انا کی سیاست۔۔

عارف نظامی
عارف نظامی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اداروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف دونوں رہنما اکٹھے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ۔عمران خان کی سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی دھمکی کو میدان سیاست کے طول و ارض میں کہیں بھی پذیرائی نہیں ملی۔ یہ سراسر غیر آئینی مطالبہ اور بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے دکھائے ہوئے راستے سے روگردانی کے مترادف ہے۔ قائد اعظم نے گاندھی کی سول نافرمانی کی تحریک کی بھرپور مخالفت کی تھی ۔ قائد اعظم جذباتیت اور لاابالی پن پر مبنی سیاسی روش کے قطعاً قائل نہیں تھے۔ جب علی برادران نے 1919ء میں برصغیر کو دارالحرب قرار دیتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کو بچانے کے لیے خلافت کے حق میں تحریک چلائی تو آل انڈیا مسلم لیگ نے اس کی حمایت نہیں کی تھی۔ یہ تحریک ناکام ہوئی اور اس میں حصہ لینے والے برصغیر کے مسلمانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔

بد قسمتی سے ہمارے اکثر سیاستدان یا تو برصغیر کی تاریخ اور قائدِ اعظم کی جدوجہد سے نابلد ہیں یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے قائد کے پیغام کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگرچہ میاں نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کی مسلم لیگ کا احیا کیا ہے لیکن اگرایک طائرانہ نظر ڈالیں تو سوائے مسلم لیگ کے نام کے پاکستان میں پائی جانے والی کسی بھی مسلم لیگ کا علامہ اقبال کے افکار اور قائد اعظم کے عمل سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ جہاں تک عمران خان صاحب کا تعلق ہے تو قائد کی تعلیمات پر عمل تو کجا شاید انہوں نے کبھی ان کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔ عمران خان تو اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی اپنے تر کش میں موجود تمام تیر چلا چکے تھے غالباً ان کو تو یہ سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ اپنی صفوں میں موجود ہاکس سے کیسے نبٹنا ہے۔ ان کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک کی کال سنگین حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں، خود ان کی پارٹی میں موجود معتدل اور سمجھ دار حلقوں نے بھی ان کے اس اعلان کو پسند نہیں کیا۔

یقینا کچھ ایسے نادان دوست جو بزعم خود جی ایچ کیو کے قریب ہیں ان کے لیے عمران خان کا اعلان باعث طمانیت ہو گا۔ کوئی عجب نہیں کہ یہ مشورہ بھی انہی کی جانب سے آیا ہو۔ اپنے جوشیلے پیروکاروں کو صراط مستقیم پر رکھنا لیڈر شپ کا امتحان ہوتا ہے لیکن تحریک انصاف کے سربراہ نے تو جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ اب اپنے ساتھیوں سمیت ریڈ زون کی طرف چڑھ دوڑے ہیں۔ان کی جماعت کے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کی گیدڑ بھبھکیوں کے جواب میں یہ دھمکی دے ڈالی کہ خیبر پختونخوا حکومت تربیلا ڈیم کو بند کر دے گی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اپنے وزیر کو نکیل ڈالنی چاہیے۔ غالباً صوبائی وزیر اطلاعات نے بھی اس دھمکی کے مضمرات پر پوری طرح غور نہیں کیا۔

ایک اطلاع کے مطابق اتوار کو بنی گالہ میں بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اس بات کے حامی تھے کہ اسمبلیوں سے استعفے دے دئیے جائیں اور خیبر پختونخوا حکومت بھی مستعفی ہو جائے لیکن پرویز خٹک نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی۔ ان کے علاوہ بعض دیگر رہنمائوں کی طرف سے بھی تجویز کی حمایت نہ ملنے پر عمران خان اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے اور انہوں نے قومی، پنجاب اور سندھ اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ داغ دیا۔ اب اپنی ناقص حکمت عملی کی بنا پر وہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کو نہیں بچا سکے۔ تحریک انصاف کے ناراض ارکان نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ساری گیم ہاتھ سے نکل جانے کے خوف کے پیش نظر انہیں سوموار کو استعفوں کا اعلان کرنا پڑا لیکن پھر بھی خیبر پختونخوا کی حکومت ابھی تک پاس رکھی ہوئی ہے۔ اس کو شاید وہ ترپ کا پتہ سمجھے بیٹھے تھے۔ ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ٹیکس نیٹ بہت محدود ہے اور جن پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے وہ بھی ٹیکس دینے سے کتراتے ہیں تو لوگوں کو ٹیکس نہ دینے پر اکسانا طفلانہ سی بات لگتی ہے۔ عمران خان کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کا اداکردہ ٹیکس نواز شریف اور ان کے حواریوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے حالانکہ ان ٹیکسوں سے خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی حصہ ملتا ہے یعنی خان صاحب اسی درخت کو کاٹنا چاہتے تھے جس کی شاخ پر وہ بیٹھے ہیں۔

ادھر علامہ طاہرالقادری ایک ہی سانس میں کہتے ہیں کہ انہیں مارشل لاء قبول نہیں لیکن ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ حکومت چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ماورائے آئین اقدامات کے سوا نواز شریف حکومت سے چھٹکارا کیسے حاصل ہو گا۔ خدارا دھرنا دینے والے دونوں حضرات پاکستان کے حال پر رحم فرمائیں اور یہاں بالواسطہ طور پر فوجی مداخلت کی کوششوں کو ترک کر دیں دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے اعلان کے مطابق ریڈ زون کا علاقہ فوج کی حفاظت میں دے دیا گیا ہے۔ جہاں تک ان کے دیگر مطالبات کا تعلق ہے تو مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی بین الجماعتی کمیٹیوں سے بیٹھ کر بات کریں اور اگر نواز شریف صاحب واقعی مستعفی ہو کر مڈ ٹرم انتخابات کرانے پر راضی ہو جاتے ہیں تو فبیہا لیکن اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے بصورت دیگر اپنے دوسرے قابل عمل مطالبات پر زیادہ زور دینا چاہیے مزید برآں دھرنے دینے والے لیڈرز اپنے ساتھ لائے گئے مردوں ،عورتوں ،بچوں کا بھی خیال کریں جو حبس اور گرمی کے موسم میں امیدوں کے سہارے بیٹھے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size