.

پاک بھارت مذاکرات، نان اسٹارٹر

ریاض احمد سید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان کی شرکت کے بعد امید بندھی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان عرصہ سے معطل مذاکرات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔ اور اس خبر پر کہ دونوں طرف سے سیکریٹری خارجہ 25 اگست کو نئی دہلی میں ملاقات کریں گے، سفارتی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ مگر جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان کی شرکت کے بعد امید بندھی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان عرصہ سے معطل مذاکرات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔ اور اس خبر پر،کہ دونوں طرف سے سیکریٹری خارجہ 25 اگست کو نئی دہلی میں ملاقات کریں گے، سفارتی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور بھارتی حکومت نے معمولی سی بات کا بتنگڑ بنا کر مذاکرات منسوخ کر دیئے۔ پاکستان کو دوش یہ دیا گیا کہ اس کے ہائی کمشنر عبدالباسط کشمیری رہنمائوں کو بلا بلا کر مل رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک معمول کی کارروائی تھی اور اس سے پہلے بھی ایسے مواقع پر دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کشمیری رہنمائوں سے مشاورتی ملاقاتیں کرتے آئے ہیں۔

جنھیں بنیاد بنا کر خطہ کے دو اہم ہمسایہ ممالک کے مابین مذاکرات پہلی بار منسوخ کئے گئے ہیں۔ ہائی کمشنر ابھی صرف حریت کانفرنس کے رہنما شبیر شاہ سے ہی ملے تھے اور باقی رہنمائوں کے ساتھ اپائمنٹس فائنل کی جارہی تھیں، کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ شریمتی سجاتا سنگھ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور پاکستانی ہائی کمشنر کی اس "حرکت" پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سندیسہ دیا کہ ان حالات میں ان کا اپنے پاکستانی ہم منصب اعزاز احمد چوہدری سے ملنا ناممکن ہوگا۔ جس پر بھارتی فارن آفس کے ترجمان سید اکبر الدین نے گرہ لگائی کہ پاکستانی ہائی کمشنر کا یہ اقدام بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے، جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔

دراصل نئی دہلی کا یہ اقدام بھارت میں جاری پاکستان مخالف لہر کا ایک مظہر ہے اور اسے بھارتی جنتا پارٹی کے پالیسی بریف اور اس کی قیادت کے حالیہ افعال و اقدام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ وزیراعظم نریندر مودی 90 دنوں میں دو مرتبہ کشمیر ہو آئے ہیں اور اگست کے دوسرے ہفتے میں ہونے والے خالص فوجی انداز کے وزٹ میں تو پاکستان کے خلاف موصوف کی تلخ نوائی عروج پر تھی۔ سیاچن میں جوانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: "روایتی جنگ میں پاکستان اب مقابلہ کرنے کا اہل نہیں رہا، لہٰذا پراکسی وار اور دہشت گردی کے ذریعے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے، کارگل کی جنگ میں ہم نے پاکستانی گھس بیٹھیوں کو شکست فاش دی تھی اور آج بھی ہم اس قسم کی کسی بھی مہم جوئی سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس ہیں"۔

ایک اور بیان میں موصوف نے کہا کہ ہم اپنی عسکری قوت کو اس قدر بڑھاوا دینا چاہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرسکے۔ یہ محض بڑھک نہیں۔ مودی سرکار افواج ہند کی مکمل اوور ہالنگ اور ان کے زیراستعمال سامان حرب کی مکمل ری پلیسمنٹ کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے۔ جس پر 100 بلین ڈالر کے خرچہ کا تخمینہ ہے۔ ایئر فورس کا پورا ہوائی بیڑہ ری پلیس ہونے جا رہا ہے۔ دیوہیکل بحری جنگی جہاز مقامی طور پر تیار کئے جارہے ہیں اور کوئی ہفتہ پہلے 6800 ٹن وزنی وار شپ آئی۔این۔ایس کولکتہ انڈین نیوی کے حوالے کرنے کی تقریب میں مودی جی نے بنفس نفیس شرکت کی تھی۔ اس وقت تک بھارت دنیا بھر میں اسلحہ کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ اور اس لیبل کو اپنے ماتھے سے اتار پھینکنے کی منصوبہ بندی بھی کرچکا۔ دنیا بھر کی اسلحہ ساز کمپنیوں میں نئی دہلی کی خوشنودی حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر پیشکش کر رہا ہے۔ اور قرأئن بتاتے ہیں کہ جوائنٹ وینچرز کے نتیجے میں آئندہ دس برسوں میں بھارت نہ صرف اپنی ضرورت کا تمام تر اسلحہ اپنی سرزمین پر بنارہا ہوگا، بلکہ برآمد بھی کر رہا ہوگا۔ اور اس دوران ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاملات بھی طے پاچکے ہوں گے۔

بھارت ایک طرف تو اپنی سیکورٹی اور ڈیفنس پالیسی کو نہایت مہارت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو دبائو میں رکھنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس حوالے سے طریقہ واردات نہایت دلچسپ ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو وہ بڑی چابک دستی کے ساتھ ہمیشہ سے پاکستان کی جھولی میں ڈالتے آئے ہیں۔ اور دوسرا تماشہ یہ کہ لائن آف کنٹرول، ورکنگ بائونڈری اور انٹرنیشنل بارڈر کو جب چاہیں، خود پامال کر کے الزام پاکستان پر دھر دیتے ہیں اور پھر پراپیگنڈہ کا وہ ادھم کہ سچ سے جھوٹ کو الگ کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ابھی چند روز پہلے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلے نے آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ، ویسٹ کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل کے۔جے سنگھ اور 11 کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل این۔پی سنگھ ہیرا کے ہمراہ سرحدی چوکیوں کا دورہ کیا اور الزام لگایا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی تمام تر سرحدی خلاف ورزیاں پاکستان نے کی ہیں اور جواز یہ لائے کہ پاکستان کے ’’اصل حکمران‘‘ نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں اور ساتھ ہی یہ چتائونی بھی دی کہ کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے، بھارتی افواج سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ فی الحقیقت پراپیگنڈہ وار فیئر میں بھارتی قیادت کا جواب نہیں۔ وہ دن کو رات اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں اول تو سیاست کی مارا ماری سے فرصت نہیں ملتی، اور پھر روایتی تغافل، کاہلی اور غیر پیشہ ورانہ طرزعمل ہماری کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ سرحدی خلاف ورزیوں کو ہی لیں، تو گزشتہ پندرھو اڑے میں صرف سیالکوٹ کی ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ کے تیرہ بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ چاروا، ہرپال اور سچیت گڑھ سیکٹرز میں سرحد پار سے فائرنگ روز کا معمول بن چکی ہے۔ بے گناہ مرتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں۔ مال مویشی کا نقصان الگ ہوتا ہے۔ مگر بھارتی بھونپو دنیا بھر میں الٹا واویلا کرتا ہے کہ پاکستان کی بلاجواز فائرنگ نے ان کے سرحدی علاقوں کا امن غارت کر رکھا ہے۔

اصل میں یہ سب پاکستان کو دبائو میں رکھنے کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مذاکرات سفارت کاری کے بنیادی ٹول ہوتے ہیں۔ مگر حد تو یہ کہ بھارت مذاکرات کے تسلسل کا بھی پاکستان پر احسان جتاتا آیا ہے۔ اور لنگڑے لولے بہانوں پر معطل کرتا رہا ہے۔ نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں میں بھلا حکومت پاکستان کا کیا رول تھا؟ اگر چند سرپھروں نے کوئی کارروائی کی، تو بھارت، پاکستان میں ہونے والی ایسی بیسیوں کارروائیوں میں ملوث ہے۔ دہشت کی اس واردات کے بعد پاک بھارت مذاکرات کا عمل دفعتاً رک گیا تھا۔ جس کے اجراء کیلئے پاکستان تین برس تک سر پٹختا رہا۔

راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ شیام سرن نے دسمبر ء2012 میں ایک فورم پر کہا تھا کہ "ماضی کو بہرصورت یاد رکھنا ہوگا دونوں ملکوں کے مابین مسائل ہیں اور وہ تصادم کی راہ پر رہے ہیں۔ ٹریک ٹو ڈائیلاگ سمیت ماضی کی کاوشیں کسی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچ پائیں۔ لہٰذا پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ ایسے میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فریقین کے مابین کوئی عظیم الشان پیش رفت ہو جائیگی تو خام خیالی ہے"۔

بھارت کے حلیم اور وضع دار سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید تو کچھ زیادہ ہی محتاط تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پیس پراسیس کی رفتار پر خاص توجہ دینا ہوگی۔ جو نہ اتنی تیز ہو کہ قابو سے باہر ہوجائے اور نہ اتنی سست کہ لوگ مایوس ہو جائیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ کانگریس سرکار کی سوچ تھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کیلئے سافٹ کارنر رکھتی تھی۔ اب تو معاملہ کٹر بنیاد پرست بی جے پی کے ساتھ ہے، جو ہمارے سفارتی حلقوں کا اصل ٹیسٹ ہوگا۔ رہے مذاکرات، تو انہیں بہر طور چلتے رہنا چاہئے۔ جو خطے کیلئے ہی نہیں، عالمی امن کیلئے بھی ازبس ضروری ہیں۔ کوئی نتیجہ نکلے، نہ نکلے۔ مشترکہ اعلامیہ جاری ہو نہ ہو۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو نہ ہو۔ کشمیر زیربحث آئے نہ آئے، ڈائیلاگ کا عمل رکنا نہیں چاہئے۔ کیونکہ اسی سے روشنی کی کرن پھوٹے گی، اسی سے اعتماد بڑھے گا، اور بالآخر کوئی نتیجہ بھی ضرور نکلے گا۔ یاد رہے، دیواریں اونچی اور کھڑکیاں بند کرلینے سے حبس بڑھ جاتا ہے۔ مذاکرات کے تعطل کا سارا دوش کشمیری قیادت کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر کے روابط کو بھی نہیں دیا جاسکتا۔ کچھ قصور اندرون ملک جاری سیاسی سرکس کا بھی ہے۔ عالمی برادری کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہمارے جیسے تماش بینوں کو سنجیدگی سے لے۔ اس مارا ماری کے دوران بھارت کے ساتھ خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ہی معطل نہیں ہوئے، سری لنکا کے صدر نے بھی تو سرکاری دورہ منسوخ کردیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.