.

آج کیا ہوگا؟

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’14 اگست کو کیا ہو گا؟‘‘ والے سوال پر اپنا اور آپ کا وقت میں اس لیے ضایع نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میری ناقص رائے میں اس تاریخ کو تخت یا تختہ نہیں ہونا ہے۔ کھڑاک تو اس کے بعد ہونا ہے۔ کس کا؟ اس کے بارے میں فی الوقت میری رائے محفوظ ہے۔ ہماری حالیہ تاریخ میں احتجاجی تحریک کے ذریعے ایک حکومت ذوالفقار علی بھٹو والی 1977ء میں فارغ کروائی گئی تھی۔ اس تحریک کا آغاز 7مارچ 1977ء کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل 9 جماعتوں نے ان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

ان دنوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات قومی اسمبلی کے لیے پولنگ کے دو دن بعد ہوا کرتے تھے۔ اپوزیشن نے ان میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کے اس فیصلے کا اثر لاہور، فیصل آباد، پشاور، کراچی اور حیدر آباد جیسے بڑے شہروں میں بھرپور طریقے سے نظر آیا۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب نے جب قومی اسمبلی کا اجلاس بلوایا تو اپوزیشن کی طرف سے منتخب ہوئے اراکین اس میں شریک ہی نہ ہوئے۔ انھوں نے اس اسمبلی کے بائیکاٹ کے بعد احتجاجی تحریک شروع کر دی۔

بھٹو حکومت نے پولیس کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے جلسوں اور جلوسوں پر کچھ دنوں کے لیے قابو پالیا تو پہیہ جام تحریک شروع کر دی گئی۔ اس تحریک کے نتیجے میں کراچی سے پشاور تک پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو گئی۔ پہیہ جام بھی حکومت کو گرا نہ پائے تو اپوزیشن اتحاد میں شامل ’’دینی جماعتوں‘‘ نے سڑکوں اور گلیوں کو دینی مدارس کے طلباء کے حوالے کر دیا۔ بجائے نئے انتخابات کروانے کے ملک میں ’’نظامِ مصطفیٰؐ کے نفاذ‘‘ والا جذباتی نعرہ بلند کردیا گیا۔

اس جذباتی نعرے کی بدولت کئی نوجوان اپنے گریبان پھاڑ کر پولیس سے گولی کھاکر ’’شہادت‘‘ پانے کے تقاضے کرتے رہے۔ پولیس مکمل طورپر ناکام ہو گئی تو لاہور، حیدر آباد اور کراچی میں ’’منی مارشل لاء‘‘ لگا دیے گئے۔ وہ حربہ بھی کامیاب نہ ہوا تو سعودی سفیر کے ذریعے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کیا گیا۔ اصغر خان اور بیگم نسیم ولی خان ان مذاکرات کے کھلم کھلا مخالف رہے اور بالآخر بقول مولانا کوثر نیازی مرحوم ’’لائن کٹ گئی‘‘۔

1977 ء کی تاریخ دہراتے ہوئے یاد آپ کو بس اتنا دلانا ہے کہ احتجاجی تحریک کو پورے ملک میں پورے 5 ماہ تک زندہ رکھتے ہوئے جنرل ضیاء کے مارشل لاء کی راہ بنائی گئی تھی۔ 14 اگست کو منزل تو فی الوقت صرف اسلام آباد آکر دھرنا دینا ہے۔ اس حوالے سے لاہور اور پشاور سے آنے والے راستوں پر بڑی ہلچل نظر آئے گی۔ مگر باقی شہروں میں زندگی کے معمولات کسی نہ کسی صورت برقرار نظر آئیں گے۔ نواز شریف کا استعفیٰ لینے کے لیے ان شہروں میں بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کسی احتجاجی تحریک کی بدولت گھر نہیں بھیجی گئی تھی۔ اس وقت کے صدر کے پاس قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار تھا۔ اس نے حکومت کو فارغ کیا۔ سپریم کورٹ نے اس فراغت کو جائز ٹھہرایا۔ قائم مقام حکومت نے 90 دنوں میں انتخابات کروادیے۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار اس ملک کے وزیر اعظم بنے۔

انھیں بھی غلام اسحاق خان نے 6 اگست 1990ء کے دن گھر بھیج دیا مگر جسٹس نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ نے اس کی تصدیق نہ کی۔ اسمبلی بحال ہوگئی۔ مگر گورنر پنجاب اپنی صوبائی اسمبلی کو بحال نہ کرنے کے معاملے پر ڈٹ گئے۔ فوج کی مداخلت ’’مجبوری‘‘ نظر آنے لگی۔ اسی لیے ’’کاکڑ فارمولا‘‘ ہوا۔ نواز شریف نے استعفیٰ ضرور دیا مگر اس کے بدلے غلام اسحاق خان سے بھی نجات پائی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت بھی کسی احتجاجی تحریک کی وجہ سے گھر نہیں گئی تھی۔ اسے پیپلز پارٹی کے بنائے صدر ’’فاروق بھائی‘‘ نے فارغ کیا تھا اور جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ نے اس اقدام کو آئینی اور قانونی طور پر درست ٹھہرایا۔ اس کے بعد جو انتخابات ہوئے ان کی بدولت میاں صاحب دو تہائی اکثریت والے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ ایک بار پھر اس ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔

انھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی صدر سے اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لے لیا۔ سجاد علی شاہ سے سپریم کورٹ بھی خالی کروایا اور بالآخر جہانگیر کرامت سے استعفیٰ بھی لے لیا۔ ان کی حکومت فارغ ہوئی تو بنیادی وجہ وہ اختلافات تھے جو کارگل کی وجہ سے ان کے اور جنرل مشرف کے درمیان پیدا ہوئے۔ ان اختلافات کی شدت سے تنگ آ کر نواز شریف نے نیا آرمی چیف لگانا چاہا تو جوابی Coup ہو گیا۔
14 اگست کو اسلام آباد پہنچ کر عمران خان اور ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے نواز شریف سے استعفیٰ لینا ہے۔ وہ دو تین لاکھ لوگوں کے ساتھ یہاں کئی دنوں تک بیٹھے بھی رہیں تو میاں صاحب استعفیٰ نہیں دیں گے۔ یہ استعفیٰ ’’کسی اور‘‘ کو لینا ہو گا۔ اس کام کی تکمیل کے لیے چند مزید دن درکار ہوں گے اور ان چند دنوں میں احتجاجی تحریک کے کچھ شاندار جلوے لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں بھی دکھانا ہوں گے۔ فرض کرلیتے ہیں یہ سب کچھ ہو بھی جائے تو استعفیٰ صرف نواز شریف دیں گے۔

دریں اثناء یہ بات اب واضح ہونا شروع ہو گئی ہے کہ اگر عمران خان اور قادری اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کو فارغ کروانے کے لیے بیٹھ گئے تو سندھ اور بلوچستان والے اپنی اپنی اسمبلیاں اور حکومتیں بچانے کے لیے میدانِ عمل میں آجائیں گے۔ ان کے میدانِ عمل میں آجانے کے بعد جو منظر بنے گا اس کی Dynamicsبالکل نئی ہو گی۔ وہ سامنے آئیں تو کوئی تجزیہ کرنے کی جرأت بھی کرے۔ اسی لیے تو میں اس بات پر بضد ہوں کہ ’’14 اگست کو کیا ہو گا‘‘ والے سوال کو اس کالم میں نظر انداز کرتا رہوں۔ وہ تاریخ گزر جائے تو تجزیے ہی تجزیے۔ ہاں اس دوران بڑی شدت سے میں خود کو اس قابل بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں کہ استاد محترم عبدالقادر حسن جیسی ’’غیر سیاسی باتیں‘‘ لکھ سکوں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.