.

ٹیکنوکریٹ حکومت تو فوج ہی بنائے گی

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جشن آزادی مبارک مگر نہیں معلوم کہ آج کا دن ہمیں کیا کچھ دکھلائے گا ۔ ماضی میں تو تمام تر اختلافات اور بحیثیت قوم ہماری خرابیوں اور نااہلیوں کے باوجود 14 اگست کو ہمیشہ خوشیوں کے ساتھ منایا جاتا رہا۔مگر اب کی بار پورے ملک میں ایک خوف طاری ہے کہ نجانے اس 14 اگست کو کیا ہونے والا ہے۔ کیا واقعی ہمیں ایک حقیقی آزادی ملنے والی ہے یا اقتدار کی جنگ میں پاکستان کوایک نیا زخم لگائے جانے کی سازش کھیلی جا رہی ہے۔اس دن نوجوان، مرد ، عورتیں، بچے پاکستان کے پرچم کے ساتھ اپنے گھروں سے باہر نکلتے تھے۔ پاکستان کی سڑکیں، بازار اور محلے سبز ہلالی پرچم سے لہلہا رہے ہوتے تھے۔ ٹی وی چینلز میں ملی نغمے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہوتے تھے مگر اس بار سڑکوں، بازاروں کو کنٹینرز لگا کر یا خندقیں کھود کر سنسان کر دیا گیا ہے۔ گھروں سے باہر نکلنا تو ویسے ہی دشوار ہے۔

اگر موقع مل بھی گیا تو خوف یہ طاری ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے دیوانے نجانے کیا گل کھلائیں گے۔ ڈاکٹر قادری تو مرنے مارنے پر تلے ہی ہیں اور اب تو عمران خان نے بھی باقاعدہ اپنے نوجوانوں کوکہہ دیا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو نواز شریف اور شہباز شریف سے بدلہ لیں۔ تحریک انصاف کا ماضی تشدد سے پاک رہا مگر ڈاکٹر قادری کے ساتھ مل کر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے فیصلے نے بہت سوں کو انجانے خوف میں مبتلا کر دیا۔ حکومت طاہر القادری اور اور اُن کی تحریک کے لوگوں کو تو روکے گی۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ کیا عمران خان کو آزادی مارچ کی اجازت ملے گی یا نہیں۔ بہرحال تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ خطرہ تو دہشتگردی کا بھی ہے۔

پہلے ہی ISAF اور کچھ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیاں یہ رپورٹ دے چکیں کہ کچھ دوسرے قومی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ عمران خان کی جان کو کچھ شدت پسند تنظیموں کی طرف سے بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان تمام خطرات کے ساتھ ساتھ عمران خان اور ڈاکٹر قادری نے اپنے اپنے انقلابوں کے لیے 14 اگست کو چنااور یوں جشن آزادی کے دن کو ہی متنازعہ بنا دیا۔ چلیں ڈاکٹر صاحب تو مہمان اداکار ہیں کسی بھی وقت واپس کینیڈا چلے جائیں گے۔ انہیں ویسے ہی پاکستان کی اکثریت سنجیدگی سے نہیں لیتی مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ عمران خان جو کچھ ایک عرصہ سے کر رہے ہیں وہ بہت مایوس کن ہے۔ خان صاحب کا پاکستانی سیاست میں ایک مقام ہے مگر انہوں نے قادری صاحب کے ساتھ ہاتھ ملا کر اور کئی لحاظ سے قادری صاحب ہی کا طرز عمل اپناکر بہت سےچاہنے والوں کو مایوس کیا۔ ان کی باتیں سن کر سمجھ میںنہیں آتا کہ بندہ ہنسے یا روئے۔قادری صاحب یو ٹرن کے بادشاہ ہیں۔ ایک بات کر کے دوسرے دن مکر جاتے ہیں۔ جو دل میں آئے کسی پر بھی کوئی بھی الزام لگا کر فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے پیروکاروں کو دوسروں کو قتل کرنے کا سرعام حکم دیتے ہیں۔ عمران خان بھی الزام پر الزام لگائے جا رہے ہیں۔

کسی دوسرے کی سننے کے لیے تیار نہیں۔ خود ہی الزام لگا کر خود ہی فیصلہ صادر کر کے سزا بھی تجویز کر دیتے ہیں۔ کسی کو غدار اور کسی کو کرپٹ کہنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اگر کوئی اُن سے اختلاف کرے تو امریکا کی طرح with us or against us والی پالیسی اپنا لیتے ہیں۔ قادری صاحب کی طرح اب عمران خان نے تحریک کےنوجوانوں کو کہہ دیا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو نواز شریف کو نہ چھوڑا جائے۔ جن کی کل عزت کرتے تھے، ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے تھے انہی کو آج بلا کسی ثبوت خوب کوس رہے ہیں اور ایسے ایسے الزامات لگا رہے ہیں کہ سننے والا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر خان صاحب کو ہو کیا گیا ہے۔ اتنی بے چینی کیوں۔ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد کا اصل مقصد الیکشن نظام میں اصلاحات ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن کے تمام مطالبات آئین و قانون کے تحت ہیں۔ مگر اُسی سانس میں حکومت کو فارغ کرنے اور ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصلاحات اور باقی ضروری کام یہ ٹیکنوکریٹ کی حکومت ہی کرے۔

آئینی اور قانونی طور پر تو یہ ممکن نہیں۔ ہاں فوج کی مداخلت سے سب ممکن ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے آئین و قانون کے ساتھ ساتھ آزاد عدلیہ کی بھی چھٹی کروانی پڑے گی۔ اگر پارلیمنٹ نہیں ہو گی تو سوائے مارشل لاء کے کس طرح موجودہ الیکشن کمیشن کو ہٹایا جا سکتا ہے، کس طرح آئین میں ترمیم کی جا سکتی ہے، کیسے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی منشاء و مرضی کے بغیر ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے متعلق جو کچھخان صاحب کہہ رہے ہیں وہی مطالبہ جنرل مشرف کا رہا ۔ خان صاحب ایک ایسے کھیل میں شریک ہو چکے جس میں ان کا اپنا نقصان تو ہے ہی پورے نظام اور پاکستان کو شدید دھچکا لگنے کا خطرہ ہے۔ اب ظلم کی بات یہ ہے کہ اس خطرناک کھیل کے لیے 14 اگست کا دن چنا گیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.