جھوٹے آدمی کی سچی باتیں

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

جھوٹا آدمی سچ بولنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ سچائی خطرے میں ہے ۔سچ تو وہی ہوتا ہے جو سچے انسان کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ جھوٹے انسان کا سچ منافقت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایک سیاسی جماعت کی سچائی دوسری سیاسی جماعت کا جھوٹ ہے۔ ایک ملک کی سچائی دوسرے ملک کی سچائی نہیں ہے ۔ ہم اپنے ملک کی خاطر مر جائیں تو شہید کہلاتے ہیں دشمن اپنے وطن پر قربان ہو جائے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں چلا گیا۔ اکثر اوقات ہمارا سچ دوسروں کیلئے جھوٹ ہوتا ہے لیکن کئی سیاست دان اور علماء اپنوں اور پرایوں میں بیک وقت مقبول ہونے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ وہ مومنوں اور کافروں میں بیک وقت مقبولیت کیلئے کبھی اردو بولتے ہیں کبھی انگریزی بولتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے منافقت کہتے ہیں لیکن میری دانست میں منافقت بہت سخت لفظ ہے کیونکہ نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو ہے۔ جب کوئی صرف اپنے آپ کو سچا اور دوسروں کو جھوٹا قرار دینے لگےتو اسے نرم سے نرم الفاظ میں خود پسند کہا جا سکتا ہے۔ خود پسند انسان میں تکبر آ جاتا ہے اور وہ جھوٹ بھی خوب بولتا ہے۔

جھوٹے انسان کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتا ہے اور کثرت کے ساتھ وعدے کرتا ہے۔ ایفائے عہد مومن کی پہچان ہے۔ سچا انسان زیادہ وعدے نہیں کرتا کیونکہ وعدوں کی کثرت انسان کی عظمت ختم کر دیتی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں پاکستانی قوم نے ٹی وی چینلز کی لائیو نشریات میں بہت سے لیڈروں کو بہت سے وعدے کرتے ہوئے دیکھا اور سنا۔ ایک طرف عمران خان اور طاہر القادری تھے جو لاہور سے اسلام آباد روانہ ہونا چاہتے تھے دوسری طرف حکومت تھی جو انہیں لاہور تک محدود رکھنا چاہتی تھی۔ عمران خان کے احتجاج کا آغاز 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہوا۔ انتخابات میں دھاندلی کا الزام میری نظر میں غلط نہیں تھا لیکن عمران خان صرف پنجاب میں دھاندلی پر سراپا احتجاج تھے حالانکہ دھاندلی چاروں صوبوں میں ہوئی تھی۔ طاہر القادری ملک میں انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا ایجنڈا عمران خان سے مختلف نظر آتا تھا تاہم اکثر اہل فکر و دانش کا خیال تھا کہ دونوں کو پرامن احتجاج کیلئے اسلام آباد جانے کی اجازت ملنی چاہئے۔ پیپلز پارٹی، اے این پی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی ، جے یو آئی اور دیگر جماعتوں نے حکومت سے کہا کہ طاہر القادری اور عمران خان کو اسلام آباد آنے دیا جائے ۔ دونوں کو اجازت مل گئی دونوں مل کر بھی دس لاکھ لوگ اکٹھے نہ کر سکے۔

تحریک انصاف نے حکومت سے وعدہ کیا کہ وہ اسلام آباد کے ریڈزون میں داخل نہیں ہو گی۔ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ اس کا احتجاج بھی پر امن ہو گا اور وہ کسی عمارت میں نہیں گھسیں گے۔ عمران خان پوری قوم کو کہہ رہے تھے کہ 14 اگست کو ایک نیا پاکستان وجود میں آئے گا لیکن وہ 15 اگست کو اسلام آباد پہنچے۔ 19 اگست تک عمران خان اور طاہر القادری نے اسلام آباد میں اپنے دھرنے جاری رکھے اور روز نئے نئے وعدے کئے۔ 19 اگست کی شام دونوں نے اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ مارچ سے پہلے عمران خان نے بار بار وعدہ کیا کہ وہ ڈپلومیٹک انکلیو یا کسی سرکاری عمارت کے اندر نہیں گھسیں گے۔ حکومت نے مظاہرین کو روکنے کیلئے پورے انتظامات کر رکھے تھے۔ وفاقی دارالحکومت میں پولیس اور رینجرز کے 30 ہزار جوان موجود تھے لیکن میری رائے یہ تھی کہ اگر مظاہرین پارلیمینٹ ہائوس کے سامنے پرامن دھرنا دینا چاہتے ہیں تو انہیں نہ روکا جائے۔ پیپلز پارٹی کے قائدین کا خیال تھا کہ عمران خان کئی وعدے توڑ چکے ہیں اب ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے عمران خان اور طاہر القادری کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت دیدی۔ ریڈ زون کے قریب پہنچ کر عمران خان نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعظم نے کل شام تک استعفیٰ نہ دیا تو وہ وزیر اعظم ہائوس میں گھس جائیں گے تاہم طاہر القادری نے وضاحت کر دی کہ وہ کسی عمارت میں نہیں گھسیں گے۔

عمران خان اور طاہر القادری اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ پارلیمینٹ ہائوس کے سامنے پہنچ چکے ہیں اس سارے منظر سے کئی پریشانیاں اور بدگمانیاں جنم لے رہی ہیں۔ سٹاک مارکیٹ نیچے گر رہی ہے، ڈالر پھر سے مہنگا ہو رہا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ شاہراہ دستور پرعام پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی ختم ہو گئی۔ پرویز مشرف کے دور میں شاہراہ دستور اور آس پاس کے کچھ علاقوں کو ریڈ زون قرار دیکر یہاں عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ جب کبھی وکلاء یا صحافیوں نے شاہراہ دستور پر احتجاج کی کوشش کی تو ان پر لاٹھیاں اور آنسو گیس برسائی گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں ریڈزون عام پاکستانیوں کیلئے ممنوع رہا لیکن عمران خان اور طاہر القادری نے ریڈزون میں عام پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی ختم کرا دی۔ دوسرے الفاظ میں وزیر اعظم نوازشریف نے اپنی قوم پر جمہوریت اور آمریت کا فرق واضح کر دیا۔ طاہر القادری اور عمران خان کے جلوسوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ان عورتوں اور بچوں پر ربڑ کی گولیاں برسانا اور آنسو گیس پھینکنا مناسب نہ تھا۔ اگر نواز شریف بھی ریڈ زون میں وہی کچھ کرتے جو حسنی مبارک اور جنرل السیسی نے التحریر اسکوائر میں کیا تھا تو بہت خون خرابہ ہوتا۔ کاش کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی حکومت 17 جون کو لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی جو 19 اگست کی رات نواز شریف حکومت نے اسلام آباد میں کیا تو اتنی کشیدگی پیدا نہ ہوتی۔ نواز شریف نے سیاسی لچک اور عاجزی کا مظاہرہ کر کے عمران خان اور طاہر القادری پر اخلاقی برتری قائم کر دی ہے۔ اب کوئی وزیراعظم ہائوس اور پارلیمینٹ ہائوس میں گھس کر خون خرابے کو دعوت دے گا تو ذمہ داری حکومت پر عائد نہ ہو سکے گی۔ یہ پہلوبھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد میں آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج موجود تھی لیکن حکومت فوج کو مظاہرین کے سامنے نہیں لائی۔

فوج اہم سرکاری عمارتوں کے اندر موجود رہی۔ پارلیمینٹ ہائوس کے سامنے پرامن احتجاج سے جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہو گا لیکن اگر اس احتجاج میں تشدد شامل ہو گیا تو نقصان صرف جمہوریت کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہو گا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف سے استعفیٰ لئے بغیر اور نیا پاکستان بنائے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ وہ مڈٹرم الیکشن چاہتے ہیں جبکہ طاہر القادری انقلاب کے نعرے لگا رہے ہیں۔ عمران خان ذرا یہ بتا دیں کہ اگر بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ استعفے نہیں دیتے اور صوبائی اسمبلیاں نہیں توڑتے تو مڈٹرم الیکشن کیسے ہو گے؟ ان کا اصل ایجنڈا آئندہ انتخابات میں دھاندلی کو روکنا تھا۔ انہیں چاہئے کہ انتخابی اصلاحات پر حکومت کے ساتھ بات چیت کریں اور عدالتی کمیشن کے ذریعے انصاف حاصل کریں یہی ان کی اصل فتح ہو گی۔ عمران خان کا مفاد جمہوری نظام کی بقاء میں ہے طاہر القادری کا ایجنڈا سمجھ سے بالاتر ہے تاہم ان کے ساتھ لاہور میں شہبازشریف کی حکومت نے ظلم کیا انہیں بھی انصاف ملنا چاہئے۔ پاکستان سچے وعدوں اور انصاف سے مضبوط ہو گا جھوٹ بولنے والے پاکستان کے دشمن ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size