.

ضدی شہزادے کی ضد

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

13 اگست کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے '' تحریک انصاف کے ساتھ بے انصافی'' کے زیرعنوان ''جرگہ'' کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا تھا کہ '' مجھ جیسے قلم اور زبان کے مزدور کا تحریک انصاف یا کسی اور جماعت کے فیصلوں پر کوئی اثر ہونا ہے اور نہ ہو گا لیکن میں قوم کے سامنے یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہ رہا ہوں کہ تحریک انصاف ٹریپ ہورہی ہے اور سب سے بڑھ کر خیبرپختونخوا کی تحریک انصاف ٹریپ ہورہی ہے ۔ یہ ایسی ٹریپ ہے کہ جس کی قیمت پی ٹی آئی بلکہ پوری قوم کو لمبے عرصے تک ادا کرنی ہو گی۔ اپنی یہ رائے کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کے بعض رہنماوں کے گوش گزار کی تھی اور گزشتہ روز عمران خان کے ساتھ مختصر ملاقات میں بھی ان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ پھر بھی میری دعا ہے کہ میرے تمام خدشات غلط ثابت کر دیں۔ دعا ہے کہ اللہ میرا تجزیہ غلط اور عمران خان کا درست ثابت کر دے ۔ اللہ انہیں سرخرو اور مجھے اس معاملے میں شرمندہ کر لے ''۔ آمین۔

افسوس کہ اس گنہگار کی دعا قبول نہ ہوئی اور تجزیہ درست ثابت ہوا۔ مغل بادشاہ کو گھر رخصت کرنے کے لئے میدان میں نکلنے والے ضدی شہزادے نے اپنے آپ کو ایسی بند گلی میں بند کیا کہ اب وہ سیاسی لیڈر کم اور ڈی جے یا انٹرٹینر زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ جس شخص کو وہ اپنا چپڑاسی رکھنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ ان کے دست راست اور انسٹرکٹر بن گئے ہیں۔ لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے جمع ہوتے اور ساتھ ساتھ گانے بھی سنتے تھے لیکن اب وہ کارکنوں کو جمع رکھنے کے لئے گانے کا لالچ دیا کرتے ہیں۔ آئے تھے حکومت کو لیکن نچارہے ہیں پرویز خٹک ، اعظم سواتی اور اسد عمر کو۔ انہوں نے اپنے ممبران اسمبلی کو بے توقیر بنایا۔ کیونکہ جس اسمبلی میں وہ بیٹھے ہیں انہوں نے اس کو بوگس اور جعلی قرار دیا ۔ اب ظاہر ہے جب تک وہ اس اسمبلی میں بیٹھے رہیں گے لوگ ان ممبران کو بھی بوگس اور جعلی سمجھیں گے ۔

ان کو ان ٹیکسوں سے تنخواہیں ملتی رہیں گی جن کے بارے میں وہ عوام کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ اسے ادا نہ کریں جبکہ تنخواہ وصول کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر نواز حکومت کو ٹیکس ادا کرتے رہیں گے ۔جب پی ٹی آئی کے ممبران خود منسٹر ہاوسز، کے پی ہاوس اور پارلیمنٹ لاجز میں سرکاری بجلی اور ائیر کنڈیشنڈ وغیرہ کی سہولتوں سے مستفید ہوں گے لیکن حلقوں میں عوام سے کہیں گے کہ بجلی کے بل نہ دیں تاکہ ان کی بجلی کٹ جائے تو عوام کی نظروں میں ان ممبران کی کیا عزت رہ جائے گی ۔ پختونخوا حکومت کے بجٹ کا نوے فی صد سے زیادہ حصہ وفاقی حکومت کے اس ڈویزیبل پول (قابل تقسیم محاصل) سے آتا ہے جس کو نہ اداکرنے کا عمران خان صاحب قوم کو تلقین کررہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر سرکاری خرچے پر سرکاری گاڑی میں اسلام آباد آتے اور وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ پھر لوگوں کو بارش میں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر خود فرنٹئر ہائوس روانہ ہوتے اور اگلے دن پھر سرکاری گاڑی میں سرکاری خرچے پر دھرنے کی جگہ پر آ کر قوم سے سول نافرمانی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

اب کیا یہ اس منصب کی بے توقیری نہیں۔ انگریزی پر تو خان صاحب خاطر خواہ عبور رکھتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ان کا حافظہ متاثر ہو گیا ہے کیونکہ وہ ایک دن ٹیکنوکریٹ حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسرے دن فرماتے ہیں کہ ٹینکوکریٹ کی نہیں غیر سیاسی لوگوں کی حکومت (حالانکہ دونوں ایک چیز ہے ) پھر تیسرے دن کہتے ہیں کہ غیر سیاسی تو جانور ہوتے ہیں۔ پہلے انہوں نے ماوزے تنگ کی روح کو تڑپا دیا کیونکہ ایسا لانگ مارچ زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ جس میں لیڈر بلٹ پروف گاڑی میں چلتا ہے اور کارکن بسوں میں خوار ہوتے ہیں ۔ ان کے کارکن سوشل میڈیا پر مجھے گالی دیتے رہے کہ عمران خان کے بیٹے مارچ میں شریک ہوں گے اور میں نے خواہ مخواہ ان کے لیڈر کو طعنہ دیا ہے لیکن مارچ سے دو دن قبل انہوں نے میری نظروں کے سامنے ان کو لندن روانہ کیا اور پھر جلسے میں خود اعلان بھی کیا کہ ان کے بچے لندن میں ہیں ۔ جب بات نہ بنی تو انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت چھوڑنے اور اسمبلی تحلیل کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن پرویز خٹک ان سے زیادہ ہوشیار نکلے ۔ انہوں نے اپنے صوبے میں اپوزیشن سے خفیہ رابطہ کیا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک جمع کردیں تاکہ عمران خان کہیں بھی تواسمبلی نہ تڑوائی جاسکے ۔

چنانچہ سول نافرمانی کا شوشہ نکالا گیا لیکن اتنا بھی نہ سوچا گیا کہ وہ پارٹی کیسے سول نافرمانی کی تحریک چلا سکتی ہے کہ جو خود ایک صوبے میں حکمران ہو اور حکومت چھوڑنے پر آمادہ بھی نہ ہو۔ گویا ماوزے تنگ کے بعد اب گاندھی جی اور باچا خان کی روحوں کو بھی تڑپایا گیا۔ ایک طرف پرویز مشرف کی کابینہ کے وزراء یعنی جہانگیر ترین اور شیخ رشید کھڑے ہیں ۔ دوسری طرف زرداری صاحب کی کابینہ کے سابق وزیر شاہ محمود قریشی کھڑے ہیں ۔ پیچھے سے ہارس ٹریڈنگ کے بادشاہ اعظم سواتی نظرآرہے ہیں اور نعرہ لگایا جا رہا ہے انقلاب کا ۔ اب یہ انقلاب کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے ؟ پشاور آندھی اور سیلاب کی زد میں تھا۔ سولہ افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ تھی اور وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ سمیت اسلام آباد میں محو رقص تھے۔

اب یہ اس صوبے کے لوگوں کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ بارش برس رہی ہو تو دھرنا کے شرکاء کو بے یارو مددگار چھوڑ کر خود بنی گالہ روانہ ہوجائے اور اگلے دن تین بجے کی بجائے شام چھ بجے تشریف لے آئے اور موسم خوشگوار ہو تو رات نمائشی طور پر کنٹینر پر سو کر گزاری جائے لیکن جونہی دھوپ نکلے تو آرام کے لئے پھر بنی گالہ کا رخ کیا جائے ۔ یہ قیادت کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے ؟ دوسروں کے بچوں سے زندگی کی قربانی مانگی جا رہی ہے لیکن خود اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے سکتے ۔ یہ قربانی کے لفظ کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تم کچھ لوگوں کو ساری زندگی کے لئے اورسب لوگوں کو کچھ وقت کے لئے بے وقوف بنا سکتے ہو لیکن ساری دنیا کو ساری زندگی کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ وہ سوشل میڈیا جو شیریں مزاری اور علوی وغیرہ ہمیں گالیاں دینے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے اب الحمد للہ خود عمران خان کی بھی خبر لینے لگا ہے اور وہ ڈرپوک جو سامنے آنے کے بجائے ہمیں گالیوں سے نوازتے تھے، اب انشاء اللہ عمران خان کو بھی حصہ دینے لگے ہیں ۔ اب اس وقت کا انتظار ہے کہ جب جہانگیر ترین، شیریں مزاری اور اعظم سواتی وغیرہ اسی برقی رفتاری سے ساتھ چھوڑیں گے جس برق رفتاری سے وہ عمران خان کے گرد جمع ہو گئے تھے ۔ قومی حکومت بن بھی گئی تو وزارت تو صرف شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے حصے میں آئے گی ۔ باقیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ تکبر شہرت کا ہو، عزت کا ہو، دولت کا ہو، طاقت کا ہو حتیٰ کہ تقویٰ کا ہو ، انسان کو رسوا کر کے ہی چھوڑتا ہے۔ اور اب آخرمیں ایک نظم جو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفیٰ عزیز آبادی نے گذشتہ رات پی ٹی آئی کے قائدین کی طرف سے کارکنوں کو بارش میں سڑکوں پر چھوڑ کر خود گھروں اور ہوٹلوں کو روانہ ہو جانے پر تحریر کی۔

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم

(آزادی مارچ میں رات بھر سڑک پر بارش میں بھیگتے ہوئے کارکنوں کا اپنے لیڈر سے سوال)

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم یہاں کیا کریں گے

دیئے خوب دھوکے ہمیں لیڈروں نے
ہمیں اور دھوکہ نہ تم دے کے جاؤ

یہ طوفانی بارش یہ ٹھنڈی ہوائیں
یہی کہہ رہی ہیں کہ تم لوٹ آؤ

کرو یاد تم نے یہ وعدہ کیا تھا
کہ کچھ بھی ہو ہم ملکے دھرنا کریں گے

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم یہاں کیا کریں گے

تمہارے لئے اپنے گھر چھوڑ آئے
بتاؤ سہی کیا یہ اس کا صلہ ہے

بھٹکتے ہیں سڑکوں پہ ہم مارے مارے
نہ کوئی ٹھکانہ ہے نہ آسرا ہے

تمہیں اپنا رہبر بنایا تھا کیونکر
اب اس پر ہمیشہ ہی ماتم کریں گے

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم یہاں کیا کریں گے

ر اک موڑ پر ہی کہا تھا یہ تم نے
بنائیں گے سب ملکے نیا گلستاں ہم

بدل دیں گے سارا نظامِ حکومت
بچھادیں گے قدموں میں اک کہکشاں ہم

تمہی جب کرو گے کھلی بے وفائی
بتاؤ کہ کس پر بھروسہ کریں گے

اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
تمہارے بنا ہم یہاں کیا کریں گے

مصطفیٰؔ عزیزآبادی
16اگست 2014ء

بہ شکریہ روزنامہ ''جنگ''

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.