ایک بڑے حکمران کا رضاکارانہ استعفیٰ

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

وطن عزیز پاکستان پر اس کے بعض لیڈروں کی ضرب سیاست کب مکمل ہو گی بلکہ یہ کب تک جاری رہے گی اس کے بارے میں خود ان کو بھی کچھ پتہ نہیں جن کے ہاتھ میں سامان حرب و ضرب ہے۔ ہمارے یہ لیڈر اس ملک کی سرکوبی پر لگے ہوئے ہیں اور ہمارے جیسے کچھ لوگ یہ عبرت انگیز تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں اس لیے اب کوئی چوبیس گھنٹے بعد چھپنے والے بے چارے کالم کو آزمائش میں کیوں ڈالا جائے۔

گزشتہ زمانے کی بات کرتے ہیں جو ہمارے سامنے شروع ہوئی اور ختم ہو گئی۔ نہ خود تماشا بنی نہ قوم کو تماشا بنایا سب کی عزت بچ گئی۔ ہمارے آج کے حکمرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور حکمران صرف ایک عوامی نعرے پر ڈھیر ہو گیا کیونکہ وہ گھر میں اور گھر سے باہر ایک باعزت انسان تھا۔ اس نے اپنے گھر کے صحن میں اپنے پوتوں نواسوں کو ایوب ایوب کھیلتے اور ایوب کتا کے نعرے لگاتے سنا تو وہ برآمدے سے اٹھ کر اپنی خوابگاہ میں گیا اور فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستان کی صدارت سے استعفیٰ لکھ کر رکھ دیا۔

جب اس کا یہ فیصلہ سامنے آیا تو اس کی جماعت کنونشن لیگ کے چند لیڈر اس کے پاس گئے ان میں ملک محمد قاسم سردار خضر حیات اور اس پائے کے دوسرے دو چار لیڈر بھی شامل تھے۔ انھوں نے اپنے صدر کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ حالات اتنے نہیں بگڑے کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ انھوں نے حالات کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا۔ صدر نے جواب دیا کہ میں نے عزت کے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔

میں اپنے کل کے ملازموں (بھٹو وغیرہ) کے ہاتھوں بے عزت نہیں ہو سکتا اور اپنے معصوم بچوں کی زبان سے ایوب کتا کے نعرے نہیں سن سکتا جو اس کا ثبوت ہیں کہ بات گلی بازار سے نکل کر گھروں کی چار دیواری کے اندر بھی پہنچ گئی ہے اور میرے بچے بھی دیکھا دیکھی یہی کچھ کہنے لگے ہیں جو باہر کہا جا رہا ہے۔

یہ ہمارے وہ باعزت سیاستدان تھے جنہوں نے اقتدار میں آ کر ملک کی خدمت بھی کی۔ ایوب خان کے دور میں ہماری صنعت اور زراعت دونوں اتنی ترقی پا گئیں کہ باہر کے ملک یہ ترقی اور اس کے طریقے دیکھنے آتے تھے ہم مشرق بعید کے ایسے کئی ملکوں کے لیے ایک نمونہ اور مثال تھے جو آج دنیا کے ترقی یافتہ ملک سمجھے جاتے ہیں۔ بعد میں بھٹو صاحب کو جب موقع ملا تو انھوں نے ان صنعتوں کو قومیا کر ختم کر دیا اور ایوب کتا محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا۔ آج جب وقت کے حکمران کے خلاف زبردست ملک گیر تحریک چل رہی ہے اور ان سے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو اس سے اس پرانے استعفے کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔

ایوب خان نے گول میز کانفرنس کے بہت بعد اقتدار سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس دوران بھٹو صاحب اور مولانا بھاشانی کی تحریکیں جاری رہیں۔ ایک طرف ملک بھر کی جماعتیں کانفرنس کر رہی ہیں دوسری طرف ملک کے گلی کوچے تحریک کی زد میں تھے لیکن حکمران ایوب خان تھا جس کا دل اقتدار سے بھر چکا تھا۔ گول میز کانفرنس راولپنڈی میں ایوان صدر کے مہمان خانے میں ہوئی اس میں ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں شامل تھیں۔ بھٹو بھاشانی تو باہر تحریک چلا رہے تھے لیکن شیخ مجیب الرحمن جیل میں تھے۔ کانفرنس کے بعض شرکاء نے ضد کی کہ انھیں بلایا جائے۔

ممتاز دولتانہ ولی خان ایسے لیڈر اس مطالبے میں شامل تھے۔ انھی دنوں ون یونٹ کے خلاف بھی چھوٹے صوبوں میں تحریک تھی۔ ولی خان مرحوم اہل خانہ کے ہمراہ راولپنڈی کے ہوٹل انٹر کانٹی ننٹل میں مقیم تھے۔ ہوٹل کی لابی میں مجھے دکھائی دیے تو میں نے کہا کہ آپ ون یونٹ کے حق میں کیوں ہیں جب کہ آپ کے سب ساتھی اس کے خلاف ہیں۔ خان صاحب نے اس کا جواب یہ دیا کہ پٹھان کا ٹرک طورخم سے چلتا ہے اور پورے پاکستان سے گزر کر کراچی پہنچتا ہے۔ میں ون یونٹ کی مخالفت کیسے کر سکتا ہوں۔ یہ وہ لیڈر تھے جو اپنے عوام کا مفاد سامنے رکھتے تھے اپنا نہیں۔

بہرکیف گول میز کانفرنس کے چند لیڈروں کے مطالبے پر شیخ صاحب کو بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ان دنوں یہ بہت بڑی اخباری جستجو تھی کہ مجیب الرحمن کی آمد ہوئی ہے یا نہیں۔ شام کو نوابزادہ نصراللہ مرحوم و مغفور نے مجھے اشارہ کیا اور آہستہ سے کہا کہ مجیب کل آ رہا ہے۔ ان دنوں ملک بھر کے اخباروں نے گول میز کانفرنس کی رپورٹنگ کے لیے ٹیمیں بھیجی ہوئی تھیں۔ میں اکیلا تھا۔

مجیب والی خبر ملی تو میں کانپ گیا اور ایڈیٹر سے کہا کہ اس خبر کو آخری ایڈیشن میں چھاپیں تاکہ لیک نہ ہو چنانچہ جب دوسرے دن اخبار کی شہ سرخی بن کر یہ خبر چھپی تو رپورٹروں کے ہجوم پر بم بن کر گری اور پھر جب انھیں ہوش آئی تو مجھ پر گالیوں کی بوچھاڑ ہو گئی کہ اس نے یہ خبر کہیں سے چوری کی ہے۔ میرے پاس اس کا جواب نہیں تھا کہ میں نواب صاحب کا نام نہیں لے سکتا تھا۔ بہر حال اسی دن شیخ مجیب آ گئے۔ ائر پورٹ پر ان کے استقبالیوں کا ہجوم تھا جس میں یہ خاکسار بھی شامل تھا کیونکہ یہ ہجوم میری خبر پر ہی جمع ہوا تھا۔

اسی دوران لاہور سے ایک جہاز آیا تو اس میں ہمارا دوست ملک حامد سرفراز مرحوم بھی سوار تھا جو عوامی لیگ اور سہروردی صاحب کا خاص کارکن تھا۔ یہ جب جہاز سے اترتے وقت اس کے دروازے پر نمودار ہوئے تو مجیب الرحمن زندہ باد کے نعرے بلند ہونے شروع ہو گئے۔ ان کی شکل اور قد شیخ مجیب سے بہت مشابہہ تھا۔ لوگوں نے ملک صاحب کو جہاز سے ہی اچک لیا اور کندھے پر اٹھا کر چلنے لگے۔ انھوں نے بہت شور مچایا کہ میں مجیب الرحمن نہیں ہوں لیکن کسی کے کان میں ان کی آواز نہ پڑی صرف نعرے ہی نعرے تھے۔

اتنے میں ایک صاحب نے یہ سب دیکھا تو حاضرین کی منت سماجت کی یہ وہ نہیں جو آپ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس پر لوگوں نے ملک صاحب کو نیچے رن وے پر پھینک دیا جس کی آواز مجھے بھی سنائی دی۔ ہم نے ملک صاحب کو نیچے سے اٹھایا اور خیریت معلوم کی تو ان کو کوئی چوٹ وغیرہ نہیں لگی تھی۔ اس کے بعد کے جہاز میں شیخ مجیب الرحمن آئے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں ان کا دوست حامد سرفراز بھی تھا جو کچھ دیر پہلے خود شیخ مجیب تھا۔

یہ ہماری قومی سیاست میں ٹھہرائو کا زمانہ تھا۔ گول میز کانفرنس ہوئی۔ باہر جلسے جلوس جاری رہے اور پھر ایوب خان جیسے حکمران نے علیحدگی اختیار کر لی یہ سب سکون کے ساتھ ہوا لوگوں نے صبر کے ساتھ حالات کو دیکھا۔ ہاں ایک بات یاد آئی کہ کنونشن لیگ کے وفد کی ضد کے جواب میں ایوب خان نے یہ بھی کہا کہ دیکھو جب پاکستان کی فوج کا سربراہ کہتا ہے ’’نو‘‘ تو پھر یہ ’’نو‘‘ ہی ہوتا ہے۔ مجھے بھی یہ ’’نو‘‘ کہہ دیا گیا ہے۔

ایوب خان خود بھی مارشل لاء تھے اور اپنی جگہ دوسرے کو بھی مارشل لاء دے گئے لیکن ایوب کا مارشل لاء بلاشبہ تعمیری تھا جس نے ملک کو بنایا تھا۔ اسے نئی اقتصادی زندگی دی تھی۔ بہرکیف اب سب کچھ تاریخ اور ایک تنازعہ بن گیا ہے۔ ہم ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لا سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size