سوال مرتب کرنے کی ثقافت

وجاہت مسعود
وجاہت مسعود
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

20 مئی 1956ء کا دن تھا۔ مغربی پاکستان اسمبلی میں اسپیکر کا انتخاب ہو رہا تھا۔ مسلم لیگ نے میر غلام علی تالپور کو نامزد کیا تھا جب کہ چوہدری فضل الہٰی ری پبلکن پارٹی کے امیدوار تھے۔ ری پبلکن پارٹی کا کبوتر میجر جنرل سکندر مرزا نے کوئی ہفتہ بھر پہلے ٹوپی سے نکالا تھا۔ اسپیکر کا یہ انتخاب دراصل سردار عبدالرب نشتر اور سکندر مرزا میں مقابلہ تھا۔ یہ فیصلہ آپ خود کر لیجئے کہ دونوں میں سے کون جمہوری قوتوں کا نمائندہ تھا۔ اس روز مغربی پاکستان اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور دھینگا مشتی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ ارکان اسمبلی نے با آواز بلند ایک دوسرے کو مغلظ گالیاں دیں۔ اس معرکے میں سردار عبدالرب نشتر ہار گئے اور سکندر مرزا جیت گئے۔

ہمیں پاکستان میں سردار عبدالرب نشتر کے ہار جانے کی عادت ہو گئی ہے۔ سردار عبدالرب نشتر کا نام بدلتا رہتا ہے، نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا ۔ اک جیسا انجام تھا اپنا ہر طغیانی میں… اس روز مغربی پاکستان اسمبلی میں نعروں کے شور میں کسی نے کہا تھا ـ ’’آپ کو جو کرسی چاہیے، وہ تو آپ کو مل جائے گی۔ اس منصب کو اتنا ذلیل نہ کیجئے کہ کل جب آپ اس کرسی پر بیٹھیں تو اس کی کوئی عزت ہی باقی نہ رہے‘‘۔ 58 برس گزر گئے۔ یہ جملہ وقفے وقفے سے دہرایا جاتا ہے ۔ہمیں لیکن بلند آہنگ نعروں سے شیفتگی ہے۔ نعرہ لگانے میں حلق سے زور لگایا جاتا ہے۔ سوال مرتب کرنے میں دماغ پر زور دینا پڑتا ہے ۔ نعرے ،تلقین اور تقلید کی ثقافت اور ہے، سوال ، تشکیک اور تحقیق کی تہذیب مختلف ہے۔ جہاں سوال کرنے کی اجازت نہ ہو، انسان سوال مرتب کرنا بھول جاتے ہیں۔ اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔ جمہوریت سوال ترتیب دینے کی تربیت کا نام ہے۔

عشرے گزر گئے ۔ اس بحث کا حتمی نتیجہ نہیں نکل سکا کہ قوم کے بانی کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ محترم ڈاکٹر صفدر محمود بھی تاریخ سے حوالہ دیتے ہیں۔ بھائی یاسر پیرزادہ کے دلائل بھی وزن سے خالی نہیں۔ صاحبو، یہ سوال تو 1940ء سے 1947ء تک کے سات برس کے دوران پوچھا جانا چاہئے تھا، ہم نے نہیں پوچھا ۔ اسلامیہ کالج کے طالب علم کسی دیہاتی پیر کی طرح منت مانگنے والوں میں بیٹے بانٹتے رہے۔ جس نے جمہوریت مانگی ، اسے جمہوری پاکستان دے دیا۔ جس نے خلافت طلب کی ، اسے خلافت بخش دی۔ کسی کٹ حجتی نے زیادہ بحث کی تو اسے سمجھا دیا کہ فی الحال پاکستان حاصل ہو جائے ، دیگر تفصیلات بعد میں طے کر لیں گے۔ وہ تفصیلات ابھی تک تصفیہ طلب ہیں۔

کئی برس بعد بھٹو صاحب نمودار ہوئے کسی نے نہیں پوچھا کہ حضور آپ نے اپنی پارٹی کے جو چار بنیادی نکات بیان فرمائے ہیں، ان میں کوئی باہمی تعلق نہیں پایا جاتا۔ سوال اٹھانے والوں کو گھرکی دی جاتی تھی کہ تم عوام کی قوت پر بھروسہ کرو۔ ایک دفعہ عوام کو اقتدار مل گیا تو تمہارے کتابی سوالات کے جواب بھی مل جائیں گے۔ ’’طاقت کے اس سر چشمے‘‘ کا انجام یہ ہوا کہ اب اخبارات اور ٹیلی ویژن پر عوام صیغہ واحد غائب میں مونث ہو گئے ہیں۔تانیث کی تحقیر مقصود نہیں لیکن یہ معمہ حل نہیں ہوا کہ کل تک عوام جمہوریت مانگتے تھے اور آج عوام انصاف مانگتی ہے۔ الّا یہ کہ عوام کی یہ خرابی ہندی کے لفظ جنتا سے آئی ہے۔ ہم نے ہندوستان سے سیکھا بھی تو کیا سیکھا۔

آج دو قافلے اسلام آباد کا رخ کر چکے ہیں ۔ علامہ طاہر القادری نے اپنے کارواں کو انقلاب مارچ کا نام دیا ہے ۔ عمران خان صاحب نے اپنے لشکر کے لئے آزادی مارچ کا نام پسند فرمایا ہے۔ طاہر القادری صاحب سے تو سوال کرنا مناسب نہیں۔ نازک مزاج شاہاں تاب سخن ندارد۔ کہیں جلال میں انگلی اٹھا دی تو سب کچھ جلا کے بھسم کر دیں گے۔ عمران خان صاحب تو ہم عصر دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیار مغرب میں تعلیم پائی ہے ۔ ان کے حامی بھی عام طور سے تعلیم یافتہ ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے بہت سے نکات طے کیے گئے تھے۔ نگران حکومت کا تصور معروف جمہوری طریقہ کار سے پوری مطابقت نہیں رکھتا تاہم پاکستان کے مخصوص سیاسی تناظر میں یہ بندوبست قبول کیا گیا۔ مرکز اور صوبوں میں حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کر کے الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ پاکستان میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ ایک جمہوری حکومت آئینی طریقہ کار کے مطابق انتخابی عمل پورا کرے گی اور عوام کی رائے کے مطابق اقتدار منتقل کرے گی۔ دنیا بھر میں ہمارے انتخابی تجربے کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی تھی۔ کئی درجن ملکی اور غیر ملکی وفود نے انتخابی عمل کا مشاہدہ کیا اور ان سب وفود کی متفقہ رائے تھی کہ چھوٹی موٹی انفرادی بےقاعدگیوں سے قطع نظر، 2013ء کے انتخابات قابل قبول سطح پر شفاف تھے۔ انتخابی عمل میں کسی منظم اور مربوط سازش کے تحت دھاندلی کے شواہد نہیں ملے۔

مرکز میں برسراقتدار سیاسی جماعت انتخاب ہار گئی۔ مسلم لیگ نواز کو پنجاب کے خطے میں کامیابی ملی۔ دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ شہری سندھ میں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی۔ خیبر پختوانخواہ میں تحریک انصاف کا پلہ بھاری رہا۔ اور یہ نتائج گزشتہ انتخابات میں سامنے آنے والے رجحانات سے مطابقت رکھتے تھے۔ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے الیکشن ٹریبونل اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہ بات تو تحریک انصاف کے اپنے الیکشن کمشنر حامد خان بھی جانتے ہیں کہ انتخابی ہیرا پھیری پر فوری فیصلہ دینا آسان نہیں ہوتا ۔اگر انتخابات میں کسی مجموعی دھاندلی کی تحقیق کرنا مقصود ہے تو اس کے لئے سپریم کورٹ سے زیادہ قابل اعتماد ادارہ کون ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے محترم چیف جسٹس سے ان الزامات کی تحقیق کے لئے کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ وہی آزاد عدلیہ ہے جس کا جھنڈا عمران خان نے کئی برس سے اٹھا رکھا ہے ۔ جب چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا تو جمہوری حلقوں کو خدشہ تھا کہ یہ چار حلقے تو فانے کا پتلا سرا ہیں۔ ان حلقوں کی آڑ میں پورے انتخابی عمل کی ساکھ کو دھندلانا اصل مقصد ہے۔ یہ خدشات وزن سے خالی نہیں تھے۔

چار حلقوں سے بڑھ کر تمام انتخابی عمل پر سوال اٹھایا گیا اور بالآخر وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ داغ دیا گیا۔ اس دوران ٹیکنوکریٹ حکومت کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں بار بار بنگلہ دیش ماڈل کی نوید سنائی گئی۔ اب ہمیں التحریر اسکوائر کی وعید دی جاتی ہے ۔ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ اصل مجادلہ پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام میں ہے۔ ہمارے ملک میں کچھ حلقوں کو 2006ء کے میثاق جمہوریت کا کانٹا کھٹک رہا ہے۔ اگر ٹیکنو کریٹ حکومت ہمارے جملہ امراض کا حل ہے تو وہ چار افراد جنہیں محترم عمران خان نے انتخابی دھاندلی کے معمار قرار دیا ہے، ٹیکنو کریٹ ہی تھے۔ خان صاحب کے لئے قابل قبول ٹیکنو کریٹ کہاں سے درآمد کیے جائیں گے۔ ہماری تاریخ میں گورنر جنرل غلام محمد نے 1954ء میں ’غیر ذمہ دار سیاستدانوں‘ کی بجائے ’باصلاحیت افراد‘ کی کابینہ متعارف کرائی تھی۔یہ کشمکش نئی نہیں ہے۔ یہ سردار عبدالرب نشتر اور سکندر مرزا میں رسا کشی کا تسلسل ہے۔ یہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں میں کشمکش کا سوال ہے۔ یہ آئین کی بالادستی کا سوال ہے۔ یہ پاکستان کے وفاق کی تکریم کا سوال ہے ۔ سردار نشتر ہار جاتا ہے مگر سردار نشتر زندہ رہتا ہے کیونکہ پاکستان کے باشندے جمہوریت کی نازک پیچیدگی اور یک نکاتی نعرے کی سنگین سادہ لوحی میں فرق جانتے ہیں۔ سردار عبدالرب نشتر کی جیت اسی میں ہے کہ سوال اٹھانے کی تہذیب زندہ رہتی ہے، جمہوریت کا سوال کسی ہنگامہ آرائی سے قتل نہیں کیا جا سکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size