.

حکومت کو ایک مرتبہ پھر بارش پر بھروسہ

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں رتی بھر شبہ نہیں کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے دعووں کے مطابق دس دس لاکھ افراد کو دھرنے میں شریک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس پر بھی شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ اکثر سیاسی جماعتیں اور قائدین جمہوری نظام کو آگے بڑھانے کے حق میں ہیں اور پیچھے دھکیلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ صورت حال حکومت کے لیے کسی حد تک خوشگوار، امید افزا اور حوصلہ بخش ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ کچھ پہلو پوری حکومت کے لیے بالعموم اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے لیے بطور خاص قابل توجہ ہیں۔

آزادی اور انقلاب مارچ جس قسم کے بھر پور ابلاغی مہم اور کنٹینرز کے بے محابا استعمال کے باوجود بہ احسن اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے اسے ہوا میں تحلیل سمجھنا درست نہیں البتہ ابلاغی اور سیاسی بیان بازی کی حد تک درست مانا جا سکتا ہے۔ لیکن اعلی ترین سطح سے ہر گز نہیں۔

اس کی بنیادی وجہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ان کے کارکنوں اور وابستگان کی جنون کی حد تک محبت اور عقیدت ہے۔ ان کارکنوں اور شرکائے دھرنا کے پاس کوئی اور کمٹمنٹ ہو نہ ہو ہیرو ازم اور شخصیت پرستی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس کی ایک مثال لاہور میں سترہ جون اور اس کے بعد ماہ اگست کے پہلے عشرے میں ماڈل ٹاون میں دیکھی جا چکی ہے ۔ اگر دوسری مثال اسلام آباد میں دیکھنا ہو تو عمران خان کا آزادی مارچ کے بعد پہلی ہی رات اپنے جاں فروشوں کو شدید بارش میں چھوڑ کر پارٹی ایلیٹ کے ساتھ بنی گالہ کے نرم و گرم بستروں پر استراحت کے لیے چلے جانا ایک سیاسی بلنڈر سے کم نہ تھا۔ بجا کہ اس پر بعض کارکنوں نے ناخوشی کا اظہار بھی کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ دھرنا شروع ہونے کے وقت اس بلنڈر کے اثرات حاضری میں کمی کی صورت میں نظر آئے نہ کوئی ٹی وی چینل ایسی فوٹیج دکھا سکا جس میں تحریک انصاف کے ناراض کارکنوں کو واپسی کا راستہ لیتے لاہور اور پشاورجاتے دکھا پایا اور نہ جوش و خروش میں کمی آئی۔ اس لیے حاضری کی کمی کو اس امرپر محمول کرنا کہ دھرنا شروع ہونے سے پہلے ہی تحلیل ہو گیا کم از کم حکومت کے لیے مفید پوزیشن نہیں ہے۔

ممکن ہے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے اس نوعیت کے ''زبانی جمع خرچ'' کا سہارا اس لیے لیا ہو کہ ان کی دانست میں آزادی اور انقلاب مارچ کے سبب حکومت کو کوئی فوری نقصان کا احتمال ٹل گیا ہے، لیکن اس کا یہ معنی سمجھ لیا جانا کہ ہزاروں پرعزم کارکنوں کی اس کئی روز پر پھیل جانے والی مشق کا اثر حکومت پر سرے سے نہیں ہو گا یا کچھ دیر بعد میں بھی نہیں ہو گا غالبا خوش خیالی سے آگے کی بات ہے۔

اس لیے عمران خان کو بے چارہ یا بے رحم ایسے القابات دے کر ایک جانب خود فریبی اور دوسری جناب حکومت کے خلاف اشتعال بڑھانے کا ایک ذریعہ تو ہو سکتا ہے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ، موئثر اور مفید حصہ نہیں۔ بڑی سادہ سی بات ہے ہجوم کی نفسیات کے بگڑنے میں دیر نہیں لگتی اور اسے سنبھالنے میں کامیابی تک کم از کم دکانوں کے شیشے ویشے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سمجھ دار تاجر ہجوم کو زیادہ دیر مارکیٹ کے اندر دیکھنا مفید نہیں کرتے اور منت سماجت بھی کرنا پڑے تو وہ اسے انا کا مسئلہ نہیں بناتے بلکہ موقع پر بن آئے خطرے کو پہلے ٹالنا ضروری سمجھتے ہوئے اپنا اور پوری مارکیٹ کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر کسی شوخ طبیعت یا شوخ بیان نوجوان کو تاجر برادری ہر گز یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ہجوم کو مشتعل کرے بلکہ جلد سے جلد اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کی سبیل پیدا کرتی ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال ڈاکٹر طاہر القادری کے زرداری حکومت کے ہوتے ہوئے کیے گئے لانگ مارچ کی ہے۔ جسے کسی نقصان کا موقع دیے بغیر زرداری حکومت نے پہل کی اور اپنی ٹیم مذاکرات کے لیے کنٹینر میں بھیج کر انہیں رام کر کے معاملہ موخر کرا لیا۔ موجودہ حکومت لے لیے آزادی اور انقلاب مارچ کو جلد واپس روانہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ حکومت کے پاس ابھی تقریبا چار سال کی مدت باقی پڑی ہے اسے حوصلے اور ٹھنڈے پن کے ساتھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ضرورت زرداری حکومت سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسا کرنے کا ایک جواز یہ بھی ہے کہ حکومت کا دعوی یہ ہے کہ اسے عوام کا حقیقی مینڈیٹ حاصل ہے۔ اس حقیقت کے ہوتے ہوئے ایسا کیا خوف آڑے آ رہا ہے کہ بعض دیرینہ اور جائز مطالبات کے بہ احسن قبول کرنے کا حوصلہ نہیں کیا جا رہا۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق حکومت کو آگے بڑھ کر اور سر چڑھ کر معقول باتوں کا معقولیت سے جواب دینے کا کریڈٹ لینا چاہیے۔جن مطالبات کو حکومت نامعقول سمجھتی ہے ان کے بارے میں پوری معقولیت کے ساتھ اپنا موقف سامنے لانا چاہیے لیکن اگر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ تجزیے کے ترازو میں معقول اور نامعقول سبھی مطالبات کو حکومت ہم وزن ثابت کر کے جان چھڑا لے گی تو یہ محال است و جنوں والی بات ہو گی۔

ایک اور حقیقت جس کا ادراک یقینا وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سطح پر ہو گا وہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت جو جماعتیں بھی جمہوریت بچانے۔ سسٹم بچانے اور آئین کے تحفظ کی بات کر رہی ہیں وہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہی ساتھ جائز مطالبات کی بھی کھلی حمایت کر رہی ہیں۔

بعض جماعتیں تو کلی طور پر ان مطالبات کو حق بجانب بھی سمجھتی ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت کو مشکوک قرار دیتی ہیں۔ لیکن محض جمہوریت دوستی میں اسلام آباد پر چڑھائی کو کم از کم ان دنوں مناسب خیال نہیں کرتی ہیں۔ جمہوریت کی کٹر حامی جماعتوں کے بارے میں خیال رہے وہ جمہوریت کی حامی یا اتحادی تو ہو سکتی ہیں لیکن جمہوریت کی قیمت پر میاں نواز شریف کی حکومت کی حمایت جاری نہیں رکھ سکیں گی۔ اگر کل کلاں جمہوریت کو خطرہ ہوا تو ان کا ووٹ موجودہ حکومت یا حکمرانوں کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف جمہوریت کے حق میں ہو گا۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر تجویز کی حمایت کر سکتی ہیں۔

اس لیے بارشوں کی شدت کی بنیاد پر یہ امید لگائے رکھنا کہ دھرنے ختم کرنے کے لیے حکومت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں برسات ہی کافی ہے کہ لوگ تھک ہار کر واپس چلے جائیں گے کافی نہیں، اس کا امکان ففٹی فٹی تو سکتا ہے سو فیصد نہیں۔ ویسے بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی تمنائیں کافی نشانہ بن چکی ہیں۔ اب صرف بارش سے دھرنے ختم کرانے کی آس لگا لینا کسی طور مفید نہیں ہو سکتا ہے۔

حکومت کو خود گھر آئے مہمانوں سے بات کرنے کا حوصلہ کرنا چاہیے، اگر یہ ممکن نہیں تو دوسری جمہوریت دوست جماعتوں کی خدمات حاصل کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ یہ تاریخ کا جبر سامنے ہے کہ فوج کے سربراہ کی وفاداری ماضی میں بہت جلد بدلتی رہی ہے۔ انہیں تو ملکی سلامتی کے زاویے سے ہر معاملے کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اگر کسی وقت اندرونی سلامتی بیرونی سلامتی کے لیے خطرہ بننے لگی تو نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے بارش پر تکیہ کریں نہ سازش کو موقع دیں کہ سازش کی رفتار بعض اوقات بارش سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ بارش کی طرح سازش نظر بھی فورا نہیں آتی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.