یہ جلوس کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دل

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

وطن عزیز پاکستان جتنی سیاسی عمر ہونے کے باوجود میں نے ایسے ملک گیر جلوس نہیں دیکھے جو اس وقت دو الگ الگ ٹولیوں میں اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں۔ توقع ہے کہ اس ویک اینڈ تک دونوں میں سے کوئی ایک جلوس اسلام آباد میں پہنچ جائے گا۔ جہاں وہ وزیر اعظم نواز شریف سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ لینے کی کوشش کرے گا لیکن وزیر اعظم تو عموماً اختتام ہفتہ پر لاہور آ جاتے ہیں۔

اس طرح یہ لوگ اپنے ان جلوسوں کے ہمراہ استعفیٰ کس سے لیں گے کیا وہ پھر سے لاہور واپس آئیں گے لیکن ان جلوسوں کی جو رفتار ہے اس سے وزیر اعظم کو نہ اسلام آباد میں پکڑا جا سکتا ہے نہ لاہور میں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ان جلوسوں کا سفر کہیں بیکار نہ ہو جائے اور اسلام آباد اور لاہور میں انھیں صرف وہ دیواریں دکھائی دیں جن کے اندر وزیر اعظم کبھی آتے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم ان جلوسوں اور ان کے قائدین کے ہتھے چڑھیں نہ چڑھیں ان قائدین کی بلے بلے ہوجائے گی۔

جناب عمران اور قادری صاحب میں سے کوئی بھی روایتی سیاستدان نہیں ہے۔ انھیں سیاست کی دنیا کا دستر خوان خالی دکھائی دیا اور وہ اس پر ڈٹ گئے۔ ان کے ساتھ ہزاروں دوسرے پاکستانی بھی شامل ہو گئے اور کارواں بصورت جلوس بن گیا۔ ان جڑواں پاکستانی جلوسوں کو دیکھ کر ایک خاتون نے تبصرہ کیا کہ یہ جلوس 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کے دن پاکستان سے چلے لیکن رفتار ایسی سست کہ بھارت کے 15 اگست کے یوم آزادی میں داخل ہوگئے بلکہ ضم ہو گئے۔ ہمارے حکمران جو بھارت کو بہت پسند کرتے ہیں اب بھارتی دوستوں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تو اپنی آزادی بھی آپ کی آزادی میں مدغم کر دی ہے اب آپ کو اور کیا چاہیے۔

ان جلوسوں کا نتیجہ جو بھی نکلے گا ان میں ہمارے کئی سیاسی لیڈر ایکسپوز ہو گئے ہیں۔ وہ لیڈر جو کونوں کھدروں میں اللہ اللہ کر رہے تھے باہر کا ہنگامہ دیکھ کر اچانک باہر نکل آئے اور جس لیڈر تک پہنچ سکے اس کے پیچھے چل دیے۔ آپ نے خیرات مانگنے والوں کو دیکھا ہو گا جو ایک قطار میں چلتے ہیں اور ’دے جا سخیا‘ کا ورد کرتے ہیں۔ ایک قطار قادری صاحب کے پیچھے بن چکی ہے اور دوسری عمران خان کے پیچھے۔ میں ان قطار والوں کا نام نہیں لیتا ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گے لیکن ان میں کئی چہرے ایسے دیکھے جن کو دیکھ کر تعجب ہوا کہ اپنے اپنے وقت کے یہ سیاسی معروف لوگ کہاں چھپے ہوئے تھے۔

جیسے وہ کسی جوگی کو پہاڑوں سے اترتا دیکھ کر باہر نکل آئے۔ میں نے ان لوگوں کو جلوس میں ’وعلیکم السلام‘ کرتے بار بار دیکھا وہی شاعر والی بات کہ مجھے اس محفل میں جانتا تو کوئی بھی نہیں لیکن پھر بھی وعلیکم السلام کیے جا رہا ہوں مگر جلوس میں نوجوان زیادہ تھے جن میں سے شاید ہی کسی نے سیاسی زندگی میں ان کے جیتے جاگتے شکل دیکھی ہو۔

بہرحال وہ عوام کے سامنے حاضری لگوانے میں کامیاب رہے اگر رپورٹروں کے ساتھ ان کے تعلقات اب تک قائم چلے آ رہے ہیں تو اخباروں میں ان کا نام بھی چھپ سکتا ہے کہ اکثر اپنے اپنے وقت کے معروف بلکہ کئی ایک تو زیادہ ہی معروف لوگ تھے۔ یہاں میں ان کا نام پھر بھی نہیں لکھوں گا لیکن جو ان کو جانتے تھے وہ ان کو کسی ٹرک پر چڑھا دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ وقت کتنا بے رحم ہوتا ہے اچھے بھلے آدمی کو مذاق بنا دیتا ہے۔

یہ دونوں غیر معمولی جلوس ایک جلوس کے لیڈر عمران خان نے تو وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ لے کر ہی اسلام آباد سے واپس آئیں گے۔ قادری صاحب کس انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ عالم آدمی ہیں۔ عربی لفظ انقلاب کے معنی خوب جانتے ہوں گے جس کے ایک معنی الٹ پلٹ کے بھی ہو سکتے ہیں یا تیا پانچا کے بہر حال جو بھی معنی ہوں قادری صاحب کو اپنے پسندیدہ معنوں کو قوم کو بتا دینا چاہیے تا کہ وہ اس کی تیاری کر سکے۔

مجلس احرار کی طرح ’حکومتِ الہیہٰ والا مطالبہ نہ کریں جس کی تفصیل احرار والے آخری وقت تک نہ بتا سکے انھوں نے اس کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ قادری صاحب اپنے موقف پر نظرثانی کر کے قوم کو باخبر کر دیں کہ ان کا انقلاب سے کیا مطلب ہے۔ اگر یہ مطلب ہے کہ دف بجاتی خواتین کی دعائوں سے وہ خود پاکستان کے اقتدار میں آ جائیں گے تو بسم اللہ۔ جلدی کریں کیونکہ ایسے جلوس بار بار ترتیب نہیں دیے جا سکتے۔

ان جلوسوں میں ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ قائدین نے اپنی اولاد۔ ان جلوسوں میں شامل کی ہے۔ عمران کے دونوں بیٹے پاکستان آئے انھوں نے اپنے باپ کا ایک نیا انداز دیکھا اداسی کی یاد لے کر واپس لندن چلے گئے۔ قادری صاحب کے صاحبزادے ابھی نہیں آئے لیکن وہ بس جلد ہی آجائیں گے۔ میں صاحبزادوں کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ ماضی میں یہ دیکھا کہ لیڈروں نے اپنے بیٹوں کو کسی سیاسی ہنگامے سے دور رکھنے کی کوشش کی بلکہ میں نے تو دیکھا کہ بعض ملازمین کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ان نوجوانوں کا دھیان رکھیں اور ان کی حرکتوں سے خبردار کرتے رہیں۔

یہ سیاسی ہنگامے عوام کے لیے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی قربانی خواص نہیں عوام دیا کرتے ہیں چنانچہ ہمارے آج کے لیڈروں نے بھی اپنے قیمتی بچوں کو سیاسی خطروں سے دور رکھا ہے۔ اصل بات تو ان جلوسوں کی ہے لیکن جب تک یہ جلوس خود ہی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے ان کے بارے میں صرف دعائے خیر ہی کی جا سکتی ہے اور حیرت کا اظہار کہ یہ قوم حکمرانوں سے اس قدر بیزار ہے کہ وہ یہ بھی کر سکتی ہے۔ لاہور سے اسلام آباد تک اور پشاور سے اسلام آباد تک کا جلوس کسی اندر کی خلش کے بغیر سامنے نہیں آ سکتا۔ خدا اس قوم کو خود اس قوم کی بے چینی سے بچائے اور ایسے لیڈروں سے بھی جو نعوذ باللہ سقوط ڈھاکہ یاد دلائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size