9/11 سے فولے کے قتل تک انتہا پسندی جاری

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یہ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا کہ القاعدہ نے امریکا میں پرورش پائی اور پھر اسے گیارہ ستمبر 2001 کو امریکی سر زمین پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس خوفناک واقعے کو نائن الیون کا نام دیا گیا اور دنیا میں یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کا سبب کے طور پر جانا گیا۔ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک نئے دور کی شروعات ہونے جا رہی ہیں۔ ان شروعات کی نئی وجہ سامنے آنے والی وہ خبریں بن رہی ہیں جن میں بتایا گیا ہے دولت اسلامی عراق وشام یعنی داعش نے امریکی صحافی جیمز فولے کو ہلاک کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جیمز فولے کی ہلاکت کا واقعہ اس امر کا اشارہ ہے کہ داعش نے اس طرح کے مزید کئی واقعات کی بھی تیاری کر رکھی ہے۔ یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر متعلقہ فریقوں کی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔ ان فریقوں میں مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ علاقے کے ممالک بھی شامل ہیں کیونکہ خطے کے ملک پہلے ہی داعش اور اس کے ہمدردوں کی دھمکیوں کی زد میں ہیں۔

ماضی کے تیرہ سال گواہ ہیں کہ اس دوران باغیوں کے خلاف تاریخ کی بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں۔ ان جنگوں میں فوجی تصادم اور ٹکراٶ کے علاوہ عسکری تعاقب بھی ہوئے، بنک اکاونٹس منجمد کیے گئے، پراپیگنڈہ کے لیے قائم کیے گئے ابلاغی ادارے بند کیے گئے۔ یہ سب کچھ کیے جانے کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی ہوئی۔ یہ ناکامی اس کے باوجود دیکھنے کو ملی کہ القاعدہ سمیت بہت سے دہشت گرد گروپوں کے بڑے لیڈروں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا۔ لیکن ان گروپوں کے نظریات کا خاتمہ ممکن نہ ہوا۔ اس لیے ہماری دشمن القاعدہ، داعش یا النصرہ فرنٹ نہیں بلکہ ان کے تصورات ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی کے یہ تصورات ہی ان گروپوں کے لیے جذبہ متحرکہ اور ان کی تقویت کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابوبکر البغدادی داعش کے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ بالکل اسی طرح القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سامنے آئے تھے۔ یہ تصور ہی وجہ ہے کہ ہزاروں نوجوان جو شام اور عراق پہنچے ہیں مرنے مارنے کے لیے تیار ہیں یا تربیت کے لیے موجود ہیں۔

دنیا کی جنگ، مسلمانوں اور دوسرے سبھوں کی جنگ ہے۔ یہ جنگ دراصل غلط اور برائی کے نظریات کے خلاف جنگ ہے۔ القاعدہ بھی ایک نظریہ ہے اور اسی طرح داعش بھی ایک نظریہ ہے۔ یہ کسی فوج کی تیاری یا تشکیل کا معاملہ نہیں ہے، نہ ہی نقشوں کو پھیلاٶ دینے اور تیل کے ذخائر پر قبضے کی کوشش ہے۔ یہ گروپ اللہ کے نام کی حاکمیت قائم کرنے کا دعوی رکھتے ہیں اور لوگوں کو قربانی کے راستے اللہ کے قریب ہونے کا بتاتے ہیں۔

اس لیے اگر امریکی فوجی یا عراقی فوجی البغدادی اور اس کے حریف گولانی کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے پیروکار ہزاروں دہشت گرد القاعدہ کو ایک نیا جنم یا نئی زندگی دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمیں انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں جکڑ دیا گیا ہے۔ یہ جنگ اس وقت سے ختم نہیں ہوئی جب ایران میں خمینی نے اقتدار حاصل کیا اور جهيمان العتیبی نے 1979 میں خانہ کعبہ پر قبضہ کیا تھا۔

انتہا پسندی ایک مرض ہے جس نے عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ بیماری بہت سے مسلم ممالک، مسلم اقلیتی معاشروں اور حد یہ ہے کہ چین تک میں پھیل چکا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس وائرس کے خلاف لڑنا ہو گا۔ داعش اور القاعدہ سے زیادہ مغربی ممالک متاثر نہیں ہیں بلکہ ان کے اثرات سب سے زیادہ مسلم ممالک اور خصوصا سنی مسلمان ملک شامل ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نئے راونڈ میں سب سے زیادہ زد انہی مسلم ممالک، ان کی حکومتیں اور دانشوروں پر پڑے گی۔

مجھے یقین ہے کہ انتہا پسندانہ فکر کا خاتمہ ہو گا اور اگلے ایک سو سال کے لیے دوبارہ جنم نہیں لے سکے گا۔ تاہم اس کا ذریعہ بننے والی تعلیم، پھیلاٶ کا سبب بننے والے ذرائع ابلاغ اور وسائل فراہمی کے تمام امکانات کو ختم کرنا ہو گا۔ اس بڑے چیلنج کے باوجود اسلامی دنیا یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے انتہا پسندی کا یہ مسئلہ اس کے ہاں موجود ہے۔ ایک جانب انتہا پسندی فوجی حوالے سے لڑتے ہیں اور دوسری طرف اپنے بارے میں اعتراف کرنے کے بجائے کہ یہ بیمار ذہنیت کا حامل ہیں اور انہیں لمبے علاج کی ضرورت ہے دوسروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ انتہا پسندی کا یہ وائرس معاشرے اور کلچر میں داخل ہو چکا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کا عمل برین واشڈ لوگوں کی طرح ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور اس کا دفاع کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس ماحول میں جب دہشت گردی کی مخالف قوتیں ان کے سو بندوں کو مارتی ہیں تو ان کی جگہ ایک ہزار انتہا پسند جنم لے لیتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size