بھارت نے اپنے خلاف خود گول کرلیا

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

کشمیری حریت کانفرنس کے رہنما، پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط سے کیا ملے کہ بھارتی حکومت اور بھارتی جنتا پارٹی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ اسی حالتِ بدحواسی میں اس نے پاکستان بھارت سیکریٹری خارجہ کی ملاقات منسوخ کردی جس پر بھارت کے ایک اخبار "انڈین ایکسپریس" نے لکھا ہے کہ حکومت نے اپنے خلاف خود گول کرلیا ہے اس لئے کہ ان کا یہ قدم کشمیریوں کی تحریک آزادی کو جلا بخشے گا۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ نگار اجے ساہنی نے کہا ہے کہ حریت کانفرنس سے ملاقات کو اتنی اہمیت نہیں دی جانا چاہئے۔ یہ ملاقاتیں گاہے بگاہے ہوتی رہتی ہیں اور حریت کانفرنس سے ملاقات کے بعد یہ پیغام نہیں دینا چاہئے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ نہیں رہ سکتا کہ لائن کنٹرول پر فائرنگ ہوتی ہے یا وہ کشمیر کا دو مرتبہ دورہ کرچکے ہیں یا سیاچن میں جا کر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان سے بھارتی جانی نقصان کا بمعہ سود بدلہ لیں گے۔ یہ انتہائی اشتعال انگیز بیان تھا جس کو پاکستانی حکومت نے انتہائی صبروتحمل سے نہ صرف برداشت کیا بلکہ انتہائی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔

حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کا پاکستان سے مذاکرات نہ کرنے کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی ملاقات تھی تاہم بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان اکبر الدین نے پاکستانی سفیر کو یہ انتباہ کیا تھا کہ سیکریٹری خارجہ کے درمیان ملاقات خطرے میں پڑ جائے گی اگرچہ پاکستانی سفیر نے حریت کانفرنس کے رہنمائوں سے ملاقات کی کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں اس لئے پاکستانی سفیر اس دھمکی کو خاطر میں نہیں لائے اور پھر بھارت نے دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان جو مذاکرات بروز پیر 25 اگست 2014ء کو ہونے والے تھے منسوخ کر دیئے جو بھارت کے جارحانہ انداز کی غمازی کرتا ہے، وہ پاکستان پر بالادستی قائم کرنے کیلئے مزید عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ واقعی سمجھنے لگا ہے، وہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور اگر مذاکرات میں کشمیر پر گفتگو بھی ہونا ہے تو پاکستان کا حریت کانفرنس کے رہنمائوں سے گفت و شنید کرنا کوئی حرج کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ پاکستانی حکومت نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ بھارتی حکومت کا یہ فیصلہ دراصل ہماری قیادت کی پڑوسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کاوشوں پر دھچکہ ہے۔

پاکستانی حکومت کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات سے پہلے حریت کانفرنس کے رہنمائوں سے ملنا دیرینہ طریقہ کار ہے۔ پھر اُن کو او آئی سی میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیم سے ملنے کی بھی، اس پر بھارت کو چراغ پا نہیں ہونا چاہئے تھا اس لئے کہ پاکستانی وزیراعظم بھارت کے ساتھ پُرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔ امریکہ نے اِن مذاکرات کی منسوخی کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے مگر بھارت کے عزائم کشمیر کے حوالے سے واضح ہوتے چلے جارہے ہیں۔ وہ پاکستان کو خاطر میں نہیں لاتا وہ اقوام متحدہ کی بھی پروا نہیں کرتا ، اسرائیل کے طرزِعمل کو اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق سرحدی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے جو مشن دہلی میں موجود تھا اس کو ملک سے نکل جانے کو کہا ہے جس پر ابھی بھارت اور اقوام متحدہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے دستور میں آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو یہ خصوصی حیثیت حاصل ہے اُس کو ختم کرنے کی نریندر مودی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

یہ کام جلتی پر تیل کا کام کرے گا اور خود بھارتی اخبارات لکھ رہے ہیں کہ اِس سے جدوجہد آزادی کشمیر کو نئی آکسیجن ملے گی اور کشمیریوں کو اس آکسیجن کی سخت ضرورت تھی جس کو بھارتی حکومت نے فراخدلی سے کشمیریوں کو دیدی ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تیزی لے آئیں۔ بھارت کا کوئی ٹی وی چینل ان کشمیریوں کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ میں 2011ء میں دہلی میں تین روزہ کانفرنس میں شرکت کرنے گیا جس میں پاکستان سے ایک ہندو خاتون شیلا کزیا اور ایک سکھ ایم این ڈاکٹر آرائش بھی شریک ہوئے تھے۔ یہ کانفرنس ایک ادارے کے سربراہ اور ایک ویکلی اخبار کے چیف ایڈیٹر ظفرالاسلام نے منعقد کی تھی۔

ایک ہزار سے زائد افراد ہر مذہب و فرقے کے موجود تھے مگر وہ سید علی حسین کو تقریر کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہ تھے تاہم کچھ لوگوں نے منتظمین کو راضی کیا تو پانچ منٹ اِس کانفرنس سے خطاب کے لئے انہیں دیا گیا۔ اس شرط پر کہ وہ کشمیر کی بات نہیں کریں گے اگرچہ سید علی نے کشمیر پر ہی بات کی جس پر منتظمین کانفرنس کافی ناراض ہوئے مگر اِس واقعہ کے بعد اب بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو موقع دینا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں جہاد زور پکڑے گا اور بھارت اُن پر سختی کرے گا جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دُنیا بھر میں پذیرائی ملے گی۔ پاکستان میں جس طرح کے حالات ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے پاکستان کو دبانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس لئے بھی کہ اُن کے حساب کے مطابق پاکستان کے اس بحران سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہو کر نکلے گی اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی کشمیری اپنی جدوجہد آزادی میں جو ردھم کھو بیٹھے ہیں اُن میں اب جان پڑ جائے گی۔ پاکستان کے سفیر نے بھارت کے مذاکرات کی منسوخی کا کوئی اثر نہیں لیا اور وہ یٰسین ملک سے بھی ملے ہیں اس پر بھارت کے کئی ٹی وی چینل اُن کو بھارت بدر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کا میڈیا آزاد نہیں ہے۔ بھارت اپنی بالادستی، پھیلائو اور طاقت کا سکہ ساری دُنیا میں جمانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں بھارت کی 29/30 ریاستوں میں سے تقریباً 20 ریاستوں کا دورہ کر چکا ہوں۔ عوام سادہ ضرور ہیں اور جمہوریت کے دلدادہ بھی ہیں جہاں پاکستان میں اسلام پاکستان ایک بندھن میں باندھتا ہے وہاں اُن کی جمہوریت یہی کام کرتی ہے ورنہ بھارت میں تقریباً 22 ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایک چینی دانشور نے کہا تھا کہ کوئی بھی بھارت کو چھ ملکوں میں تقسیم کرسکتا ہے۔ میں بھی جانتا ہوں کہ بھارت کی کیا مشکلات ہیں وہ ایک ایسا ملک ہے اگر کوئی کوشش کرے تو اُس کے اندر انتشار پیدا کر سکتا ہے مگر اب کسی اور ملک اور طاقت کی ضرورت نہیں رہی ہے بھارتی جنتا پارٹی اور موجودہ حکومتی اتحاد خود اِس کا تہیہ کرچکے ہیں کہ وہ بھارت کو نقصان پہنچائیں۔ وہ سختی کریں گے جواب میں ردعمل ہو گا اور بھارت کی مشکلات بڑھیں گی۔ بھارت کو چین، امریکہ اور روس اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔

یہ کھینچا تانی بھی بھارت کے لئے کافی نقصان کا سبب بنے گی۔ امریکہ نے بھارت کو دفاعی میدان میں مشترکہ سرمایہ کاری کرکے مشترکہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کی جو پیشکش کی ہے وہ بھی بھارت کے لئے نقصان دہ ہوگی کیونکہ دوسری طاقتیں حرکت میں آجائیں گی۔ میں یہ بات شرح صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ کچھ عرصہ جانے کو ہے کہ بھارت میں مزاحمت اور مظاہرے شروع ہو جائیں گے جو عالمی طاقتوں کے مفادات کے ٹکرائو کا شاخسانہ ہوں گے اس لئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کسی صورت بھی بھارت کے حق میں نہیں جاتی۔ اچھا ہو کہ بھارتی حکومت روایتی دشمنی اور ایسے خوابوں سے باہر آئے جس کی تکمیل ناممکن ہے۔ یہ بات خود بھارت کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ بھارت اپنے خلاف مزید گول کرنے سے باز رہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size