیل کے ذریعے مجھ جیسے کم علم انسانوں اور عوام الناس کی رہنمائی فرمادیں تو مہربانی ہو گی۔

پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مفتیان بھی اپنا فرض منصبی و ملی ادا کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری کے اس انگریزی فتویٰ کا عالمانہ اور دیانتدارانہ جائزہ لے کر قوم کو اپنی رائے تجزئیے و تبصرے سے آگاہ فرما کر کنفیوژن کو دور کرنے میں مدد کریں۔ اس فتوے کے 413 صفحات پر پھیلے ہوئے دیگر موضوعات بھی غور و فکر کے متقاضی ہیں یہ کام مفتیان اور علماء ہی انجام دے سکتے ہیں۔ کسی مسلم ملک میں انقلاب، بغاوت،حکومت کا تختہ الٹنے اور بغاوت کرنے والوں کے لئے خود علامہ طاہر القادری کیا فتویٰ دیتے ہیں آیئے اس کا جائزہ خود ان کی اپنی تحریری رائے کی روشنی میں لیں۔ ان کے الفاظ، صفحہ نمبر اور دیگر تفصیلات بھی درج کردی گئی ہیں تاکہ تصدیق و تردید میں آسانی رہے۔ ان تمام صفحات کو پڑھنے کے بعد میں نے میرا حاصل مطالعہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ مسلمان حکمران خواہ وہ کرپٹ ہوں، ظالم اور ناانصاف ہوں پھر بھی ان کے خلاف بغاوت ممنوع ہے تاکہ خلل، قتل عام اور خون خرابہ نہ ہو۔ حکومت کو راہ راست پر لانے کیلئے پرامن طریقے ہیں۔ جب تک حکمران کھلے عام کفر کا اظہار نہ کریں مسلمان حکمرانوں کے خلاف مسلح بغاوت کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی گروپ نفاذ شریعت کے نام پر مسلم جدوجہد کا آغاز کرے تو ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام تر طاقت استعمال کر کے انہیں کچل دے۔

علامہ طاہر القادری حنفی مالکی، شافعی، حنبلی اور جعفریہ فقہ کے اصول و احکامات کے حوالے اور تشریحات کا جائزہ لینے کے بعد باب نمبر 11کے اختتام پر اپنی حتمی رائے کا اظہار صفحہ 237ر یوں تحریر کرتے ہیں ’’فقہ کے چاروں مکاتب کے حوالوں اور مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تمام اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان حکومت کے خلاف بغاوت کی اجازت نہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اتھارٹی اور دائرہ اختیار کا استعمال کریں اور مسلمان ملک کے شہری لازماً حکومت کی مکمل حمایت کرکے ایسی مسلح بغاوت کو کچلنے میں مدد کریں۔

صفحہ نمبر212 کرپٹ حکومت کو تبدیل کرنے کا قانونی اور آئینی طریقہ کے عنوان کے تحت علامہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں ’’اگر ایک اسلامی حکومت کے حکمران کرپٹ اور ناانصاف بھی ہوں تو ان کے خلاف بغاوت کرنا ممنوع ہے۔ بہرحال ایک ظالم اورکرپٹ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کو ناانصافیوں،کرپشن اور نارواپالیسیوں کا لائسنس حاصل ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو حکومت کی ناانصافیوں، شرانگیزا ور غیر قانونی اقدامات کی نہ صرف مذمت اور پریشر ڈال کر اپنے طریقوں میں تبدیلی اور اصلاح کی اجازت دیتا ہے بلکہ حکم دیتا ہے۔ اسلام تجویز کرتا ہے کہ اگر حکومت مشورہ نہیں سنتی اور اصلاح سے انکار کرتی ہے۔ بہرحال ایسی حکومت تبدیلی اور انتقال پر امن اور کسی تشدد، خون خرابہ اورقتل کے بغیر ہونا چاہئے۔کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جہاد کے درست معنی یہی ہیں۔ برائی کو روکنے اور سچائی اور انصاف کو فروغ دینے کے نام پر لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ علامہ قادری نے باغی اور بغاوت کی جو تعریف، اقسام اور باغیانہ عمل و افعال کے بارے میں مختلف حوالوں سے متعین فرمائی ہے وہ بھی قابل توجہ و بحث ہے۔

علامہ طاہر القادری کے انقلاب مارچ سے قبل کے اعلانات واقعات حکمت عملی اور کیل والے ڈنڈوں سے مسلح حامیوں کا پولیس حکام سے تصادم اور ایک حکومت کے خلاف اقدامات کا جائزہ لے کر قارئین خود طے فرمالیں کہ کیا پاکستان ایک مسلم مملکت اور حکمراں مسلمان نہیں؟ علامہ خود فرماتے ہیں کہ حکمراں کرپٹ ہوں، ظالم ہوں اور غلط پالیسیوں پر عمل کررہے ہوں تب بھی حکومت کے خلاف انقلاب یا بغاوت کی اجازت نہیں تو پھر یہ ساری تحریک انقلاب کیا ہے اور اس کے لئے علامہ نے اپنے فتویٰ میں ایسی بغاوت کرنے والوں کے لئے کیا سزا مقرر فرمائی ہے۔ کیا علامہ کے فتویٰ اور تحریک انقلاب میں تضاد نہیں؟ امید ہے کہ علامہ قادری اور پاکستان کے علمائے کرام علامہ کے فتویٰ اور انقلاب مارچ کے بارے میں میرا کنفیوژن دور کرنے میں رہنمائی کریں گے۔

مجھے کسی شخصیت یا حکمراں کی تبدیلی سے مطلب نہیں بلکہ قول و فعل کے تضاد اور عالمانہ فتویٰ کے بارے میں اپنی اور عوام کی رہنمائی زیادہ عزیز ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ علامہ صاحب نے اپنی 10اگست کی تقریر میں اسلام آباد سے انقلاب مکمل کئے بغیر واپس آنے والوں کو بھی شہید کرنے کی ہدایت کے بارے میں کنفیوژن کو دور کرنے کی جو کوشش فرمائی ہے وہ ریکارڈ ہے۔ وہ خود ٹیپ دیکھ کر خود یہ فیصلہ کریں کہ یہ کنفیوژن بھی انہوں نے خود پھیلایا جسے دوسرے روز وضاحت کے ساتھ دور کرنے کی کوشش میں میڈیا کو غلط رپورٹنگ اور کنفیوژن کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اگر علامہ قادری برا نہ منائیں تو عرض کروں کہ مشن مکمل کئے بغیر واپس آنے والوں کو شہید کرنے کے احکامات دیتے ہوئے علامہ صاحب نے ہنستے ہوئے اپنے قریب کھڑے ہوئے ایک لیڈر سے ہاتھ بھی ملایا تھا۔ شہادت ایک انتہائی قابل احترام عمل ہے۔ کسی عالم دین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اجتماع کے سامنے شہادت کا مزاحیہ ذکر فرمائیں۔ قتل ہونے سے قبل ہی اپنی موت کا کسی کو ذمہ دار قرار دے کر اسے واجب القتل قرار دینا اور کسی عدالتی فیصلے کے بغیر خود ہی فیصلے کردینا۔ ہاتھ توڑنے کا حکم بغیر کسی منصب و اختیار یہ کس اسلام کا حصہ ہے۔ قصاص بھی اسلامی عدالت کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ اسلام کسی شخص کو یہ آمرانہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ قبائلی نظام سے بھی بدتر انداز میں قتل انتقام اور تباہی کو فروغ دے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.