دھرنوں کے پیچھے کیا ہے؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

انقلاب کے علم بردار دوغلی سیاست کی سب سے بڑی علامت چوہدری برادران، لوٹا ازم اور جاگیرداری کی سب سے بڑی علامت غلام مصطفیٰ کھر، استحصالی گدی نشینی کی سب سے بڑی علامت شاہ محمود قریشی، کارپوریٹ کلچر اور سرمایہ داری کی سب سے بڑی علامت جہانگیر خان ترین اور اسی قماش کے دیگر لوگ ہوںیا جس انقلاب کے داعیان فائیو اسٹار اور بلٹ پروف ائیرکنڈیشنڈ کنٹینروں میں مزے لوٹ رہے ہوں جبکہ کارکن بھوکے پیاسے گرمی اور بارشوں کا سامنا کر کے زمین پر رل رہے ہوں، تو پھر اس انقلاب کے ایسے ہی نتائج نکلتے ہیں۔ پاکستانی سیاست گالم گلوچ کا دوسرا نام قرار پایا۔ دھرنے، کنسرٹ بن گئے ۔ دنیا میں پاکستان مذاق بن گیا۔ آئی ایم ایف نے جو مذاکرات اسلام آباد میں کرنے تھے، دبئی میں کرنے پر اصرار کیا۔ مالدیپ اور سری لنکا کے صدور نے پاکستان کے دورے منسوخ کئے اور چین کے صدر کا دورہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج بیٹھ گیا۔ امن وامان کی بحالی پر اربوں روپے مزید لگ گئے۔

لاکھوں پولیس اہلکار اور ان کے اہل خانہ گزشتہ دس روز سے عذاب میں مبتلا ہیں۔ فوج شمالی وزیرستان میں اسی طرح مصروف ہے جس طرح کہ دس روز قبل تھی لیکن قوم کو اس کی خبر ملی رہی ہے اور نہ افواج پاکستان کے ترجمان بننے والے صحافی اور اینکرز ان کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہاں کے سات لاکھ آئی ڈی پیز اسی طرح بے گھر ہیں جس طرح کہ دس روز قبل تھے لیکن کوئی ان کا نام تک نہیں لے رہا۔ کوئٹہ میں ائیر بیسز پر اسی طرح کے حملے ہوئے جس طرح کہ کراچی ائیرپورٹ پر ہوئے تھے لیکن یہاں سیکورٹی فورسز نے غیرمعمولی حکمت، جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا تاہم دھرنوں کی وجہ سے کسی نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ سیکورٹی فورسز نے زیارت میں قائداعظم کی ریزیڈنسی پر حملے کے اصل کرداروں کو گرفتار کیا لیکن کسی نے انہیں شاباش تک نہیں دی کیونکہ توجہ دھرنوں پر رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ یہ تحریک قوم کے اصل مسائل کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہے اور نہ قوم کے اصل نمائندے اس کی قیادت کررہے ہیں ۔ قوم کے اصل مسائل بدامنی، مہنگائی، کرپشن، ناانصافی، جہالت، بے روزگاری، فرقہ وارانہ اور لسانی منافرت، ناقص خارجہ پالیسی، سول ملٹری تعلقات میں تنائو اور اسی نوع کے دیگر ایشوز ہیں، جن میں نوازحکومت بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے لیکن یہ تحریک وسطی پنجاب کے چند حلقوں اور ماڈل ٹائون کے واقعے کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہے۔

تماشہ یہ ہے کہ دھرنا دینے والی دونوں جماعتیں ایک ہی دن ایک ہی شہر سے چلیں لیکن ساتھ نہ مل سکیں۔ اسلام آباد پہنچیں تو الگ الگ بیٹھیں۔ اب اسلام آباد میں ایک ہی علاقے میں بیٹھی ہیں لیکن ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتیں ۔ وزیراعظم سے استعفیٰ دونوں طلب کر رہے ہیں لیکن خان صاحب مڈٹرم انتخابات جبکہ قادری صاحب قومی حکومت چاہتے ہیں۔ دوسری طرف تمام کی تمام سیاسی جماعتیں نظام اور نواز شریف کے ساتھ یک آواز ہیں لیکن دونوں انقلابی مصر ہیں کہ ان کے مطالبات کو پوری قوم کے مطالبات مان لئے جائیں ۔ کہتے ہیں کہ نوازشریف وعدے پورے نہیں کرتے اور ہم بھی مانتے ہیں کہ عموماً نہیں کرتے لیکن اپنی وعدہ خلافی کا یہ عالم ہے کہ دو دن پہلے تقریر میں ارشاد فرمایا کہ میں نے چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا ہے کہ ہم ریڈ زون کی طرف نہیں جائیں گے لیکن اگلے دن چل پڑے ۔ ایک صاحب تقریر سورہ فاتحہ کی ایک مخصوص آیت پڑھ کر شروع کرتے ہیں اور دوسرے صاحب شیخ الاسلام ہیں لیکن ان دھرنوں میں باجماعت نماز کا اہتمام نہیں ہوتا۔ شیخ الاسلام نے مذاکرات کے لئے کمیٹی تشکیل دی تو اس میں غلام مصطفی کھر اور مسلم لیگ (ق) کے چیمہ صاحب کو بھی ڈال دیا۔ مذاکرات شروع ہوئے اور سپریم کورٹ کو ثالث بنانے کی تجویز آئی تو (ق) لیگ کے نمائندے نے کہا کہ اسے سپریم کورٹ پر اعتماد نہیں۔ کھر صاحب مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے تو سیاسی کمیٹی نے ان کی توجہ دلائی کہ علامہ صاحب تو مڈٹرم انتخاب نہیں قومی حکومت چاہتے ہیں۔ گویا کمرے کے اندر جاکر علامہ صاحب کی دست ہائے راست کے مطالبات بھی الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا حال یہ ہے کہ شام کی تقریب کے بعد قریبی علاقوں کے کارکن گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں ۔ باہر سے آنے والے مرد و خواتین اسلام آباد کی سڑکوں پر خوار ہونے لگ جاتے ہیں ۔ خان صاحب اور ان کے قریبی لوگ ائیرکنڈیشنڈ کنٹینر میں گھس جاتے ہیں۔

ایم این ایز اپنی اپنی لاجز کو چلے جاتے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، وزراء اور ایم پی ایز پختونخوا ہاوس کا رخ کر لیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے لوگ سرینا ہوٹل یا کسی ایک بنگلے کا رخ کر لیتے ہیں ۔ اعظم سواتی اپنے بنگلے میں اپنے گروپ کے لیڈروں کی محفل سجالیتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ایم این ایز اور ایم پی ایز قریشی صاحب اور جہانگیر ترین کو کوستے رہتے ہیں جبکہ ان کا گروپ مطلوبہ تعداد نہ لانے کے لئے خیبر پختونخوا والوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اپنی وزارت اعلیٰ اور اسمبلی بچانے کے لئے درمیان میں نواز شریف کیمپ، جے یو آئی اور قومی وطن پارٹی کے رہنمائوں سے بھی رابطے کر لیتے ہیں۔ رہے گجرات کے چوہدری برادران جو انقلاب کے اصل نقشہ گر ہیں تو انہوں نے قادری صاحب کو رام رکھنے کیلئے اپنے دو ساتھیوں کامل علی آغا اور اجمل وزیر کو ان کے ساتھ رکھا ہے اور خود روٹی شوٹی کھلا کر بقول شخصے چوبیس گھنٹے فتنہ اور فساد کیلئے کوئی راستہ نکالنے میں مگن رہتے ہیں ۔ اس انقلاب کا انجام کیا ہو گا، ابھی تو یہ واضح نہیں لیکن ایک انجام بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جھولی میں کوئی خیر نہیں آئے گی اور جب اندر کی کہانیاں باہر آئیں گی تو مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور شیریں مزاری کے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن چوہدری برادران کے گھروں کے سامنے دھرنے دینے پر مجبور ہوں گے۔

جب پی ٹی آئی کے مخلص اور انقلابی کارکنوں پر واضح ہو گا کہ ان تینوں یا پھر انکے اعظم سواتی اور محمد عاطف جیسے کارندوں نے عمران خان صاحب کو اس راستے پر لگایا اور انہیں مقتدر قوتوں کی طرف سے جھوٹی یقین دہانیاں کرائیں کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنا یا جارہا ہے تو یقینا ان کارکنوں کے غیض وغضب کا رخ ان کی طرف ہو گا۔ اسی طرح جب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مریدوں پر انکشاف ہو گا کہ کس طرح منظم سازش کے تحت گجرات کے چوہدریوں نے کینیڈا اور لندن میں رابطے کر کے علامہ صاحب کو ورغلایا اور آخری وقت تک ان کو یہ غلط اور مبالغہ آمیز خبریں دیتے رہے کہ مقتدر حلقے نواز شریف کو جیل بھیجنے اور انہیں امیر المومنین بنانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اب جبکہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے کیمپوں میں موجود ان سازشیوں کی آرزوئیں پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں کیونکہ اوّل الذکر نے عمران خان کو اور ثانی الذکر نے علامہ صاحب کے چاہنے والوں کو بند گلی میں بند کر دیا ہے تو ان کے پاس واحد آپشن فساد کا بچ گیا ہے اور اب یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح فساد ہو جائے۔ اس فساد کے نتیجے میں یہ لوگ اب فوج کو سیاست میں ملوث کرکے اپنی خفت مٹانے اور اپنے اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے کہ فوج تادم تحریر حب الوطنی اور پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کر کے اپنے آپ کو سیاست کے گند سے بچاکے رکھ رہی ہے لیکن خاکم بدہن ان لوگوں کی آرزو پوری ہوگئی تو اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا کہ خان صاحب کو اور علامہ صاحب کو مذکورہ کرداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان دشمن عالمی کرداروں نے بھی اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں گالیوں سے نوازنے والے پی ٹی آئی اور بددعائوں سے نوازنے والے عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاید اب بھی بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی لیکن انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب سب کچھ کھل کرسامنے آجائے گا اور پھر ان کی گالیوں کا رخ ہم جیسوں کی بجائے قریشی، ترین، مزاری اور سواتی جبکہ بددعائوں کا رخ گجرات کے چوہدریوں کی طرف ہوگا جبکہ میڈیا کے حلقوں میں یہ سعادت طلعت حسین، حامد میر، نصرت جاوید، مشتاق منہاس یا سلیم صافی جیسوں کی بجائے ان لوگوں کے حصے میں آئے گی جنہیں نے اس ''آزادی'' اور ''انقلاب'' کا چار چاند لگانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size