اب کیا ہو گا؟

نجم سیٹھی
نجم سیٹھی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سہ طرفہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے لانگ مارچ اور ان کے جارحانہ اور غیر لچک دار رویوں کی وجہ سے ملک میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب نہ تو فوجی مداخلت کا خطرہ ہے اور نہ ہی وزیرِ اعظم استعفیٰ دینے جا رہے ہیں اور نہ ہی مسلہ حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے تازہ عام انتخابات کرائے جانے کا کوئی امکان ہے۔

اس معروضےکی پہلی وجہ فوجی قیادت کا بیان ہے جو اس ادارے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تنازعات کو بامقصد مذاکرات سے حل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اہم ریاستی عمارتوں، جیسا کہ پارلیمنٹ، ایوانِ صدر، وزیرِ اعظم ہائوس، وزیرِ اعظم سیکرٹیریٹ، سپریم کورٹ، وغیرہ کی حفاظت کرے گی اور مظاہرین کو ان عمارتوں پر چڑھائی کرنے یا ان کا گھیرائو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ’’نصیحت‘‘ سننے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے پارلیمنٹ کا گھیرائو ختم کردیا گیا اور وہ اور عمران خان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔ اگرچہ اس وقت تک دونوں رہنما، عمران خان اور طاہرالقادری، اپنے انتہائی مطالبات پر لچک دکھاتے نظر نہیں آتے، لیکن اُنھوں نے ایک لچک ضروردکھائی ہے کہ وہ حکومت سے بات چیت کے تیسرے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور اسٹیج پر نعرے بازی اور بیان بازی کے باوجود ملاقاتیں ’’خوشگوار‘‘ ماحول میں ہی ہو رہی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی میں اس بات پر کم و بیش اتفاق پایا جاتا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی یا پرتشدد طریقے سے پاکستان میں جمہوری عمل کو پٹری سے نہیں اترنا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشرے میں فوجی مداخلت یا کسی ہجوم کے تشدد اور ہنگاموں کی وجہ سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کی حمایت موجود نہیں۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، وکلاء ایسوسی ایشنز اور میڈیا میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جمہوری نظام کو پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا۔ اس ضمن میں باہمی سیاسی اختلافات کے باوجود ، تمام دھڑے ایک ہی پیج پر ہیں۔

پارلیمنٹ نے بھی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی خود مختاری کاتحفظ کرنے کا عزم کیا ہے۔ ان تمام حقائق نے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کو سیاسی تنہائی سے دوچار کرتے ہوئے مجبور کیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ اس وقت تک یہ مارچ اور دھرنا پرامن کیوں ہے اور شرکاء نے انتہائی جوشیلے نعروں کے باوجود شاہرائے دستور کو تحریر چوک میں تبدیل کیوں نہیں کیا۔ اس وقت تک تشدد کا کوئی واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے جبکہ ماضی کے برعکس حکومت نے بھی نہایت کشادہ دلی سے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ نرمی برتی ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی میں ایک اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ عمران خان کے الزامات بڑی حد تک بے بنیاد ہیں کیونکہ گزشتہ انتخابات کا جائزہ لینے والی تمام ملکی اور غیر ملکی تنظیموں نے انہیں 1970ء کے بعد ہونے والے سب سے شفاف انتخابات قرار دیا تھا۔ انتخابی نظام میں یقینا بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر بھی تمام طبقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر پارلیمنٹ میں اس نظام کے نقائص کاجائزہ لے کر اس کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بہتر ہے کہ احتجاج کرنے والے رہنمائوں کو واپسی کا محفوظ اور باعزت راستہ دیا جائے تاکہ مزید بدمزگی سے بچا جا سکے۔
چونکہ 400 سے زائد ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کا 35 ارکان کی طرف سے ہجوم کو سڑکوں پر لا کر تختہ الٹے جانے کے عمل کو سول سوسائٹی نے مجموعی طور پر مسترد کردیا ہے، اس لئے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریکِ انصاف کو چاہئے کہ اپنے روئیے میں بتدریج لچک پیدا کرتے ہوئے اس صورتِ حال سے باعزت واپسی کا خود راستہ تلاش کریں تاکہ ان کے سیاسی اسٹیک کو زیادہ نقصان نہ پہنچے۔

اس کے ساتھ ساتھ، پی ایم ایل (ن) کے لئے ضروری ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن قائم کرے اور اس کی شفاف تحقیقات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس کام کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے۔ طرفین کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ کمیشن کے نتائج کو قبول کریں۔ اگر کمیشن کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ عمران خان کے الزامات بے بنیاد تھے، تو اُن پر لازم ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت سے دستبردار ہو جائیں۔ دوسری طرف ، اگر اُن کے الزامات میں صداقت ہو تو پھر وزیرِ اعظم نوازشریف کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیں، اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور پی ایم ایل (ن) کی قیادت بھی چھوڑ دیں۔ اگر یہ بات سامنے آئے کہ مجموعی طور پر انتخابات شفاف تھے لیکن کچھ مخصوص حلقوں میں دھاندلی ہوئی تو پھر ان حلقوں پر دوبارہ انتخابات منعقد کرائے جائیں اور موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس دوران 33 ممبران پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی ،جس میں پی ٹی آئی کے بھی تین رکن شامل ہیں، انتخابی ڈھانچے میں ضروری تبدیلی اور بہتری کی تجاویز سامنے لائے۔ یہ کام تیز رفتاری سے ہونا چاہئے تاکہ احتجاج کرنے والے دوست مطمئن ہو سکیں۔

جہاں پاکستان عوامی تحریک کے اٹھارہ کارکنوں کی ماڈل ٹائوں میں ہلاکت کے افسوس ناک واقعے کا تعلق ہے تو اس کا بھی فوری کوئی حل نکلنا چاہئے۔ اس معاملے کو لٹکانے میں کوئی دانشمندی نہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا غیر جانبدار کمیشن کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ حکمران جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مطالبے کو تسلیم کرے۔ اگر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اس واقعے کے ذمہ دار ہیں تو اُنہیں فوری طور پر اسمبلی سے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اگر حکومت کے دیگر عہدیدران قصور وار پائے جائیں تو اُنہیں بھی قرارِ واقعی سزا ملنی چاہئے۔

لاشوں پر سیاست ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ مختصر یہ کہ اس مسلے کا حل سڑکوں پر احتجاج کی بجائے تحقیقات سے ہی ممکن ہے اور اس میں فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننا ہوگی۔ لانگ مارچ کے نتیجے میں فوجی مداخلت بھی ہوسکتی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تمام سیاسی طاقتیں جمہوری عمل کے جاری رہنے پر کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں۔ اس موقع پر پی ایم ایل (ن) کی کسی حریف سیاسی جماعت نے موقع پرستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اب یہ ڈاکٹر قادری اور عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ اس عمل کو پٹری سے اتارنے کا الزام اپنے سر لینا چاہتے ہیں یا اس کی بہتری کا کریڈٹ اپنے سینے پر سجا کر اگلے انتخابات کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size