.

کشمیر کی سیاست

کلدیپ نائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 آزاد خیالی کا آئینہ دار نہیں یہ مخصوص شِق ہے جو ریاست جموں کشمیر کو ایک خصوصی درجہ دیتی ہے۔ جموں کشمیر کے لیے یہ حیثیت وہاں کے عوام کی بہت طویل اور نہایت سخت جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی جو انھوں نے برطانوی راج اور ریاست کے مہاراجہ کے خلاف کی۔

شیخ عبداللہ قیادت کر رہے تھے اور انھوں نے ریاست کے لیے خود مختار درجہ حاصل کر لیا جو کہ مطلق العنان، سیکولر جمہوریہ بھارت میں اس وقت نا ممکن نظر آتا تھا۔ دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے علاوہ باقی تمام محکمے ریاست کی تحویل میں دے دیے گئے جب کہ بھارتی پارلیمنٹ کے پاس ریاستی اسمبلی کی مرضی کے بغیر ریاست کے لیے کسی قسم کی قانون سازی کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ ریاست پاکستان میں ضم ہو سکتی تھی لیکن اس نے سیکولر بھارت کے ساتھ یکجہتی اختیار کرنا بہتر سمجھا کیونکہ کشمیریوں کی پوری کی پوری جدوجہد سیکولر تھی۔

اس زمانے میں دی گئی ضمانت مقدس ہے جسے وہ لوگ قلمزد نہیں کر سکتے جن کی سوچ مختلف ہے۔ ریاست نے ایک علیحدہ آئین تیار کر کے بھی منظور کر لیا تا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

اگر اس پر اب خط تنسیخ پھیرا گیا تو یہ اس اعتماد سے غداری کے مترادف ہو گا جو جموں و کشمیر کے عوام نے نئی دہلی حکومت پر کیا تھا۔ اگر کوئی تبدیلی کرنی ہی ہے تو یہ لوگ خود کر سکتے ہیں۔ بھارتی یونین (وفاق) جس کے ساتھ کہ ریاست نے الحاق کیا وہ بھی ریاست کے اختیارات میں اس کے عوام کی مرضی کے بغیر ردوبدل نہیں کر سکتی۔

نئی دہلی حکومت کو مزید محکموں کا اختیار دینا یا نہ دینا سری نگر کا استحقاق ہے۔ اسی افہام و تفہیم پر شیخ عبداللہ نے یونین میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جو عناصر اس سمجھوتے کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ نہ بھارت کی کوئی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی ریاست کے عوام کی۔ درحقیقت کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ زیادہ تر غیر متعلقہ اور الجھائو پیدا کرنے والا ہے۔
اب حریت کانفرنس کے بعض لیڈروں کی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر باسط علی سے ملاقات کا معاملہ دیکھیں۔ ایسی ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے کبھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا کیونکہ ان کو باہمی افہام و تفہیم کی کوشش تصور کیا جاتا تھا۔ اس کو پس پردہ سرگرمیوں یعنی بیک ڈور سفارتکاری میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

شبیر شاہ محض دوسرے کشمیری لیڈروں کی روایت پر عمل کر رہا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر کو مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نریندر مودی حکومت نے اس قسم کی روایت ختم کر دی ہے۔ چنانچہ نئی دہلی حکومت نے باقاعدہ ایک درخواست بھی کی تھی کہ حریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقات نہ کی جائے۔ اس بات کے باوجود کہ بھارت میں اکثریت کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کے خلاف ہے لیکن پاکستانی ہائی کمشنر نے یہ ملاقات کر لی۔ انھیں بھارت میں پھیلے ہوئے غم و غصے کے بارے میں علم ہونا چاہیے تھا۔

اس ملاقات میں سوائے اس کے کہ پاکستانی ہائی کمشنر کی بہادری ظاہر ہو سکتی ہے اور کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ نئی دہلی حکومت کی کشمیر کے بارے میں پالیسی یہ ہے کہ وہ اس کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اس کے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لے۔ شیخ عبداللہ نے اپنی قائدانہ سوچ کے تحت اس مسئلے کو زندہ رکھا ہوا تھا لیکن جب اس نے بھارت کو چیلنج کیا تو ان کو دور دراز ریاست تامل ناڈو کی خصوصی جیل میں بارہ سال کے لیے قید کر دیا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جواہر لعل نہرو نے اپنی ذات پر اقتدار کا بھوکا ہونے کا داغ مٹانے کے لیے شیخ کو جیل سے رہائی کے بعد اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دیدی۔ لیکن تاریخ کی نظر میں نہرو ایک ایسے سنگدل حکمران ہیں جو اپنے قریب ترین دوستوں کو بھی نہیں بخشتے۔ یہی سوچ وہاں بھی کام کرتی ہے جہاں لوگ آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن انھیں علیحدگی پسند قرار دیدیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے مطالبے کو بنیاد پرستی سے منسوب کرتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ اس سودا بازی میں سیکولر شیخ کی خدمات کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ حریت کانفرنس کے اندر داخلی اختلافات بھی موجود ہیں جس دھڑے کی قیادت سید اسعد شاہ گیلانی کر رہے ہیں وہ ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا حامی ہے اور دوسرا دھڑا جس کی قیادت یسین ملک کے پاس ہے وہ آزادی چاہتا ہے۔ اور پھر اس جماعت میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ابہام کا شکار ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب زیادہ تر کشمیری بھارت سے ذہنی طور پر الگ ہو چکے تھے اور وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے۔

اگر کشمیر میں حق خود ارادیت دیدیا جاتا تو کشمیری عوام رائے شماری میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا ووٹ دیتے لیکن آج کشمیریوں کی بڑی اکثریت آزادی چاہتی ہے۔ یسین ملک انھیں پاکستان نواز عناصر سے الگ کر کے اپنے ساتھ لے آیا ہے اور انھیں ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے مطالبے پر آمادہ کر لیا ہے۔

تاہم حریت کو جس بات کا احساس نہیں کہ بہت سی باتیں خیالی طور پر تو ممکن ہو سکتی ہیں لیکن عملی طور پر نہیں۔ جب اگست 1947ء میں انگریزوں نے بھارت کو چھوڑا تو انھوں نے تمام راجواڑوں کو اختیار دیا کہ اگر وہ بھارت یا پاکستان میں کسی کے ساتھ شامل نہ ہونا چاہیں تو وہ آزاد ریاست کے طور پر رہ سکتے ہیں۔ اس وقت کے جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ آزاد رہیں گے۔ لیکن چاروں طرف سے خشکی میں گھری ہوئی یہ ریاست بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے بھارت اور پاکستان دونوں کی دست نگر تھی اور راجہ بھی کلی طور پر کسی ایک کے اوپر انحصار کرنے کے حق میں نہیں تھا۔

چونکہ جموں و کشمیر کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اس لیے پاکستان کو توقع تھی کہ کشمیر اس کے ساتھ شامل ہو گا لیکن جب ایسا نہ ہوا تو پاکستان نے بے قاعدہ دستے بھیج دیے جنھیں باقاعدہ دستوں کی حمایت حاصل تھی۔ مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگی جس نے اصرار کیا کہ وہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بغیر فوجی دستے نہیں بھیجے گا چنانچہ مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ ایک سمجھوتے Instrument of Accession Act پر دستخط کر دیے۔

حریت کانفرنس کا کام اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جتنا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کا تھا۔ ریاست میں دو حصے آزادی کے خلاف ہیں۔ ایک تو جموں کی ہندو اکثریت جو بھارت کے ساتھ ہی وابستہ رہنا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں لداخ کی بدھ اکثریت بھی بھارت کے ساتھ رہنے کی خواہاں ہے۔ لہٰذا آزادی کا مطالبہ وادی کے %98 مسلمانوں کا ہے۔

جب بھارت تقسیم در تقسیم کے عمل سے عہدہ برآ ہونے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور جب ایک سیاسی پارٹی کھلم کھلا ہندو کارڈ کھیل رہی ہے تو یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کانگریس یا کوئی اور سیاسی پارٹی جن میں کہ کمیونسٹ بھی شامل ہیں وہ حریت کانفرنس کے مطالبے کی حمایت کرے گی۔ ویسے تو ساری سیاسی جماعتیں آزادی کے مطالبے کے خلاف ہیں اگرچہ ان میں سے بعض ریاست کو زیادہ اختیارات تفویض کرنے کے حق میں ہیں۔

تقسیم کے 67 سال بعد بھی اس وقت کے لگنے والے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے۔ آخر حریت کس بنیاد پر یہ توقع کرتی ہے کہ بھارت کے عوام ایک اور تقسیم گوارا کر لیں گے۔ باوجود اس کے کہ کشمیریوں کے جذبات کتنے بھی گہرے اور مضبوط کیوں نہ ہوں، اگر تقسیم ایک بار پھر مذہب کی بنیاد پر کی گئی تو بھارت سیکولر ریاست کے طور پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ درست ہے کہ بھارت کے کروڑوں مسلمان بھی برابر کے شہری ہیں اور انھیں یرغمال بنا کر نہیں رکھا جا سکتا لیکن وادی کی تقسیم کے اسقدر خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں جن کا کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حریت کو اپنے باطن میں بھی جھانکنا چاہیے اور اپنی حکمت عملی میں اسی اعتبار سے تبدیلی پیدا کرنی چاہیے تا کہ اس کی اہمیت کم نہ ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.