.

سول نافرمانی کا پہلا نشانہ، ضربِ عضب

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بجلی اور گیس کے نئے بل آنے میں ابھی 2 ہفتے پڑے ہیں، کسی نے سول نافرمانی کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے یہ بل 2 ماہ تک یعنی ستمبر اور اکتوبر میں ادا نہ کئے تو پھر 3 ماہ بعد نومبر میں کہیں ان کے کنکشن کٹنے کی نوبت آئے گی لیکن صوبہ سرحد کی حکومت کے پیٹ میں ضرب عضب کے خلاف جو مروڑ تھا ، وہ عمران خاں کی سترہ اگست کی تقریر کے اگلے روز صبح سویرے عیاں ہو گیا۔ اس وقت جب میں یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں، ضرب عضب سے نفرت کے اظہار کے لئے صوبہ سرحد کی پولیس اور انتظامی مشینری بنوں اور اس کے نواح میں سرکاری سکولوں سے شمالی وزیرستان کے مہاجرین کو دھکے مار کر باہر نکال رہی ہے۔

عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن نہ کیا جائے۔ اس آپریشن کو رکوانے کے لئے انہوں نے مذاکرات کا ڈرامہ رچایا مگر دہشت گردوں نے اپنی کاروائیوں کو تیز تر کرتے ہوئے ایک جرنیل کو شہیدکیا، پشاور میں تین حملے کئے اور کراچی ایئر پورٹ کا محاصرہ کیا تو پھر کسی کے پاس فوجی آپریشن کی مخالفت کا جواز باقی نہ رہا، یہ آپریشن پہلے ہو جاتا تو اتنا خون خرابہ نہ ہوتا اور آپریشن ناگزیر ہو گیا تو عمران نے کہا کہ چلئے، آپریشن شروع ہو گیا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہوں مگر وہ زیادہ دیر صبر نہ کر سکا، اس نے فوج کی توجہ ضرب عضب سے ہٹانے کے لئے سونامی مارچ کا آغاز کر دیا اور دارالحکومت کا محاصرہ کر لیا۔ تازہ تریں دھمکی یہ ہے کہ لوگ سول نافرمانی کا آغاز کر دیں اور 2 دن بعد پارلیمنٹ، عدلیہ، ایوان صدر، ایوان وزیر اعظم اور غیر ملکی سفارت خانوں کا گھیرائو کر لیں۔

ضرب عضب کو ناکام بنانے کے لئے اس نے ایک اقدام اور کیا ہے، خیبر پی کے میں اس کی حکومت ہے۔ اس حکومت کے کچھ سکول بھی ہیں جو چھٹیوں کی وجہ سے بند پڑے تھے۔ شمالی وزیرستان کے لوگوں کو خود عمران خان نے غیرت مند قرار دیا تھا، سو ان کی غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ وہ ٹینٹ سٹی میں پناہ لیں، ان میں سے زیادہ تر تو مرفع الحال تھے، انہوں نے مکان کرائے پر لے لئے، کسی پر بوجھ نہیں بنے، باقی مہاجرین کی اکثریت کے لئے بنوں والوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے اور چند ایک خاندان سرکاری سکولوں میں بیٹھ گئے۔ ان سکولوں میں موسم گرم کی تعطیلات ختم ہو رہی ہیں، چنانچہ تیلی پہلوان کی سرکاری انتظامیہ مہاجرین کو سکولوں سے باہر دھکیل رہی ہے۔

پاک فوج اس سے پہلے ایک آپریشن سوات اور مالاکنڈ میں بھی کر چکی ہے، یہاں سے مہاجرین کا منہ زور سیلاب آیا تھا اور ساری دنیا نے دیکھا کہ ان مہاجرین کے لئے میلوں تک ٹینٹ سٹی آباد کئے گئے، مگر شمالی وزیرستان کے مہاجرین جو سات سے دس لاکھ کے درمیان ہیں، ان کی وجہ سے کہیں کوئی ایک خیمہ بھی نظر نہیں آتا۔ ان کے قیام و طعام کا بندو بست فول پروف کیا گیا ہے اور آپریشن کے مخالفین کو اس سے بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے، ان کا تو خیال تھا کہ ادھر فوج شمالی وزیرستان میں گھسے گی، ادھر مقامی آبادی ان کی تکا بوٹی کر دے گی اور مہاجرین کے سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا جا سکے گا، حکومت پاکستان کو عالمی ڈونرز کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑیں گے، اور بد انتظامی کی وجہ سے ہر جگہ مہاجرین اور انتظامیہ کے درمیان گھمسان کی ہاتھا پائی دیکھنے کو ملے گی۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ عمران خان اور اس کے حواریوں کی کوئی ایک خواہش بھی پوری نہیں ہوئی، اب وہ وفاقی حکومت اور فوج کے لئے نت نے مسائل کھڑے کر رہے ہیں۔

پہلا تو یہی کہ سرکاری سکولوں سے مہاجروں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، دوسرا سب سے بڑا مسئلہ دارالحکومت میں ریڈ زون پر یلغار کا ہے، تیسرا مسئلہ سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز ہے، سبھی تجزیہ کار حیران ہیں کہ ایک صوبائی حکومت وفاق کے خلاف سول نافرمانی کس طرح کر سکتی ہے، ہاں ایک طریقہ ہے کہ و فاق سے علیحدگی کا اعلان کر دے۔ یہ عجیب سول نافرمانی ہے کہ وفاق کے پول سے اپنا حصہ تو بٹورنا ہے مگر اپنے حصے کی ادائیگی نہیں کرنی۔ عمران خان نے اعلان تو کر دیا ہے کہ کراچی، فیصل آباد، لاہور کے تاجر اس کے ساتھ ہیں ، بھلا ان میں سے کوئی بھی پورا ٹیکس ادا کئے بغیر اپنا مال بندرگاہ یا ایئر پورٹ سے کیسے چھڑوا سکتا ہے، کیا وہ مسلح جتھے لے کر اپنا کنٹینر چھین کر لے آئے گا۔ واہ جی واہ! یہ عمران خان سیاستدان ہے یا پھولن دیوی کا پیروکار۔

مجھے آج ایک فائیو سٹار ہوٹل میں 8، 10 بندوں کو چائے پلانی ہے، کیا میں اس پر 17 فی صد ٹیکس ادا کئے بغیر ہوٹل سے باہر نکل سکتا ہوں، ہرگز نہیں، مجھے سامنے سول لائنز کی حوالات میں بند کر دیا جائے گا یا مینٹل ہسپتال والوں کے حوالے کر دیا جائے گا مگر یہ سلوک میرے ساتھ نہیں، عمران خان کے ساتھ ہونا چاہئے جو مجھے اس اقدام پر اکسا رہا ہے۔
ابھی ابھی عمران خان کے ایک صوبائی وزیر نے دھمکی دی ہے کہ اگر بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے وفاق نے ان کے میٹر کاٹے تو وہ تربیلا سے بجلی کی سپلائی بند کر دیں گے۔ یہ وزیر صاحب بڑے بھولے انسان ہیں، اگر تربیلا سے بجلی کی ترسیل بند کرنا کسی کے بس میں ہوتا تو بہت پہلے یہ کا م دہشت گرد کر چکے ہوتے، پاکستان نے تو سوئی گیس کی سپلائی بند ہونے کی دھمکیاں بھی بہت سُنی ہیں اور آئے روز پائپ کٹتے بھی ہیں لیکن آج تک کوئی مائی کا لال پاکستان کے لئے سوئی گیس کی ترسیل بند نہیں کر سکا۔

عمران خان کے چیلوں کو بھارت جیسا رویہ زیب نہیں دیتا، جس نے آہستہ آہستہ پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کر دیا ہے اور اب وہ وقت قریب آیا چاہتا ہے جب پاکستان صومالیہ یا حبشہ جیسے قحط کا شکار ہو جائے گا۔ عمران خان نے یہی گل کھلانا ہے تو پہلے اپنے چیلوں کو مکتی باہنی کی طرح بھارت سے ٹریننگ دلوائے کہ پاکستان کا حقہ پانی ، گیس ، بجلی کیسے اور کن ہتھکنڈوں کے ذریعے بند کرنی ہے۔

دارالحکومت میں دھما چوکڑی مچانے والے نہیں جانتے کہ وہ اب تک کتنے اقدامات اور اعلانات سے کتنی بار غداری کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ملک کے آئین میں غداری کی سزا کیا ہے، شاید ان کا وہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، ایک اور پنگا مول نہیں لے سکتا۔ کینیڈین شہری کو تو شاید کسی نے کوئی ضمانت فراہم کر دی ہو مگر عمران خان ایک لق و دق صحرا میں بھٹک رہا ہے۔ اس کے اوپر تو چند پتھر پھینک دیئے جائیں تو وہ گوجرانوالہ سے علیم خان کی بلٹ پروف کار میں بیٹھ کر دڑکی لگا جاتا ہے، وہ تو دہشت گردوں کی ایک دھمکی پر بنی گالہ جا چھپتا ہے۔

عمران خان اتنے مطالبے کرتا ہے تو آئیے آج ہم بھی اس سے ایک مطالبہ کر دیں کہ وہ شمالی وزیرستان کے مہاجرین کو صوبائی سکولوں کی عمارتوں سے دھکیلنے کا عمل فوری طور پر بند کر دے۔ یہ عمل انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔ یہ سکول عمران کی حکومت نے نہیں بنائے، یہ قوم کے گاڑھے پسینے کی کمائی سے تعمیر کئے گئے تھے، عمران کا ان پر کوئی حق نہیں، شمالی وزیرستان کے مہاجرین ہی ان کو اس وقت تک استعمال میں لائیں گے جب تک ان کی واپسی کے لئے حالات سازگار نہیں ہو جاتے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.