اس سانحے سے بچو

اوریا مقبول جان
اوریا مقبول جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ریاستی طاقت کا متعصبانہ استعمال کس قدر افسوسناک ہوتا ہے، اس کا اندازہ حکومتوں کی مسند پر بیٹھے افراد کو اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں جو جہنم پیدا ہوتا ہے اس کی آگ میں صرف اور صرف عوام جلتے ہیں۔ تاریخ کا یہ سبق صدیوں پرانا ہو گا لیکن اس کی بدترین مثالیں تو ہم جیتے جاگتے اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ریاستی طاقت کا نشہ اندھا کر دیتا ہے اور ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ نشہ اس وقت مزید خطرناک ہو جاتا ہے جب اس میں نسل، عقیدے، مسلک، زبان، علاقے یا گروہ کا تعصب شامل ہو جاتا ہے۔

اس ریاستی طاقت کے اندھے استعمال سے ایک ایسا انتقام جنم لیتا ہے جو انتہائی خوفناک ہوتا ہے۔ جو لوگ اس انتقام کے دوزخ کا الائو روشن کرتے ہیں وہ اسے کسی اعلیٰ مقصد کا لبادہ ضرور پہناتے ہیں۔ کوئی قومی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے تو کوئی نسلی برتری کا۔ کوئی عقیدے کا پرچم تھامے نکلتا ہے تو کوئی ملک کی بقا کا جھنڈا۔ ریاستی طاقت کے اس بے مہابہ استعمال کے نتیجے میں ایسے لوگ بھی خونخوار بھیڑیے جیسے منتقم مزاج ہو جاتے ہیں کہ جن کی زندگی امن و محبت کے گیت گاتے ہوئے گزری ہوتی ہے۔
کس کو یقین تھا کہ ایک ایسے خاندان کا فرد جس کی شہرت صوفیانہ مسلک کی وجہ سے ہو اور جسے پورے علاقے میں محبت اور امن کا سفیر سمجھا جاتا ہو۔ آل رسولؐ اور سیدنا امام حسینؓ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا احترام کیا جائے اور لوگ ان کی نیکی اور صلح جوئی کی وجہ سے انھیں عزت و توقیر دیں۔ اس گھرانے کا ایک فرد جو کسی مدرسے کا نہیں بلکہ ماڈرن یونیورسٹی کا طالب علم ہو۔ جس نے بغداد یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہو، وہ ایک دن پورے علاقے میں خوف اور دہشت کی علامت بن جائے گا۔

یہ شخص ابراہیم بن عواد بن علی بن محمد جسے آج دنیا ابوبکر البغدادی، الحسینی، الرضوی، الھاشمی، القریشی کے نام سے جانتی ہے۔ حسینی سادات کے قبیلے بدرین سے تعلق رکھنے والا یہ شخص ء1971 میں سمارا میں پیدا ہوا۔ اس کا داد احاجی ابراہیم ایک صوفی بزرگ تھا جب کہ اس کی دادی کی شہرت ایک انتہائی برگزیدہ خاتون کی حیثیت سے پورے بدری قبیلے میں عام تھی۔ ایسے گھرانے سے شناخت رکھنے والا ابوبکر البغدادی ان سب سے اتنا مختلف کیوں ہے۔

شام اور عراق کے وسیع علاقے میں اماراتِ اسلامی قائم کرنے والا یہ شخص ایک پروفیسر تھا۔ جس نے ء2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد جماعت جیش اہل سنہ والجماعہ کا ساتھ دینا شروع کیا۔ اپنی علمی صلاحیت کی وجہ سے اسے اس کی شریعہ کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔ اس گروہ نے خود کو مجاہدین شوریٰ کونسل میں ضم کیا اور اپنا نام ء2006 میں اسلامک اسٹیٹ آف عراق (ISI) رکھا۔ بغدادی کو اس گروہ نے بھی شریعہ کمیٹی کا سپروائزر مقرر کیا۔

اس کا عملی طور پر جہاد اور جنگجو سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن پھر ایک دن اسے مقامی اور امریکی افواج پکڑ کر لے گئیں۔ جہاں وہ بکّہ جیل میں 2009ء تک قید رہا اور اسے ایک غیر جنگجو فرد تصور کرتے ہوئے چھوڑ دیا گیا۔ بکّہ جیل کا انچارج کرنل Kem King کہتا ہے کہ جیل میں وہ ایک پر امن قیدی کے طور پر رہا لیکن وہ اکثر یہ نعرہ ضرور بولتا ’’میں اب آپ لوگوں سے نیویارک میں ملوں گا‘‘ جسے ہم ہنسی میں ٹال دیتے۔

یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ کوئی جہادی گروہ کسی ملک میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے عوام کی واضح اکثریت کی خاموش حمایت اور ہمدردی حاصل نہ ہو۔ ابو مصعب زرقاوی کی ہلاکت ء2006 میں ہوئی اور ابو بکر البغدادی کا عروج 2013ء میں۔ اس کے درمیان سات سال ایسے ہیں جن میں امریکی پشت پناہی سے قائم ہونے والی نوری المالکی کی حکومت نے مسلکی اقلیت کو القاعدہ کا نام دے کر خوفزدہ اور قتل کرنا شروع کیا۔ میں فسادِ خلق کے خوف سے وہ کہانیاں بیان نہیں کرنا چاہتا جو عراق سے بھاگنے والے لوگوں سے میں نے خود لبنان اور لندن میں سنیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان سات سالوں میں جو شہر اجاڑے گئے وہ سب القاعدہ کے مسکن تھے، جو قتل کیے گئے وہ دہشت گرد تھے اور جو مسجدیں اور مدرسے مسمار کیے گئے سب کے سب ٹریننگ کیمپ تھے۔ یہ تھا عالمی اور عراقی میڈیا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ سب مسلکی اقلیت کے علاقے تھے۔ اس دوران ء2010 کے اپریل میں امریکا نے عراق سے نکلنے کا پروگرام بنایا تو القاعدہ کے نام سے تمام گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا۔

اس آپریشن کی قیادت نور المالکی کی افواج کر رہی تھیں۔ تکریت میں دو اہم رہنما مار دیے گئے۔ اس کے صرف ایک ماہ بعد جس نئی قیادت کا اعلان ہوا اس میں ابوبکر البغدادی کی حیثیت بہت اہم تھی۔ عراق کے صوبوں انبار اور نینویٰ میں جو قبائل آباد ہیں۔ ان کے نسلی اور خونی رشتے مشرقی شام کے قبائل سے ہیں۔ بالکل ویسے ہی ہیں جیسے ہمارے پشتون قبائل نسلی اور قومی اعتبار سے افغانستان سے منسلک ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں سرحد کی کوئی اہمیت نہیں ویسے ہی وہاں بھی سرحد کی کوئی اہمیت نہیں۔

شام میں جب دیگر عرب ممالک کی طرح ہنگامے شروع ہوئے تو بشارالاسد کی اقلیتی علوی حکومت کا خوف ریاست کی طاقت کے استعمال میں ظاہر ہوا۔ قبائل پناہ لینے کے لیے بھاگنے لگے۔ دس فیصد اقلیت کی علوی حکومت اور اسّی فیصد سے زیادہ سنی آبادی۔ دونوں جانب سے مسلکی ٹھیکیدار ممالک ایران اور سعودی عرب کود پڑے۔ عراق میں لڑنے والوں کو ایک اور محاذ مل گیا۔ یوں ISI الاسلامک اسٹیٹ آف عراق سے ISIS اسلامک اسٹیٹ عراق اینڈ شام وجود میں آگئی۔

سرحدیں بے معنی تو امریکا نے کر دی تھیں، پھر ایران اور سعودی عرب نے کر دیں۔ اب ان کے خلاف لڑنے والوں نے بھی اسے ختم کر کے رکھ دیا۔ وہ ریاستی طاقت اور سرحد جس پر فخر کیا جاتا تھا 29 جون 2014ء کو ایک نئی اکائی میں تبدیل ہو گئی۔ ایک ایسا گروہ سامنے آ گیا جس کی آنکھوں میں انتقام کے شعلے تھے اور گزشتہ 9 سال سے القاعدہ کے نام پر ظلم، دہشت اور بربریت سہتی ہوئی اقلیت کی ہمدردیاں۔

ریاستیں کمزور پڑتی ہیں تو سازشی تھیوریاں اور میڈیا کا سہارا لیتی ہیں۔ کوئی مسائل کی جڑ تک نہیں پہنچنا چاہتا، اس لیے کہ ان کا طاقت کا نشہ اور اندر کا تعصب انھیں یہ نہیں کرنے دیتا۔ امریکی سازش ہے، یہودی ایجنٹ ہے، ایرانی مدد ہے، سعودی پیسہ ہے، بیرونی ہاتھ ہے، یہ سب کہنے سے زمینی صورت حال نہیں بدلتی۔ اس لیے کہ ایسی طاقتوں کی حمایت مسلکی اور نظریاتی ہوتی ہے اور پھر یہ حمایت ایک خون کا دریا عبور کر کے پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان گزشتہ آٹھ سالوں سے ویسے ہی حالات کا شکار رہا ہے۔ افغانستان پر حملے کے بعد یوں تو امریکا کا ساتھ دینے پر پوری قوم میں غم و غصہ تھا اور کوئی اختلاف موجود نہ تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ پرچم ایک مسلک کے لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا۔ 2007ء میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے آپریشن نے اس میں خودکش حملوں اور تحریک طالبان کا اضافہ کیا۔ اس مسلک کے لوگوں کی ہمدردیاں بھی ان کے ساتھ تھیں اور ملک میں جہاں بھی آپریشن ہوا اس کار خ اسی جانب تھا۔ ایسے میں دوسرے تمام گروہ امریکی حمایت میں دیوانے سیکولرز کے محبوب تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا مشہور فتویٰ ہر جگہ حوالے کے طور پر دیا جاتا‘ سنی اتحاد کونسل طالبان پر گرجتی برستی اور مجلس وحدت المسلمین دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کی اتحادی بنی رہی۔ ایک ایسی صورت حال جو سالوں قائم رہی۔ امریکا نے افغانستان سے جانے کا قصد کیا تو تکریت کی طرح یہاں بھی آپریشن شروع ہو گئے۔ لیکن اب جس خوفناک منظر نامے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں وہ ریاستی طاقت کا استعمال ہے۔ جو طاہر القادری‘ سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کے خلاف استعمال سے پیدا ہوگا۔
کوئی بھی سانحہ ان گروہوں کو عراق کی طرح چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔ ابھی تو صرف گیارہ لاشیں گری ہیں‘ یہ تعداد بڑھی تو پھر لوگ رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ انتقام ان کی آنکھوں میں خون بھر دیتا ہے۔ ایک جانب پورے ملک میں طالبان اور ان کے ہم مسلک وہ لوگ ہوں گے جو آپریشن کے زخم خوردہ ہیں اور دوسری جانب دوسرے مسلک کے موجودہ صورت میں لاشیں اٹھائے گروہ۔

جب گروہ چھوٹے ہو جائیں اور پورے ملک میں پھیل جاتے ہیں اور اگر ان میں مسلک کا اختلاف اور ظلم کے خلاف غصہ بھی ہو تو ان تک اسلحہ بہت آسانی سے پہنچ سکتا ہے‘ اگر پاکستانی ریاست کو اس کا علم نہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہی ہے۔ پورے ملک میں پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے افراد کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے۔ اس تعداد کو پورے ملک پر پھیلا دیں اور پھر سوچیں کہ ہم کس بھیانک منظر نامے کا بیج بونے جا رہے ہیں۔ کسی نے کبھی سوچا تھا کہ ایک صوفی گھرانے کا مرنجان مرنج پروفیسر ابوبکر البغدادی بھی بن سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size