.

انقلابی خیالات

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پھر وہی مسئلہ جب تک یہ کالم آپ تک پہنچے گا تب تک انقلابی ڈرامے کا ڈارپ سین شاید آپ سب دیکھ چکے ہوں۔ مگر چونکہ ہمارے ملک میں ہر ڈارپ سین میں سے ایک نیا ڈراما پیدا ہوجاتا ہے اور ہر آخری تقریر چھ گھنٹے کے بعد نئی آخری تقریر کے بادلوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ لہٰذا اس تقریر کے کچھ حصے آپ کے لیے پھر بھی کارآمد ہوں گے۔

اس تمام ہنگامے میں مجھے بہت سی چیزوں نے متاثر کیا۔ وہ خاکروب جو سیکڑوں کی تعداد میں انقلابی فضلاء اور عوامی کچرا اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں۔ اْن کی ہمت کو سلام وہ ماں باپ جو موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے بے تا ب تھے مگر انقلابی کیفیت کی وجہ سے اپنی اولاد کا قیمتی وقت ضایع ہوتے ہوئے بے بسی سے دیکھ رہے ہیں میرے لیے ضبط کی بہتر ین مثال ہے۔ تاجر، ریڑھی والے مزدور جن کے کاروبار اور دیہاڑیاں اس نظریاتی جنگ میں تحلیل ہوگئی ہیں ان کو بھی صبر کا تمغہ ملنا چاہیے۔

اور وہ سب لوگ جو ٹی وی کے ذریعے پھیلائے جانے والے صوتی اثرات، جس میں ہمارے دانش مند اینکر اپنی خوبصورت آوازوں اور عقل کا حصہ چوبیس گھنٹے ڈال رہے ہیں،کو ہضم کر رہے ہیں بالخصوص حسن کارکردگی کی فہرست میں پہلے نمبر حاصل کرنے کی مستحق ہیں۔ ٹیلی ویژن کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہویہ یقیناً ہوا ہے کہ آپ ہر چیز کو اپنی مرضی سے بیان کر سکتے ہیں۔ قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر جگہ جگہ اپنا مقصد کے لیے بیان کر دینا اب جائز ہو گیا ہے۔ خون ریز معاملات کو گانے بجانے، ٹھٹھے اور بڑ ھکوں سے ہلکا پھلکا کر کے قوم کے سامنے پیش کرنا اب وطیرہ بن گیا ہے۔آپ کسی کو گالی نکال سکتے ہیں، جان سے مارنے کی دھمکی دے سکتے ہیں،تمام خاندان کی بے عزتی کر سکتے ہیں۔

قانون، آئین، پارلیمینٹ، سپریم کورٹ، پولیس، انتظامیہ، سب کو کیچڑ میں گھسیٹ سکتے ہیں۔اور سب کچھ کرتے ہوئے خود کو فرشتہ صفت، معصوم، عادل،منصف،جمہوری اور اس جیسے دوسرے اولیا ء نما صفات سے آراستہ کرتے ہوئے بوڑھوں، بچوں، عورتوں کو ناچ گانے کی ترغیب دے کر نظارہ فرما سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ مملکت پاکستان میں اب ممکن ہو چکا ہے۔ ہندوستان ہمارے منہ پر روزسے طمانچے مارے، باجوڑ میں دہشت گرد حملے کریں، کراچی میں پولیس والے مارے جائیں،آپریشن ضرب عضب چلتا رہے اس کا نئے پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، نیا پاکستان صرف ان افکار پر مبنی ہے جو آج کل آبپارہ سے پھوٹ رہے ہیں۔

یہ سب سے دلچسپ پہلو ایک واقعے کے سامنے ماند پڑجاتے ہیں اور وہ تھا خٹک صاحب کا بہترین ڈانس۔میں ان کی اس صلاحیت سے واقف نہیں تھا۔میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ ایسی صلاحتیوں سے ناواقف رہنا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔مگر چونکہ وزیراعلی خیبر پختو نخوا نے اپنی قابلیت کو لاتعداد کیمروں کے سامنے منکشف کیا تو میرا متاثر ہونا بنتا ہے۔کیا زبردست طریقے سے تھرتھرائے جھٹکوں میں ایسی جان تھی اور پاؤں کی حرکت، لاجواب! مجال ہے کہ کہیں پر چوکے ہوں۔ یوں لگ رہاتھا کہ جیسے روز ریاضت کرتے ہیں۔

اب نہ جانے اس بہترین کارکردگی سے وہ خاندان مطمئن ہوئے ہوں گے کہ نہیں جو اس دن طوفانی بارشوں کی زد میں تھے۔ دودرجن کے قریب ہلاکتیں اور سو سے زائد زخمی۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ۔ مگر وزیراعلی اپنی انقلابی خوشیوں میں مست۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ اس پر میڈیا میں اکا دکا رپورٹیں چلنے کے بعد خاموشی چھا گئی۔ ظاہر ہے انقلاب کے دنوں میں فروعی باتوں پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ کراچی میں طوفان آیا ہوتا، ہلاکتیں ہوتیں قائم علی شاہ یہ کام کر رہے ہوتے یا خدانخواستہ کوئٹہ میں ایسا واقعہ ہوتا اور ڈاکٹر عبدالمالک اسلام آباد میں ایسا کررہے ہوتے،یا لاہور کسی وبال میں پھنسا ہوتا اور شہباز شریف یہی منظر دے رہے ہوتے تو میڈیا کیا کرتا۔ اس پر کیا بحث ہو تی۔ نئے پروگرامز کیے جاتے ،حوالے دیے جاتے اور کیسے یہ مقدمہ بنایا جاتا کہ یہ سب ان عہدوں کے لائق نہیں ان کو فورا ہٹا دینا چاہیے۔ مگر آج کل اس قسم کے موازنے میں نہیں پڑنا چاہیے یا مدیر لکھا ہوا کاٹ دیتا ہے یا سوشل میڈیا پر کاٹنے والے متحرک ہوجاتے ہیں، خاموشی میں عافیت ہے۔

اور پھر ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اٹک کے اس پار خیبر پختو نخوا کا صوبہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہاں کی حکومت اسمبلی عوامی مینڈیٹ وغیرہ جیسے معاملات میں سب سے مختلف ہیں۔ تمام ملک میں دھاندلی ہوئی خیبر پختو نخوا میں الیکشن شفاف ہوا۔ ہر جگہ ہر ریٹرنگ افسر نے دو نمبری کی خیبر پختو نخوا میں ان کا ایمان قائم رہا۔پاکستان کے ہر حصے میں الیکشن کمیشن بکائو مال بن گیا۔ خیبر پختو نخوا میں اس نے اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہر جگہ پنکچر لگیں خیبر پختو نخوا کی ٹیوب سلامت رہے۔

ادھر کاسارا مال کھوٹا اور ادھر ہر کوئی کھرا ہے۔ ادھر جھوٹ کا راج ہے ادھر سب کچھ سونا ہے۔ ادھر استعفٰی ہے ادھر مشاورت۔ ہمیں اس سے پتہ چلاکہ پاکستان میں امن تبھی ہوگا جب ہر صوبہ میں پرویزخٹک جیسے بااصول اور باصلاحیت افراد کی حکومت قائم ہوگی۔جب صدر، وزیراعظم، تحریک انصاف کا ہوگا۔جب عدلیہ انقلا بیوں کے احترام میں کھڑی ہوگی اور پولیس کارکنان کے نام سے کانپے گی، جب میڈیا ہر وقت سجدے کرے گا۔تعریفوں کے پل باندھے گا اور اپنے بالشت بھر جسم پر دھڑا ہوا سر اس وقت اٹھا پائے گا جب اس کی نظر بس پہاڑ قد دیوتا کی ٹھوڑی سے آگے نہ جاپائے گا۔جب نا خلف سیکیو رٹی اہلکار طالبان کے حولے کیے جائیں گے۔
فوج فاٹا سے واپس بلوا کر جی ایچ کیو تک محدود کر دی جائے گی۔ ہندوستان کے ساتھ جوہری توانائی کے باہمی منصوبے دونوں ممالک کی سرحدوں پر دوستی کی مثال کے طور پر قائم کیے جائیں گے۔اور ہاں جب چیف آف آرمی اسٹاف کا تعین یکسر نئے نظام کے تحت ہوگا جس کا قاعدہ اور قانون نئی انقلابی حکومت بنا ئے گی ،یہ یاد رہے کہ چین،فرانس،ایران اور سابق سویت یونین ہر جگہ پر انقلابیوں نے سب سے پہلے نئے فوجی اداروں کے قیام کا اعلان کیا۔

پاکستان میں انقلاب کی تکمیل ایسے ہی اقدامات سے ہوگی تب راج کریں گی خلق خدا۔اور سلمان ہر ہفتے نیو یارک سے پاکستان آکر ہمیں انقلابی ترانے سنایا کرے گا۔یہ سب کچھ ان بہترین پہلو میں سے چند ایک ہیں جنہوں نے مجھے متاثر کیا ہے۔آپ سب ہی متا ثرین انقلاب ہیں جو تبدیلی آئی ہے وہ ہم نے دیکھ لی ہے۔جو آئے گی وہ بھی ہم دیکھیں گے۔مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی اس تبدیلی کی خواہش لے کر پاکستان آئی تھیں مگر پھر اللہ کو پیاری ہوگئیں اور تبدیلی کے کھیل سے جناب آصف علی زردای لطف اندوز ہوئے، دیکھتے ہیں اس مرتبہ مستفید ہونے والا کون ہوگا۔

بہ شکریہ روززنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.