دھرنا بحران۔ پس چہ باید کرد

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

وہ نہیں ہو سکا جو عمران خان صاحب اور قادری صاحب نے سوچا تھا۔ اول الذکر کا خیال تھا کہ ان کی کال پر 10لاکھ لوگ جمع ہوں گے جو ایک لاکھ موٹرسائیکل سواروں کی قیادت میں اسلام آباد پر حملہ آور ہوں گے۔ ثانی الذکر کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ لاکھوں افراد کے ساتھ جونہی اسلام آباد میں داخل ہوں گے تو میاں نوازشریف جان کی امان کے عوض سب کچھ مان جائیں گے ۔ ملین تو کیا دونوں مل کر بھی ایک لاکھ لوگ جمع نہ کر سکے۔ میاں محمد نواز شریف صاحب دبائو ڈالتے بھی ہیں اور قبول کرتے بھی ہیں۔ گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور بوقت ضرورت وہی ہاتھ قدموں میں بھی لے جاتے ہیں لیکن خان صاحب اور قادری صاحب یہ نہیں سمجھ پائے کہ وہ سب کچھ میاں صاحب اقتدار تک پہنچنے یا اس میں رہنے کے لئے کرتے ہیں۔

یہ دونوں اگر اپنی خواہش یا ضد کی خاطر اپنی عزت، آئین، جمہوریت اور ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو دائو پر لگا چکے ہیں تو میاں صاحب بھی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے سب کچھ دائو پر لگانے سے گریز نہیں کریں گے۔ اسی طرح دونوں دھرنا بازوں کو جو بتایا گیا تھا وہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین، اسد عمر ، شیرین مزاری، اعظم سواتی اور عاطف یوسف زئی جیسوں نے خان صاحب کو باور کرایا تھا کہ جب وہ دھرنادیں گے تو فوج مداخلت کرکے اقتدار نوازشریف سے چھین کر پہلے قومی حکومت کی شکل میںاور پھر دوبارہ انتخابات کے ذریعے انہیں سونپ دے گی جبکہ گجرات کے چوہدریوں اور ان کے اجمل وزیر جیسے ساتھیوں نے قادری صاحب کو باور کرایا تھا کہ فوج نوازشریف کو اقتدار سے باہر کرنے اور علامہ صاحب کوا میرالمومنین بنانے کے لئے بیتاب ہے۔

اب خان صاحب کو یہی لوگ غلط طور پر باور کرارہے ہیں کہ وہ ڈٹے رہیں اور احتجاج یا فساد کا دائرہ دیگر شہروں تک بڑھادیں تو فوج خود بخود مداخلت کرنے آجائے گی ۔ یہ جو ایمپائر کے انگلی کے اٹھنے کی تاریخیں بدل بدل کر دی جارہی ہیں ‘ وہ شاید اس طرف اشارہ ہے لیکن فوج کا ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہے ۔ فوج کوئی تحریک انصاف نہیں کہ جہاں لیڈر چند سازشیوں کے نرغے میں ہواور خود سوچنے کا روادار نہ ہو۔ پاکستانی فوج دنیا کی چند بڑی اور منظم افواج میں سے ایک ہے ۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک ادارہ ہے ۔ اس وقت اس کی قیادت ایک پیشہ ور سپاہی کے ہاتھ میں ہے ۔ فوج کی کمانڈ ایک شخص ضرور کرتا ہے لیکن فیصلے کور کمانڈروں کی مشاورت سے کئے جاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی حب الوطنی شک شبہے سے بالاتر ہے اور اگر غلطی بھی کرتے ہیں تو اس کے پیچھے حب الوطنی کا ہی جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے ہمہ وقت عوام کی نبض سے بھی فوجی قیادت آگاہ ہوتی رہتی ہے ۔ اب ایسے عالم میں کہ جب کہ پارلیمنٹ میں موجود ملک کی بارہ بڑی جماعتوں میں سے گیارہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں، جب عدلیہ آئین کے تحفظ کا عزم ظاہر کر رہی ہے ، جب وکلاء برادری حکومت کی ہمنوا ہے اور اس سے بڑھ کر کہ جب پاکستان کو بیک وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں پر شدید خطرات کا سامنا ہے ، جب شمالی وزیرستان اور کئی دیگر علاقوں میں آپریشن جاری ہے، جب کراچی اور بلوچستان میں فوجی ادارے مصروف عمل ہیں، جب امریکہ، برطانیہ اورچین جیسے ممالک بھی جمہوری حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں ، تو آخر فوج کیوں کر سیاست میں ملوث ہو گی؟۔ وہ ملک جس کے تحفظ کے لئے یہ فوجی جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، کیا وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے انتشار میں دھکیلے گی؟

پاکستانی فوج سے یہ توقع اقتدار کی خواہش میں پاگل ہونے والے جنونی ہی رکھ سکتے ہیں ۔ اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ عمران خان صاحب کو غلط راستے پر لگانے والے پی ٹی آئی کے گھس بیٹھئے ان سے اور پی ٹی آئی کے مخلص ورکروں سے معافی مانگیں۔ چوہدری برادران قادری صاحب سے معافی مانگیں اور دھرنوں کا خاتمہ کر کے پاکستان کو مزید دنیا کے سامنے مذاق نہ بنائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی فتح کے زعم میں روایتی سیاسی غرور میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ دھرنے ناکام ضرور ہوئے ہیں لیکن فساد اور خونریزی کا خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ حکومت بظاہر محفوظ ہوگئی ہے لیکن ملک کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ دھرنوں کے منصوبہ سازوں، قیادت کرنے والے لیڈروں اور شرکاء کی فرسٹریشن حد سے آگے بڑھ گئی ہے اور بالخصوص عمران خان صاحب شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں، اس لئے وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دھرنوں کو بعض لوگ فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور جواب میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے جس طرح مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، اس کی وجہ سے ملک گیر فساد اور خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ جب سے میاں نواز شریف صاحب وزیراعظم بنے ہیں، کبھی ان کے ساتھ خود رابطہ نہیں کیا اور جب بھی رابطہ ہوا ان کی طرف سے ہوا لیکن مذکورہ تشویش کے پیش نظر گزشتہ روز ٹیلی فون کر کے ان سے التجا کی کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ ساتھ اپنی حامی جماعتوں کو جوابی مظاہروں سے روکیں اور ملک کی خاطر خود عمران خان صاحب اور قادری صاحب کے پاس چل کر انہیں منانے کی کوشش کریں ۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں موجودہ بحران کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب اور متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین صاحب کا کردار نہایت اہم ہو گیا ہے ۔ اول الذکر تحریک انصاف کے سلسلے میں جبکہ ثانی الذکر قادری صاحب کے معاملے میں موثر ہو سکتے ہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے وزیروں اور مشیروں کے ذریعے وقت گزاری کی بجائے ان دونوں شخصیات کو اختیار دے کر آگے کریں ۔ ان دونوں شخصیات کو بھی چاہئے کہ وہ دیگر مصروفیات منسوخ کر کے ہمہ وقت اس معاملے کی طرف توجہ مرکوز کرلیں۔ ایک جرگہ سراج الحق کی قیادت میں بنے کہ جس میں پیپلز پارٹی، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے نمائندے شامل ہوں۔ دوسرا جرگہ ڈاکٹر عشرت العباد یا ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں بنے اور اس میں بھی حکومت اور اپوزیشن کی قدآور شخصیات شامل ہوں۔
ایک جرگہ ایک کنٹینر میں اور دوسرا دوسرے کنٹینر میں جا کر بیٹھے اور اس وقت تک نہ اٹھے ، جب تک کہ کوئی مفاہمت نہ کرلے۔ تحریک انصاف کے استعفیٰ کے سوا دیگر تمام مطالبات پہلے سے پورے ہوچکے ہیں ۔ حکومت نے جو کچھ آفر کیا ہے اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا۔ مثلاً حکومتی مدت کم کی جا سکتی ہے ۔ عدالتی کمیشن پوری سپریم کورٹ پر مشتمل بنائی جا سکتی ہے ، اس کے کام کی تکمیل کے لئے کم سے کم وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح آزادانہ الیکشن کمیشن اور انخابی اصلاحات کے لئے بھی وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ حکومت کو احتساب کے لئے عدالتی اور انتظامی اصلاحات پر بھی مجبور کرایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح قادری صاحب کا سرفہرست مطالبہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ داروں کو سزا دلوانا ہے اور جب ملکی قیادت چند گھنٹے سر جوڑ کر بیٹھے گی تو اس مسئلے کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔ اگر یہ جرگے درمیانی راستہ نکال سکیں تو عمران خان صاحب اور قادری صاحب اپنے چاہنے والوں کو یہ بتاسکیں گے کہ وہ بدستور استعفیٰ کے مطالبے پر قائم ہیں لیکن ملک کی خاطر اس قومی قیادت کی اپیل پر وہ سردست یہ حل تسلیم کر رہے ہیں۔ اسی طرح حکومت کی طرف سے ہونے والی کمٹمنٹ کے لئے یہ جرگے گارنٹر بھی بن جائیں گے اور اگر حکومت پھر خلاف ورزی کرے گی تو دیگر جماعتیں بھی دھرنے دینے والوں کے ساتھ ہوں گی۔


سراج الحق صاحب نے اسپیکر قومی اسمبلی سے اپیل کر کے اچھا قدم اٹھایا کہ وہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفے منظور نہ کریں اور اسپیکر صاحب کو بھی چاہئے کہ وہ ان استعفوں کو فوری منظور نہ کریں تاکہ تلخی مزید نہ بڑھے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size