مبارک ہو

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

بات گھٹیا، بے شرم اور لعنتی سے اسٹارٹ ہوئی، نوجوان کا کہنا تھا: ’’ تم انتہائی گھٹیا، بے شرم اور لعنتی انسان ہو، میں تمہارا فین تھا لیکن میں اب تم پر لعنت بھیجتا ہوں‘‘۔ میں نے ان سے پوچھا ’’ آپ کہاں سے بول رہے ہیں؟ ‘‘ نوجوان نے جواب دیا : ’’لندن سے‘‘۔ آپ کیا کرتے ہیں، جواب آیا ’’میڈیا اسٹڈیز کا اسٹوڈنٹ ہوں‘‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ بیٹا آپ کس بات پر خفا ہیں‘‘ نوجوان نے چلا کر کہا ’’ تم مجھے بیٹا نہ کہو، غلیظ بکاؤ صحافی‘‘ میں نے جواب میں عرض کیا: ’’ اوکے سر! آپ کس بات پر خفا ہیں؟ ‘‘ اس نے تھرتھراتی آواز میں جواب دیا : ’’ تم نے آج عمران خان کے خلاف کالم کیوں لکھا؟ ‘‘ میں نے عرض کیا ’’ سر آپ کو میرے 15 برسوں کے کالموں پر تو کوئی اعتراض نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’ نہیں، تم تازہ تازہ بکے ہو‘‘۔

میں نے عرض کیا ’’ اوکے سر، آپ میڈیا اسٹڈیز کے طالب علم ہیں چنانچہ میں آپ کو دو مشورے دینا چاہتا ہوں‘‘ اس نے جواب دیا ’’ بکواس کرو، میں سن رہا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر انسان کو کبھی ایک واقعے، ایک گالی، غصے کے ایک واقعے، ایک کالم، ایک ٹی وی شو اور ایک تقریر کی بنیاد پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے، انسان میں 24 گھنٹے میں 11 موڈ آتے ہیں اور ہر موڈ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، آپ انسان کو دن میں 11 بار دیکھیں گے تو یہ آپ کو گیارہ مرتبہ مختلف لگے گا، اللہ تعالیٰ کی ذات ہماری اس خصلت سے واقف ہے شاید یہ اسی لیے ہماری آخری سانس تک ہمارے لیے توبہ کے دروازے کھولے رکھتی ہے، اللہ ہمارا حساب بھی حشر کے میدان میں اس وقت لے گا جب زمین پر زندگی کا آخری خلیہ ختم ہو جائے گا۔ سر آپ جانتے ہیں نبی اکرم ؐ نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو پورا مکہ آپؐ کے خلاف ہو گیا، کفار آپؐ کی جان کے دشمن تھے لیکن نفرت کے باوجود کسی کو آپؐ پر حملے کی جرأت نہیں ہوئی، پورے شہر میں صرف خطاب کا بیٹا تھا جو نبی اکرمؐ کو شہید کرنے کے لیے تلوار لے کر گھر سے نکلا، ہم اگر خطاب کے اس بیٹے کو دیکھیں تو ہمارے ذہن میں ایک تصویر بنے گی اور ہم اگر ان حضرت عمر فاروقؓ کو دیکھیں جن کے بارے میں نبی اکرم ؐ نے فرمایا تھا ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔‘‘ تو ہمارے دماغ میں دوسری تصویر بن جائے گی۔

آپ ان دونوں تصویروں کو ذہن میں رکھئے اور سوچئے وہ شخص جس نے حضرت عمر فاروقؓ کو قبول اسلام سے قبل دیکھا ، وہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہو گا اور جن حضرات نے انھیں مدینہ منورہ میں دیکھا وہ ان کے بارے میں کیا کہتے ہوں گے، حضرت عمرؓ سے کسی نے پوچھا: ’’ آپ کی زندگی کا حیران کن واقعہ کیا تھا؟ ‘‘ آپؓ نے فرمایا : ’’ میں جب بھی یہ سوچتا ہوں عمر بدل کیسے گیا تو میں حیران ہو جاتا ہوں‘‘۔

سر میری درخواست ہے، رائے بہت قیمتی چیز ہوتی ہے، آپ اس میں جلد بازی نہ کیا کریں اور دوسرا مشورہ‘‘ نوجوان جذباتی ہو گیا‘ اس نے بے صبری سے میری باٹ کاٹی اور کہا ’’ تمہارے اسی منافقانہ رویے نے مجھے فون کرنے پر مجبور کیا‘ تم قرآن، سنت اور صحابہؓ کی بات کرتے ہو مگر حکمرانوں کے تلوے چاٹتے ہو‘‘ مجھے نوجوان کے لفظ بہت گراں گزرے، میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا، کنپٹی میں آگ سی لگ گئی، میں زمین پر بیٹھ گیا، میں نے غصے پر قابو پایا اور نوجوان سے عرض کیا ’’سر آپ اگر میری دوسری بات بھی سن لیں تو شاید آپ کو فائدہ ہو جائے‘‘ نوجوان نے کہا ’’ بکو میں سن رہا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’ سر میرے خیالات آپ سے مختلف ہو سکتے ہیں مگر اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں، آپ مجھے گالی دیں‘‘ نوجوان نے حیرت بھری آواز میں جواب دیا ’’ میں نے تمہیں کب گالی دی‘‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’ سر آپ نے مجھے گھٹیا بھی کہا، بے شرم بھی، لعنتی بھی، بکاؤ بھی اور منافق بھی، کیا یہ گالیاں نہیں ہیں‘‘ نوجوان کو غصہ آ گیا، اس نے اونچی آواز میں چلا کر کہا: ’’ کیا یہ گالیاں ہیں، گالیاں یہ ہوتی ہیں‘‘ اور اس کے بعد وہ پنجابی میں آ گیا، میں نے اس کی ساری گالیاں سنیں اور اس کے بعد اس سے صرف اتنا کہا ’’سر یہ آپ کا قصور نہیں، یہ آپ کے لیڈر کا قصور ہے، وہ اگر پوری قوم کے سامنے کھڑے ہو کر گالیاں دیں گے تو آپ پر گالی دینا فرض ہو جائے گا‘‘۔ میں نے اس کے بعد فون بند کر دیا۔

یہ پچھلے دس دن کی صرف ایک مثال تھی، میں اس وقت سوشل میڈیا کی دہشت گردی کا بہت بڑا شکار ہوں، پاکستان تحریک انصاف کے انقلابیوں نے میری حوصلہ افزائی کے لیے ’’بلاگس‘‘ بنا دیے ہیں، ان ’’بلاگس‘‘ سے میرے فیس بک اکاؤنٹ، ای میل ایڈریس، ٹویٹر اور موبائل فون نمبر پر لاکھوں کی تعداد میں گالیاں دی جا رہی ہیں، یہ لوگ ٹھیک کر رہے ہیں کیونکہ آج کے طارق بن زیاد کے سپاہیوں کا ایمان ہے‘ انقلاب کے اس نازک موڑ میں جو شخص عمران خان کے کنسرٹ میں شامل نہیں، وہ غدار بھی ہے اور بکا ہوا بھی۔ علامہ طاہر القادری بھی انقلاب کی اس گھڑی گھروں میں بیٹھنے کو حرام قرار دے چکے ہیں، مجھے اس رویئے پر افسوس نہیں، مجھے افسوس ہے تو 28 جولائی کے ان بارہ گھنٹوں پر افسوس ہے جب میں ایماندار، سچا، کھرا اور بے باک صحافی ہوتا تھا، میں عمران خان کے ساتھ بنوں گیا اور میں نے نئے پاکستان کے بانی سے یہ نہیں پوچھا، آپ خیبر پختونخوا کا ہیلی کاپٹر کس استحقاق سے استعمال کر رہے ہیں اور آپ کوہاٹ سے بنوں تک پروٹوکول کس کھاتے میں لے رہے ہیں، مجھے 18 اگست کو عمران خان سے یہ بھی عرض کرنا چاہیے تھا، آپ خیبر پختونخوا کی حکومت اور اسمبلی توڑنے کا اعلان پہلے کریں اور باقی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے استعفیٰ بعد میں دیں۔

مجھے ان سے عرض کرنا چاہیے تھا: ’’آپ خیبر پختونخوا کا فیصلہ اتحادیوں پر چھوڑ رہے ہیں لیکن آپ جمہوریت کے ان 11 اتحادیوں کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جن کے پارلیمنٹ میں 307 ارکان ہیں اور جو پارلیمنٹ اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔مجھے عمران خان سے یہ بھی پوچھنا چاہیے تھا ’’آپ کے بنی گالہ کے گھر کی سیکیورٹی خیبر پختونخواہ کی پولیس اور ایف سی کے پاس کیوں ہے؟‘‘ افسوس میں ایمانداری اور بے ایمانی دونوں ادوار میں اپنے قائد سے یہ سوال نہ پوچھ سکا۔

میں عمران خان کا دوست بھی ہوں اور فین بھی لیکن میں اس عقیدت کے باوجود ان کے انقلاب کا مخالف ہوں، کیوں؟ کیونکہ میں جانتا ہوں عمران خان استعمال ہو رہے ہیں، یہ صرف ’’پلاس‘‘ ہیں، اس پلاس کے ذریعے سسٹم کی ٹونٹی کھولی جا رہی ہے، یہ ٹونٹی جس دن کھل جائے گی اس دن انقلاب کا پلاس بے معنی ہو جائے گا اور پھر عمران خان ہوں گے، بنی گالہ ہو گا اور ہمارے جیسے عقیدت مند ہوں گے، عمران خان کی جنگی حکمت عملی سے چار غلط نتائج نکلے ہیں، ایک، یہ آج وہاں آ گئے ہیں جہاں سے انھوں نے اٹھارہ سال پہلے سیاست شروع کی تھی، ان کی مقبولیت کے پیندے میں سوراخ ہو چکا ہے، لوگ اب انھیں سنجیدہ نہیں لیں گے۔

’’دو‘‘ ان کی مہربانی سے آج وہ تمام سیاستدان ایک میز پر بیٹھ گئے ہیں جنھیں قوم نے بڑی مشکل سے الگ الگ کیا تھا، یہ لوگ خارجی دروازے پر تھے مگر عمران خان کی مہربانی سے یہ واپس آ گئے ہیں۔ ’’تین‘‘ یہ ملک انقلاب کے لیے تیار تھا، ہم سب کا خیال تھا ایک با معنی انقلاب پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور یہ انقلاب عمران خان جیسے متوازن اور معتدل لیڈر کے ذریعے آئے گا، عمران خان پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بھارت جیسی انتخابی اصلاحات کریں گے، آئین کی دفعات 62 اور 63 کو متحرک کریں گے اور ہمارا اگلا الیکشن پاکستان کو ترکیٍ بنا دے گا لیکن عمران خان کی جلد بازی اور ضد نے انقلاب کا یہ موقع ضایع کر دیا، مجھے خطرہ ہے، اس خلا کو اب شدت پسند پر کریں گے، یہ اپنی اپنی خواہشوں کے پانیوں میں گوندھی شریعت لے کر نکلیں گے اور اس پارلیمنٹ پر قابض ہو جائیں گے جس پر عمران خان کے انقلاب کا جھنڈا نہیں لہرا سکا اور عمران خان نے چوتھا کمال کیا، انھوں نے ایک ایسی نسل تیار کر دی جو گھٹیا، بے شرم، لعنتی ، بکاؤ اور منافق جیسی گالیوں کو گالی نہیں سمجھتی، جو اختلاف رائے کے حق کو حق ہی نہیں سمجھتی۔

خان صاحب آپ کامیاب ہو گئے ہیں، آپ کو نیا پاکستان مبارک ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size