عیاں ہوگیا جو نہاں تھا

عبداللہ طارق سہیل
عبداللہ طارق سہیل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسے حسب توقع مسترد کر دیا۔ عمران اسے قبول کر بھی نہیں سکتے تھے اس لئے کہ ’’ایجنڈے‘‘ میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ ایجنڈا انہوں نے ردّعمل سے پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں پہلے ہی بے نقاب کر دیا، یہ کہہ کر کہ ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے۔ اب اگر عمران عدالتی کمیشن مان لیں (جو وہ مان سکتے تھے کیونکہ ایک ہی دن پہلے انہوں نے سپریم کورٹ پر اظہار اعتماد کیا تھا) تو ٹیکنو کریٹ حکومت کیسے بنے گی۔ یہی وہ ایجنڈا ہے جو پہلے کچھ کچھ عیاں تھا کچھ کچھ نہاں تھا، اب بے حجابانہ سامنے آگیا ہے۔
ایک روز پہلے عمران نے انتخابی دھاندلیوں کی تفصیل بتائی جس کے پرزے اسی روز اڑ گئے ۔ان کی بتائی گئی ’’تفصیلات ‘‘میں نئی بات یا تو جسٹس رمدے کا نام تھا یا یہ انکشاف کہ اضافی بیلٹ چھاپے گئے۔ عمران نے کہا کہ جسٹس رمدے نے فلاں تاریخ کو لاہور میں اجلاس کیا جس میں دھاندلی کا پلان بنا۔

اس تاریخ کے آگے پیچھے دس روز وہ لاہور میں تھے ہی نہیں اور وہ مکان تو وہ چھ ماہ پہلے ہی بیچ چکے تھے جس میں یہ اجلاس ہوا۔ اور اضافی بیلٹ پیپر چھاپنے کی الیکشن کمیشن نے ریکارڈ دکھا کر تردید کر دی۔ شاید جسٹس رمدے کی تصویر نے اجلاس کی صدارت کی ہو یا کوئی اور صاحب ہوں جو جسٹس رمدے کا روپ دھار کر آ بیٹھے ہوں۔ آج کل روپ دھارنا مشکل ہے نہ روپ بدلنا۔ عمران خاں وزیرستان آپریشن کی مخالفت کرکے ’’امریکہ مخالف‘‘ کے روپ میں نظر آئے۔ لیکن جب غزہ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا تو عمران نے امریکہ یا اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی نہ کہنے کی ’’احتیاط‘‘ کرکے اپنا روپ بدل لیا۔ایک روپ ان کا مشرف کے ’’چیف پولنگ ایجنٹ‘‘ کا تھا، دوسرا جمہوری روپ اور اب یہ اصل روپ ہے جس کے بعد کوئی نیا روپ بھرنے کی ضرورت رہے گی نہ اس کی مہلت ملے گی۔

اور روپ بدلنے کی کہانی اتنی مختصر بھی نہیں۔ کل ہی انہوں نے کہا کہ انہیں چیف جسٹس ناصر الملک پر اعتبار ہے۔ خود ہی پیش گوئی کرنے کی کوشش کیجئے کہ کتنے دن کے بعد وہ ان پر نااعتباری کی مہر ثبت کریں گے اور کتنی آسانی سے کر دیں گے۔ کوئی دس سال کا قصہ نہیں ہے۔محض ایک سال پہلے تک انہیں جسٹس افتخار چوہدری پر بھی ایسا ہی اعتبار تھا، اب وہ انہیں دھاندلی کا ماسٹر مائنڈ کہتے ہیں۔ ایک سال پہلے تک انہیں جسٹس فخر الدین جی ابراہیم پر اعتماد تھا، اب یہ پوسٹر لہراتے ہیں ’’فخرو حساب دو، دھاندلی کا جواب دو۔‘‘ ایک سال پہلے تک انہیں نجم سیٹھی پر اعتماد تھا اور اس بات کی خوشی بھی کہ نجم سیٹھی نے نگران وزیراعلیٰ بنتے ہی شہباز شریف کے لگائے ہوئے سارے افسر بدل ڈالے، سوائے ایک افسر کے جو تحریک انصاف کی عہدیدارکے بھائی تھے۔ ایک سال بعد انہیں پتہ چلا کہ نجم سیٹھی تو خود شہباز شریف کے لگائے ہوئے تھے۔

عمران نے نواز شریف کی تقریر پر ردّعمل دیتے ہوئے ان کی بیڈ گورننس کی طویل داستان بھی دہرائی۔ اور سننے والوں کو الجھن میں ڈال دیا کہ نواز حکومت کو ختم کرنے کے مطالبے کی وجہ الیکشن میں دھاندلی ہے یا ان کی بیڈ گورننس۔ زرداری کی بیڈ گورننس کے پانچ سال عمران نے پورے اطمینان سے نکال دیئے۔ ماننا پڑے گا کہ نواز کی ایک سال کی گورننس زرداری کی پانچ سالہ بیڈ گورننس سے کہیں بڑھ کر ’’بیڈ‘‘ ہے، تبھی تو عمران کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔اور یہ تو جعلی جمہوریت ہے، اصلی تو مشرف کی تھی !
جس نے ایجنڈا لکھا ہے، اسی نے سکرپٹ لکھا اور یہ بھی طے تھا کہ سکرپٹ شروع میں الگ الگ ہو گا۔

انقلاب اور آزادی الگ الگ چلیں گے، پھر اکٹھے ہو جائیں گے اور پھر سب نے دیکھا کہ وہ اکٹھے ہوگئے اور حتیٰ کہ ڈائیلاگ بھی۔ ادھر عمران نے کہا کہ مجھے کچھ ہو جائے تو کارکن نواز شریف کو مت چھوڑیں (یعنی مار دیں) اور ادھر مولوی صاحب نے فرمایا کہ مجھے کچھ ہو جائے تو شریف خاندان کے سارے مرد مار دینا۔ کہا جا سکتا ہے کہ عمران کا ڈائیلاگ مختصر تھا، مولوی کا تفصیلی۔ اب کارکن حفظِ ماتقدم کے طور پر اس وصیت نامے پر پیشگی عمل کر دیں تو، امریکی انصاف کے تحت اسے غلط نہیں کہا جا سکتا، اس لئے کہ امریکہ نے Preemptive Measure کا نام دے کر اسے مستقل ’’انڈمنیٹی‘‘ دے دی ہے۔ اسرائیل نے اسی اصول کے تحت ہی تو غزہ کے دو ہزار شہری جن میں ساڑھے آٹھ سو بچے اور ایک ہزار نوجوان شامل تھے، مارے۔ عمران و مولوی کے جنونی اسرائیل کی پیروی کریں تو کیا غلط ہو گا۔

ایجنڈا واضح ہے اور پیچھے کھڑے ملک بھی واضح ہیں۔ ایک بھارت، دوسرا اسرائیل اور ان کے پیچھے امریکہ۔ آج سے ڈیڑھ دو سال پہلے مولانا فضل الرحمن نے ’’یہودیوں کا ایجنٹ‘‘ والا بیان دینا شروع کیا تو سب نے یہی سمجھا کہ سیاسی مخالفت میں انتہا پسند ہوگئے ہیں، لیکن کہئے، اب کیا خیال ہے۔ ؂

یار خورشید جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
ذرّے ذرّے میں عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بہرحال، آج رات سے انقلاب کا آغاز ہو جائے گا۔ ٹیکنو کریٹ حکومت میں نام کون دے گا۔ عمران یا قادری یا دونوں کے دیئے گئے نام شامل ہوں گے؟ یہ حکومت الیکشن کرائے گی یا عمران کو صدر اور قادری کو وزیراعظم بنا کر کھاتہ بند کر دے گی۔ عہدوں پر اختلاف ہوگیا تو حل کون نکالے گا۔ چیف جسٹس کون ہوگا؟ گولڈ سمتھ ہی کو کیوں نہ بنا دیا جائے۔ احتساب کے لئے پاکستان میں کوئی شفّاف شخص ملنا مشکل ہے، کیوں نہ نیتن یا ہو کی خدمات لے لی جائیں، اس سے بڑھ کر صاف شفاف دامن والا کہاں ملے گا۔

____________________________

مولوی صاحب کا انقلاب مارچ سے ایک روز پہلے کا خطاب کچھ یوں سنائی دیا:
ہماری تحریک پاکستان کی پر امن ترین تحریک ہے۔ ہم تشدد کے خلاف ہیں، امن کے داعی ہیں، میرے کارکنو، میرے ساتھ وعدہ کرو کہ پر امن رہو گے۔ خدا کیلئے پر امن رہنا۔ پولیس والوں کے گھروں میں جتھے بنا کر گھس جانا لیکن خدا کے لئے پر امن رہنا۔ ان کی پتلونیں اتار دینا، ان کی گردنیں اڑا دینا لیکن خدا کے لئے پر امن رہنا۔ ان بدمعاشوں کو زندہ مت چھوڑنا لیکن خدا کے لئے پر امن رہنا۔ شریف خاندان کے کسی فرد کو زندہ مت چھوڑنا لیکن پر امن رہنا۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا لیکن پر امن رہنا، کیلوں والے ڈنڈوں سے پولیس والوں کی چمڑی ادھیڑ دینا لیکن پر امن رہنا، جہاں جو شے نظر آئے اسے آگ لگا دینا لیکن خدا کا واسطہ ہے، پر امن رہنا، میری پر امن تحریک کو دھبّہ مت لگنے دینا۔
____________________________

تین صوبوں میں بد امنی ہے، پنجاب میں قدرے استحکام ہے۔ ایجنڈ اصاف سمجھ میں آتا ہے کہ پنجاب کو بھی فاٹا، بلوچستان اور کراچی بنا دیا جائے۔ کیوں؟، معاملہ صرف گوادر پورٹ اور ہائی ویز کا نہیں، اس سے جڑا ہوا ایک قصّہاور بھی ہے۔
امریکہ چین کا محاصرہ کر رہا ہے۔ اور کھلے عام کر رہا ہے۔ اس کا بھارت پر دباؤ (ترغیب) ہے کہ وہ اپنی اپنی ز یادہ سے زیادہ فوج چین کی سرحد(ارونا چل، سکّم، اتر انچل، ہما چل پردیش، مقبوضہ کشمیر) پر لگا دے۔ بھارت یہ کام ضرورکرے گا کہ بدلے میں بھاری مفادات کے علاوہ ایشیا کی قیادت بھی ملے گی (کل ہی امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا بیان چھپا ہے، غور فرمائیے، انہوں نے کہا کہ بھارت کو عالمی لیڈر کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ نیز یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان کو دی گئی فوجی امداد بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہوگی)۔

لیکن بھارت زیادہ فوج چین کی سرحد پر کیسے لے جائے جب کہ پاکستانی فوج کی بڑی تعداد سرحد پر موجود ہے؟
سمجھ میں آیا۔ پاکستان کی فوج پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ کراچی، بلوچستان، فاٹا، سرحد اور پھر پنجاب۔ افسوس، وزیر دفاع قادر بلوچ نے بھی اسی ایجنڈے کی بات کی، فرمایا، ہر جگہ آپریشن ہوگا، کیا کراچی کیا لاہور کیا جنوبی پنجاب۔ زیادہ سے زیادہ فوج کوپاکستان کے اندر مصروف کر دیا جائے، یہی مرضی میرے صیّاد کی ہے اور جب ایسا ہوگا تو بھارت کے لئے فوج چین کی سرحد پر لے جانے میں کیا عذررہے گا۔
چلئے عمران ، قادری کے صدقے مشرقی سرحدیں تو پر امن ہو جائیں گی ۔۔۔ ہمیشہ کیلئے !

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size