.

نریندر مودی کی پاکستان دشمنی

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نریندر مودی نے کارگل کی چوٹی پر چڑھ کر پاکستان کی مسلح افواج کی کردار کشی کرتے ہوئے اسے چیلنج کیا ہے کہ وہ انتہائی خطرناک قسم کی دہشت گردی کراتی ہے لیکن روایتی جنگ Conventional Warfare کے قابل نہیں رہی۔ ان کی اس تقریر کا مقصد بھارت کی افواج میں پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف نفرت پھیلا کر انہیں پاکستان کے خلاف جنگ کرنے پر اکسانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا جبکہ موصوف نے سیاچن گلیشیر جیسے فروعی نوعیت کے تنازعے پر بھی پاکستان سے مفاہمت کو بقول ان کے پاکسان کی بھارت کے خلاف ''در پردہ جنگ'' روکنے سے مشروط کر دیا ہے۔

نریندر مودی کی لداخ یاترا کا ایک مقصد کشمیری پنڈتوں کو ان کے آبائی گاؤں میں آباد کرنا ہے جو اندرون کشمیر جاری عوام کی جنگ آزادی کے دوران فرار ہو کر جموں اور ہندوستان منتقل ہو گئے تھے۔ انہیں یہ یاد نہ آیا کہ 1947ء میں بھارت کی فوج نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے کے بعد جموں کی مسلم اکثریت کی تطہیر کر کے اسے ہندو اکثریتی صوبے میں تبدیل کر دیا تھا اور 4 لاکھ مسلمانوں کو ان کے آبائی قصبات اور گاؤں سے نکال کر وہاں مشرقی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کو آباد کر دیا تھا۔ کاش کے ہندو انتہا پسند پارٹی کے وزیر اعظم کو مفرور کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جموں کے مسلمانوں کی آباد کاری کا بھی خیال آتا جو بھارت کے ریاستی دہشت گردی کا شکار ہو کر نقل مکانی پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔

اگر نریندر مودی کو اس میں ذرا بھی شک ہے کہ کشمیری عوام اپنے وطن پر بھارت کے فوجی قبضے سے مطمئن اور خوش ہیں تو وہ 15 اگست کو وادئ کشمیر میں عام ہڑتال کا منظر ملاحظہ فرمائیں۔ سری نگر، بابراموں، گل مرگ حتیٰ کہ دور افتادہ کوہستانی بستیوں میں احتجاج اور سوگ کا عالم ہے اور اگر کہیں کوئی پرچم لہراتا نظر آتا ہے تو وہ پاکستان کا ہلالی پرچم ہے۔ ایک طرف تو گجرات کا قصائی نریندر مودی پاکستان سے سیاچن مسئلے پر بھی مفاہمت کے لیے تیار نہیں ہے دوسری طرف بھارت کا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ اس کا ملک تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس مسئلے پر انسانی بنیادوں پر بھی مفاہمت کا خواہاں ہے نریندر مودی کی رسم تاجپوشی کے موقع پر جب وزیر اعظم پاکستان اس سے ملے تو اس نے رسمی مزاج پرسی کے بعد انہیں ایک تحریری فہرست تھما دی جس میں گڑے مردے اکھاڑنے کی فرمائش کی گئی تھی یعنی ممبئی حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی بھارت کو حوالگی یا پاکستان کی جانب سے انہیں سزا دینے اور لشکر طیبہ، جماعۃ الدعوۃ کی بندش اور ان کے رہنماؤں کو سخت ترین سزاؤں کا مطالبہ۔ اس کے بعد جب امریکہ کا سیکرٹری خارجہ جان کیری بھارت گیا تو اپنی بھارتی ہم منصفب ششما سوراج کی کرسی سیدھی کرتے ہوئے ان کے ساتھ ایک مشترکہ اعلانیہ میں ممبئی واردات میں ''ملوث'' پاکستانیوں کو سزائیں اور مذکورہ جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کے مطالبے کے ساتھ دونوں ملکوں نے پاکستان کو یہ دھمکی دی تھی کہ امریکہ اور بھارت لشکر طیبہ اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کریں گے اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کریں گے۔

اس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے دبے الفاظ میں احتجاج کیا تھا جبکہ اسے امریکہ اور بھارت کے سفیر کو طلب کر کے ان سے اس شر انگیز اعلانیے کے بارے میں استفسار کرنا چاہیے تھا لیکن حکومت پاکستان نے بھار ت امریکہ مشترکہ احتجاج پر کماحقہ مؤثر رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔

بھارت اور امریکہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی تعمیل میں کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان میں الحاق پر رائے شماری پر اتفاق کیا تھا اور عالمی تنظیم نے امریکی امیر البحر Admiral Chester Nimitz کو مذکورہ رائے شماری کا منتظم بھی مقرر کر دیا تھا لیکن جب سلامتی کونسل کی قرار دادوں مجریہ 21 اپریل 1948ء ، 13 اگست 1948ء اور 4 جنوری 1949ء کی رو سے اسے اپنی افواج کی کچھ نفری مقبوضہ کشمیر سے واپس بلانی تھی تو وہ رائے شماری کے وعدے سے مکر گیا اور 60 کے اوائل میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے دیا۔

جہاں تک اقوام متحدہ کے منشور کا تعلق ہے تو بھارت کی اس حکم عدولی پر سلامتی کونسل کو باب 7 کی شقوں 39 سے 47 کے تحت اس کا ناطقہ ناکہ بندی، اس کی حدود میں طیاروں کی انتباہی پرواز اور بالآخر اقوام متحدہ کے پرچم تلے عالمی تنظیم کی فوج کی تعزیری کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ لیکن بدقسمتی سے سوویت یونین کا بھارت کے حق میں ایسی کسی قرار داد کے ویٹو کی دھمکی کے باعث سلامتی کونسل مفلوج ہو گئی اور بھارت کی جموں، لداخ اور وادئ کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو مستحکم کرنے کا موقع ہاتھ آگیا چنانچہ اس نے عوامی جدوجہد کو کچلنے کے لیے تعزیری ضوابط کے نفاذ کے لیے فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعداد بڑھا کر سات لاکھ کر دی۔ اگر کشمیر بھارت کے دوسرے صوبوں کی طرح اس کا اٹوٹ انگ ہوتا تو وہاں سات لاکھ فوج کیوں تعینات کر دی گئی تھی؟ اگر کشمیر کے باشندے بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو وہاں کشمیری پولیس یا کشمیری فوجی دستے لگائے جا سکتے تھے لیکن وہاں تو سکھوں، مرہٹوں، راجپوتوں، گورکھوں، تلنگوں، بٹالیوں اور مدراسیوں پر مشتمل فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ جو نہ تو کشمیریوں کی زبان ان کے رسم و رواج ان کی طرز معاشرت سے واقف ہے نہ ہی ان کا رنگ روپ ان کی نسل اور ذات پات کشمیریوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

وہ سرے سے بیرونی قابض فوج لگتی ہے اور جس بے دردی سے وہ عوامی احتجاج کو کچلتی ہے اس کا اندازہ ان کے ہاتھ 80 ہزار کشمیریوں کے قتل سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت کے قابض فوجیوں نے پندرہ ہزار کشمیری عورتوں کی عصمت دری کی ہے، یہ انسانیت کے خلاف جرم نہیں تو اور کیا ہے؟ اس بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تفصیلی رپورٹس موجود ہیں۔ ایسی صورت میں جب بھارت سلامتی کونسل کی قرار دادوں ، قانون انسانیت (جنگی قوانیں) ہیگ کنونشن 1907ء، چار جنیوا کنونش 12 اگست 1949ء، 1977 کے اضافی پروٹوکول I اور II کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے تو اگر بین الاقوامی تنظیم اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی نہیں کرتی تو کیا کشمیری عوام کو غیر قانونی غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کا حق نہیں ہے؟ جنوبی افریقہ اور جنوبی رہو ڈیشیا کے عوام کو نسل پرست حکومتوں کے خلاف جدوجہد کا حق حاصل تھا ؟ پھر انسانی حقوق کی بحالی کی عوامی جدوجہد کیسے دہشت گردی ہو گئی اور ناجائز بھارتی قبضہ قانونی ہو گیا؟ واضح رہے کہ اب کشمیری عوام نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ بھارت کا قبضہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور اپنی آزادی کی جنگ خود لڑیں گے نہ کہ پاکستان کے کمزور اور منافق حکمرانوں کے بل بوتے پر جو بھارت سے تجارت کے لالچ میں اس سے کشمیریوں کی آزادی کا سودا کرتے آئے ہیں۔ جب ترکمانستان، تاجکستان، کرغیزستان، ازبکستان، تارقسنان اور آذر بائیجان سوویت یونین کے تسلط سے آزاد ہو سکتے ہیں تو کشمیر بھارتی بنیوں کے قبضے سے کیوں آزاد نہیں ہو سکتا؟

بہ شکریہ روزنامہ ''نئی بات''

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.