.

جمہوریت کا تحفظ، مگر کیسے؟

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملکی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جمہوری سفر ہمیشہ رک رک کر چلا اور رکاوٹوں سے اٹا رہا ہے جبکہ جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کا عمل تواتر سے نہ صرف جاری رہا بلکہ ہمیشہ آسان اور سہل تر رہا ہے۔ اس حوالے سے جہاں طالع آزماوں کی طالع آزمائی کا گہرا دخل رہا ہے وہیں جمہوری اور آئینی لبادے میں جمہوریت بیزار رجحانات اور مزاج کے حامل رہنما بھی اہم سبب رہے ہیں۔ ایسے عناصر کا اس سارے کمزور جمہوری کلچر میں بھی حصہ رہا ہے جو آغوش آمریت میں اور شیر آمریت سے پل کر جواں ہوئے یا ان کی جمہوری تعلیم و تربیت میں آمرانہ درسگاہوں اور جمہوری اقدار و روایات کے منافی اسلوب کے حامل سیاسی اداروں اور تجربہ گاہوں کا کردار نمایاں رہا۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی قیادتوں کے لیے یہ سانچہ 1960 کی دہائی سے بھی پہلے ہی بروئے کار آ گیا تھا۔ ایسے میں جمہوریت کے بظاہر اپنوں کی بے اعتنائی کا انداز اور ذاتی کمائی کے لیے پرواز بھی جمہوریت کے لیے زہر قاتل بنے رہے۔

بڑے چاو سے منتخب سیاسی قیادتیں انتخابی منشور اور انتخابی وعدوں کو پس پشت ڈال دینے والی سیاسی جماعتیں جلد سے جلد عوام میں مقبولیت سے محروم ہوتی رہیں۔ اندرونی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی طالع آزما بھی پاکستان کی جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کے ذریعے اپنا الو سیدھا کرنے میں ناکامی کے باعث حکومتوں اور حکمرانوں کے ادل بدل کے لیے زیر زمین سازشوں سے لے کر فضاوں تک محیط گھناونے کھیل کھیلتی رہیں۔ اس پس منظر میں مسلم لیگ [ق] کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید کے حوالے سے حالیہ دنوں میں اس خدشے کہ ''پاکستان کی موجودہ بحرانی صورتحال میں عالمی طالع آزما سرگرم ہیں'' کے بارے میں سنا تو بیان کرنے والے دوست کا اس بارے میں استدلال یہ تھا کہ مشاہد حسین سید اسی وجہ چوہدری برادران کے ساتھ بھی کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ مشاہد حسین سید کے اس موقف کی ایک باخبر اور مشاہد حسین سید کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنے والے ایک سیاسی رہنما نے بھی اس امر کی تصدیق کی۔ لیکن انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے کو اصولی طور پر درست سمجھنے کی وجہ سے مشاہد حسین سید کے اس موقف کو اپنانے یا قبول کرنے میں ہچکچاہٹ رہی۔

تاہم تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی کے ملتان جا بیٹھنے اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے جناب مجیب شامی و برادرم حبیب اکرم کے ساتھ انٹرویو میں اس امر پر زور دینے کہ ''مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے'' کے کچھ ہی دیر بعد میاں شہباز شریف کے ہمراہ وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اچانک ملاقات نے صورت حال کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔

اگرچہ اس سے پہلے حکومت کے بعض اقدامات، قومی سلامتی کونسل کا غیر روایتی اجلاس، کورکمانڈرز میٹنگ کے بعد سامنے آنے والی تصاویر کے خدو خال کے علاوہ بیرون ملک بسنے والے سیاستدانوں کے لب و لہجے کے ساتھ ساتھ بحرانی ماحول میں بیچ بچاو کی کوششیں کرنے والے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کا اس پیرائے میں بولنا کہ حالات کو نہ سمجھا گیا تو ''ڈبل مارچ'' کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ گویا مشاہد حسین سید کی اطلاعات اور تجزیے سے ملی جلی باتیں محسوس ہوئیں۔

اس بحرانی تصویر کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور تحریک انصاف کے جاوید ہاشمی ہیرو کے طور پر محسوس ہوئے کہ سراج الحق نے حکومت کو درمیانی راستے پر قائل کیا اور جاوید ہاشمی نے عمران خان کو ''ٹیکنو کریٹس'' کی حکومت کے معاملے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کرکے بہت سارے خدشات اور خطرات کی پیشگی بنیادوں پر بیخ کنی کر دی۔ اب عمران خان کا مارچ بہرحال 'غیر آئینی' مطالبات سے پاک ہونے کا امکان پیدا ہو گیا۔ اسے کسی کی کامیاب اور کسی کی ناکامی قرار دینا ہم میڈیا سے متعلق افراد کے لیے بالعموم آسان بلکہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے لیکن یہ کامیابی اگر ہے تو آئین اور جمہوریت کی ہی نہیں ان سب کی کامیابی ہے جو حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے آئین و جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ ظاہر کرتے ہیں۔

البتہ یہ کامیابی حکومت کی کامیابی میں اسی صورت تبدیل ہو سکتی ہے کہ وہ جمہوریت کو پانچ سالہ عوامی مینڈیٹ کے اپنے روایتی ''نیریٹو'' کے بجائے جمہوریت کو ابھی کمسن سمجھتے ہوئے اس کی غلطیوں اور کمزوریوں کے انکار کے بجائے اس کے اعتراف کے ''نیریٹو'' کی طرف آئیں۔ جمہوری سفر کی ابتداء کو تسلیم کرنے کے علاوہ یہ تسلیم کرے کے جمہوریت ایک مینڈیٹ سے زیادہ ایک مسلسل خود احتسابی اور عوامی احتساب کے چلن کو مان لیا جائے تو دوسروں کو اعتراض اور شکایت کا کم سے کم موقع مل سکے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت کو عوام کے احتساب کے حق کے حوالے سے سمجھنے اور اپنانے سے بدکنے کا کلچر ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا پودا ابھی شجر سایہ دار اور تناور نہیں بنا اسے مکمل پھولدار ور پھلدار بنانے کے لیے اس کی مسلسل نگہداشت اور پرداخت کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہر اس فرد کو زیادہ ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ جس کا جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ کا دعوی زیادہ بڑا ہے۔ جمہوریت کی پرورش اور نگہداشت کے ساتھ ساتھ اسے عوام کے لیے مفید بنانے کی خاطر سیاسی اور جمہوری حوالے سے نئی صف بندی کی ضرورت ہو گی، نہ ماضی و حال کی روایت کے مطابق سیاسی اور گروہی مفادات کی بنیاد پر صف بندی کی۔

اسی طرح اداروں، سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنوں کو مضبوط کرنے کے لیے قائدین کو اپنے اختیارات کو جمہوری سانچوں میں ڈھالنا ہو گا۔ پھر جا کر سیاسی قیادت حقیقی معنوں میں طاقتور ہو گی اور عسکری قیادت کی آمرانہ دور میں گھڑی گئی اصطلاح نہ صرف خود بخود کمزور پڑے گی بلکہ عسکری ادارے حقیقی معنوں ملکی سلامتی کے مقاصد کے لیے اپنے وقت اور صلاحیتوں کو خالص کر سکیں گے۔ اس عزم اور ارادے کے نتیجے میں انقلاب کی بے معنی آواز بلند ہو سکے گی نہ شارٹ کٹ کے لیے سازش اور لانگ مارچ کے نعرے کے پنپنے کا موقع ہوگا۔ اس مقصد کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ جمہوری حکمرانوں کی ٹیم اشرافیہ کے رنگ ڈھنگ والی ہونے کے بجائے عوامی رابطے کی شناخت رکھنے والی ہو۔ اسی راستے حقیقی جمہوریت کا خواب جمہور کے حق میں شرمندہ تعبیر ہو گا۔

بصورت دیگر 14 اگست کے آزادی اور انقلاب مارچ ناکام بھی ہو گئے تو اسے جمہوریت کی حتمی کامیابی نہیں کہا جا سکے گا۔ انتخابی شفافیت اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے زیادہ حکومتی ذمہ داری ہے۔ یہ انب ماننے اور سمجھنے کی بات ہے کہ سیاست اور جمہوریت چالاکی، ہوشیاری یا روایتی سیاسی عیاری سے مضبوط نہیں ہوتی جمہوریت کے پودے کو سازگار جمہوری ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے مطالبات پرایک بڑے بڑے لیڈر کے طور پر میاں نواز شریف کو خود آگے آنا ہو گا۔ انہیں کمیشنوں اور کمیٹیوں کے روائتی معنی اور کردار بھی تبدیل کرنے کے لیے نئی نظیر قائم کرنا ہو گی۔ اسی صورت ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں حقیقی جمہوریت کے ساتھ جڑا ہوا نظر آ سکے گا۔

بلا شبہ یہ بڑا اور مشکل کام ہے۔ لیکن بڑے لیڈر کو بڑا کام ہی زیبا ہو سکتا ہے۔ ورنہ [خاکم بدہن] مشاہد حسین سید کی اطلاعات اور تجزیے کا دائرہ پاکستان سے پھیل کر ہمسائے ملک تک جا سکتا ہے۔ پھر نہ میاں شہباز شریف کی مشاورت کام آئے گی، نہ سراج الحق کی مصالحت اور نہ ہی جاوید ہاشمی کی [اب] ادھوری بغاوت کا رنگ جم سکے گا۔ جمہوریت کے تحفظ کےلیے حقیقی جمہوری سوچ اور رویہ کے ساتھ ایسی عوام دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کم سے کم مدت میں نتائج کی امید کو زندہ کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے ٹیم کی تبدیلی کو بھی انا کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، کہ وقت کم ہو رہا ہے اور چیلنج بڑھ رہا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.