.

ایٹمی اثاثےمحفوظ ہیں۔مغرب سازش چھوڑ دے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اغیار کا حتمی ایجنڈا اس وقت اور اس برس یہی ہے کہ وہ پاکستان کو انتشار کا شکار کریں تاکہ اس کے ایٹمی اثاثہ جات کے غیرمحفوظ ہونے کا تصور اُجاگر کیا جا سکے۔ اُس کے لئے چاروں طرف سے کوشش ہو رہی ہے، دھرنے ہیں، سول نافرمانی کی تحریک ہو یا کچھ اور۔ یہ سیاسی میدان میں ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی بھی اس کا با عث بنا مگر عوامی ردعمل ’’انقلابی‘‘ اور ’’آزادی‘‘ دھرنوں کے حق میں نہیں۔ دونوں جماعتیں مطلوب عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں مگراند یشے بہر حال مو جود ہیں ۔ دوسرے غیرملکی ایجنٹ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کے لئے سرگرم ہیں، تیسرے غیرملکی گروپ سندھ اور خصوصاً کراچی میں پولیس اہلکاروں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے اور چوتھے پاکستانی افواج کو مشرقی و مغربی سرحدوں پر مصروف رکھا جا رہا ہے یہی نہیں وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ اُس کے خلاف مغربی اخبارات میں یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ سیاسی میدان میں اسٹیبلشمنٹ مبینہ طور پراِن دھرنوں سے اپنی اہمیت اور حیثیت کو مضبوط کر رہی ہے ۔ ایسے میں مغربی اخبارات اور تجزیہ نگار اور Stratfor جیسے اداروں نے لکھنا شروع کردیا ہے کہ معاملات نراجیت کی طرف جارہے ہیں۔

انہوں نے ’’قابو نراجیت‘‘ کی اصطلاح کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اگر کوئی اِس گمان میں ہو کہ نراجیت محدود پیمانے پر ہو اور قابو میں رہے تو وہ مضبوط ہوں گے اور سیاسی حکومت کو کمزور کریں گے تویہ ان کی خام خیالی ہے جب نراجیت پیدا ہوتی ہے تو اُس کے بعد وہ پھیلتی چلی جاتی ہے اور بے قابو بھی ہوجاتی ہے جو کسی المیہ پر جا کر منتج ہوتی ہے۔ ہمارے خیال میں ہماری اسٹیبلشمنٹ یہ تصور نہیں رکھتی، اس لئے کہ زمانہ قدیم، جدید اور درمیانے دور کے فلسفی اس بات پر متفق ہیں کہ نراجیت سے آمریت اچھی جو ملک کے مفاد میں کام کرے اور آمریت سے جمہوریت بہتر جو عوام کی فلاح کے اصول پر اپنی حکومت چلائے تاہم پاکستان میں موجود نام کی جمہوریت عوام کی فلاح و بہبود کے کام کرنے میں تاحال ناکام رہی ہے اور موجودہ حکمرانوں نے جہاں اپنے دورِحکومت میں اپنا فریضہ احسن طریقے سے نہیں نبھایا تو وہ مبینہ طورپر ماضی میں بھی اپوزیشن کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بھی ناکام رہے بلکہ یہ تصور عام ہے کہ انہوں نے امریکہ کے کہنے پر اپنی باری کا انتظار کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک رہنما نے قومی مفاہمت کے نام پر امریکی ایجنڈا پر اس شرط پر کام کیا کہ پی پی پی دو مرتبہ باری لے گی اور مسلم لیگ (ن) ایک مرتبہ اور اِس سے پہلے کوئی آمریت نہیں آسکتی۔ پی پی پی حکومت نے کرپشن کے ذریعے ملک کو کھوکھلا کیا، موجودہ حکومت کے بارے میں بھی اسی قسم کا جھوٹا یا سچا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

اِس بے چینی اور بڑھتے ہوئے انتشار کے بطن سے جو چیز دائو پر لگ رہی ہے وہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ اگرچہ ہم یہ کہتے ہیں کہ مغرب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کنٹرول کرنے کا خیال دل سے نکال دے مگر وہ تاحال باز نہیں آیا ہے۔ انتشار پیدا کرنے کے جو عوامل ہیں اُن سب کا ڈائریکٹر ایک ہی ہے۔ موجودہ حکومت ہو یا نئی پیدا ہونے والی جمہوریت کے علمبردار پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ معاملات کو ایک حد سے آگے نہیں جانا چاہئے۔ آپ مظاہرے کرتے رہیں، حکومت کو دبائو میں لاتے رہیں مگر انتہا کو نہ چھوئیں کہ بند گلی میں پھنس جائیں کیونکہ مغربی ممالک کے ڈھنڈورچی دانشور اور تحقیقاتی رپورٹنگ کا لبادہ اوڑھ کر اِس صورتِ حال کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سوالیہ نشان کھڑا کررہے ہیں کہ کیا کسی ایسے ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونا چاہیں جہاں نراجیت کا رین بسیرا ہونے جارہا ہو۔

مائیکل کریپن 90 کی دہائی سے پاکستان آتے رہے ہیں۔ وہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی منصوبہ کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ ہماری اُن سے کئی ملاقاتیں کراچی میں ہوتی رہی ہیں۔ کبھی وہ آتے تھے تو کبھی پیٹرلوائے جو آج کل امریکی محکمہ دفاع کے لئے کام کررہے ہیں اس وقت اِن کے ذمہ تین کام تھے ایک یہ کہ پاکستان ایران کو ایٹمی صلاحیت فراہم نہ کرے اور دوسرا یہ کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے اور تیسرے پاکستان چین تعلقات کو بگاڑیں۔ یہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب پیٹرلوائے مارچ 1997ء کو کراچی تشریف لائے اور کہا کہ آپ کے دوست چین نےبھارت کو ایٹمی فیول فراہم کیا، اس وقت پیٹرلوائے اور مائیکل کریپن دونوں یہ کہتے تھے کہ بھارت کی بات اور ہے کہ وہاں سول حکومت ہے اور پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ بہت مضبوط ہے اگر اُن کے پاس ایٹم بم جیسا عام تباہی پھیلانے والا ہتھیار آجائے گا تو پاکستان میں ہمیشہ کے لئے آمریت لاگو ہوجائے گی مگر اُن کی بات غلط ثابت ہوئی البتہ انہوں نے ایک سول حکمراں کو ایٹمی دھماکہ کرنے کی سزا ملٹری کی قیادت سے تصادم کرا کر دلوائی۔ میں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ افغانستان میں امریکہ ہمیں دھوکہ دے کر چلا گیا تو پیٹر لوائے نے کہا کہ ہم نے نہیں پاکستان نے دھوکہ دیا کہ افغان جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیار بنا ڈالے۔ اس کے بعد سارے وقت مائیکل کریپن بھارت کی طرف داری کرتے رہے۔

اس کا احوال میں نے اپنی کتاب Asian Atomic Club میں تحریر کیا ہے۔ کچھ دنوں پہلے مائیکل کریپن نے لکھا تھا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام کے حوالے سے خرگوش کی رفتار سے دوڑ رہا ہے اوربھارت کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے مگر جیتے گا بھارت ہی۔ اب انہوں نے اگست 2014ء میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو ایٹمی مسابقت جاری ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے بہتر ہے کہ وہ ملک جو ناکام ریاست بننے کی طرف بڑھ رہا ہے وہ (پاکستان) یہ مسابقت بند کر دے۔ 90 کی دہائی میں وہ ہمارے پروگرام کو رول بیک کرانے کے چکر میں پڑے رہتے تھے اور اب وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم بھارت کی بالادستی قبول کرلیں۔ پھر مئی 1990ء میں امریکی وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹرڈاکٹر گرے سمیور نے مجھ سے ڈائریکٹ سوال کیا کہ کیا پاکستان ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی دیدے گا۔ یہ بات میں نے دو ایک مضامین ایک 26 جون اور دوسرا 20 دسمبر 1990ء کو اسی اخبار (جنگ) میں تحریر کیا کہ ایک میں لکھا تھا کہ ہم ایسا ارادہ نہیں رکھتے مگر جب امریکہ کی چیرہ دستیاں بڑھیں تو حکومت کو مشورہ دیا کہ ایٹمی صلاحیت ایران کو دیدی جائے۔

یہ ایک قسم کا اشارہ تھا کہ ہمیں زیادہ تنگ نہ کیا جائے، تیسرے سمیورہرش ایک نامور تحقیقاتی رپورٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے عدم استحکام کا شکار ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔ بھلا ابھی پاکستان میں انتشار کی نوبت کب پہنچی ہے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تمام وسائل ذرائع اور رابطے پاکستان کو اس طرف لے جانے کے لئے استعمال کررہے ہیں مگر ہم نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے لوگ یہاں تک کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری اس حد تک جائیں گے کہ پاکستان کو انتشار کا شکار کردیں۔ حکومت اُن کو ’’چہرہ بچائو‘‘ پالیسی پر عمل کرکے معاملات کو درست کرسکتی ہے اوراس طرح وہ مغرب کو اپنا خواب پورا کرنے کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.