.

خونریزی کا سدباب گفتار نہیں، کردار سے

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے یہ اطلاعات ملی ہیں کہ مساجد کے آئمہ حضرات کو تحریری طور پر ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ نمازوں کے بعد داعش اور دوسری عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف مساجد میں بدعائیں کریں، نیز انہیں منحرف گروہوں کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ لیکن میرے خیال میں اس طرح کے گروہوں کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے حیلوں بہانوں سے اور غلط انداز کی نمائندگی کی بدولت ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنے دام میں پھنسا لیا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ان گروہوں کی خونریزی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حالیہ رمضان کے دوران ان گروہوں کی کارروائیوں میں متعدد سیکیورٹی اہلکاروں اور کئی دوسرے مسلمانوں کے جاں بحق ہونے سے رمضان کا تقدس بھی پامال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان گروہوں کے بارے میں آنکھیں کھول دینے والی ایک اور چیز یہ ہے کہ ان تنظیموں کا مقصد صرف خون بہانا ہے۔ ان کے ہاں اصلاحات کا کوئی داعیہ ہے نہ اسلامی معاشرے کی تشکیل کی خواہش و ارادہ، جیسا کہ یہ تاثر دیتی ہیں بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنی خونی وارداتوں سے مسلم کمیونٹی کو پوری دنیا میں بہت زیادہ نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ ان تنظیموں نے سوشل میڈیا کا بڑی ہوشیاری سے استعمال کیا ہے اور مسلم ممالک کی حکومتوں کی گورنینس کو بعض منفی حوالوں سے نشانہ بنایا ہے۔

مسلم دنیا میں ظلم کے واقعات، دبائے جانے والے حکومتی ہتھکنڈوں اور بعض ملکوں میں غیر ملکی مداخلتوں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں مذکورہ تنظیمیں یہ تاثر دیتی ہیں کہ وہ ان مسائل کا حل دے سکتی ہیں۔ اس چیز کو یہ اپنے حق میں استعمال کرتی ہیں۔ انہی طریقوں سے یہ مسلم ممالک میں بعض اہم گروہوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہیں۔ خصوصا ان نوجوانوں کو جنہیں مذہب کا درست شعور نہیں ہوتا، ان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم اب اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں کہ اس برائی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

جی ہاں، اس مقصد کے لیے ہمیں ان تنظیموں کو ہر سطح اور ہر فورم پر بے نقاب کرنا ہو گا۔ یہ بھی اہم ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف اس سے بہت پہلے یہ کام کرنے کی ضرورت تھی۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کئی ممالک میں ناخواندہ اور کم تعلیم یافتہ مسلمانوں کی تعداد اندھا دھند شامل ہو چکی ہے۔ اس لیے ان عسکریت پسندوں کے خلاف صرف زبانی جمع خرچ کی نہیں موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے نوجوان ان کے یرغمال

ہمیں ایک اجتماعی کوشش کے ذریعے ان تنظیموں کے خلاف نوجوانوں کو اپنے رابطوں اور کاوشوں میں شریک کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو ہم نے لمبے عرصے تک نظر انداز کیے رکھا ہے اور عسکریت پسند تنظیموں کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنے جھوٹے دعووں اور غلط نظریات کی بنیاد پر ہائی جیک کر لیں۔ واحد زبان جو سمجھتے ہیں وہ ان نفرت پھیلانے والے مبلغین کی ہے۔ جب لکھنے والے اور میڈیا والے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں تو یہ عناصر انہیں فورا انہیں لبرل اور اسلام پسندی کے مخالفین کا لقب دیتے ہیں اور انہیں خوفناک ناموں سے پکارتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ حکام بھی ایسے لوگوں کی مدد نہیں کرتے اور انہیں انہا پسندوں کے ہاتھوں مسائل کا شکار بننے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

داعش ایسی عرب معاشرتوں سے تخلیق ہوئی ہے جو اس کے خطرے سے نابلد تھیں۔ اس برائی کے فلسفے کی ساخت اور پرداخت کے لیے اساتذہ اور مبلغین پچھلے تیس برسوں سے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف غیر مسلم طبقات کو قبول نہ کرنے کا سبق دیا بلکہ ہمارے اپنے مسلمان فرقوں کے ناپسندیدگی کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی۔ اس لیے آج ہم وہی کچھ کاٹ رہے ہیں جو ہم نے بویا تھا۔ کم از کم امام کعبہ عبدالرحمان السدیس نے ٹھیک سمت میں کام شروع کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز اپنے خطبہ میں دنیا بھر کے قائدین، علما اور عامتہ الناس کو ایک ضابطہ اخلاق کی طرف متوجہ کیا ہے، تاکہ نئی نسل کو تشدد اور دہشت گردی کی اس پھیلی ہوئی پھسلن پر مزید پھسلنے سے روک سکیں۔ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ دنیا بھر کے لیے ایک ایسا ضابطہ اخلاق تیار کیا جائے جس میں قائدین اور علماء اپنے پیغامات کے ذریعے نئی نسل جدید ذرائع ابلاغ اپنے فکری رجحانات اور فکری سمت کا تعین کر سکیں۔

تاہم داعش ایک چھوٹے سونامی کی صورت میں ابھر چکی ہے، اس سونامی میں انسانیت کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ہمیں اپنی فکر اور نظریات کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔ ہمیں اساتذہ آئمہ مساجد کو نئے ڈھنگ پر لانا ہو گا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو فلسفہ، آرٹس، خارجہ امور اور ادبیات کی تعلیم دے کر ان میں تحمل اور برداشت کو بڑھانا ہو گی۔ اس سلسلے میں ہمیں کھیلوں، موسیقی اور فلموں کے علاوہ زندگی سے محبت کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ اللہ نے ہمیں اس دنیا کی خوبصورتیوں سے حظ اٹھانے کے لیے بھیجا ہے۔

اس اس دنیا کو اور زیادہ خوبصورت بنانے میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ نہ کہ ہمیں یہاں قتل و غارت گری اور تباہی کے لیے بھیجا ہے۔ انتہا پسند اس دنیا کی تباہی کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہے۔ کیوں ایک ڈاکٹر خود کو دھماکے سے اڑائے جیسا کہ ڈاکٹر فیصل العنزی نے اڑایا۔ ہمارے معاشرے میں یہ ایک روگ ہے۔ مجھے نہ صرف خوشی ہے کہ سعودی حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے بلکہ یہ امید بھی ہے کہ داعش کے لیے مساجد میں محض بد دعائیں کرنے سے یہ بہرحال بہتر ہے۔ اس سے اپنی نوجوان نسل کو جدید طریقوں کی طرف لانے، انہیں انسانی اقدار اور زندگی سے محبت کی طرف لانے میں مدد ملے گی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.