جمہوریت کا حلالہ

مطیع اللہ جان
مطیع اللہ جان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

آخر وہی ہوا جو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے وسعت اﷲ خان نے کہا تھا : ”خان صاحب پچاس ہزار کا قالین پانچ سو میں بیچنے پر تیار ہو گئے۔“ آخر وزیر اعظم کے تیس دن کے لئے مستعفی ہونے سے متعلق تحریک انصاف کے نئے مطالبے کو اور کیسے دیکھا جائے۔ بادشاہت کے خاتمے کے اعلان سے شروع ہونے والی لانگ مارچ اب شاہی دربار میں ”لونگ مارچ“ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ نئے پاکستان کے لئے بجایا جانے والا طبل جنگ اب مہندی کے ڈھول کی تھاپ میں دب گیا ہے۔ خان صاحب کو نئے پاکستان میں سب سے پہلے اپنی شادی کرنی ہے جس کا اظہار وہ برملا کر چکے ہیں جس کسی نے بھی اس انقلاب کا سکرپٹ لکھا تھا اس نے وزیر اعظم نواز شریف کو کچھ زیادہ ہی کمزور دل سمجھا۔ عمران خان کی تقریروں میں نیوٹرل ایمپائر کے دجال کی آمد کا بار بار اعلان کیا گیا۔ چوہدری برادران اور شیخ رشید نے بھی سپہ سالار کی آمد کے خوب بگل بجائے اور چند بےرحم اور باوردی عناصر نے بھی صحافیوں کو نئی قومی حکومت کی فہرستیں دکھا کر ڈرانے کی کوششیں کیں مگر نواز شریف کافی حد تک گھبرانے کے باوجود پتے پھینکتے رہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اب ”نیا پاکستان“ وزیراعظم کے محض تیس دن کے استعفیٰ کے نرخ پر آ گیا ہے۔

اس تیس دن کے استعفیٰ کے مطالبے کی خاص بات یہ ہے کہ حکمران جماعت حکومت میں رہے گی اور اس کاکوئی بھی لیڈر تیس دن کے لئے وزیر اعظم کا ”بیش قیمت“ عہدہ سنبھال سکے گا۔ تاہم ابھی تک یہ ایک مطالبہ ہی ہے جسے قبول نہیں کیا گیا۔ نجانے جو نیا پاکستان کئی ماہ کی تحریک کے بعد نہ بن سکا وہ وزیر اعظم کے ایک ماہ کے استعفیٰ سے کیسے بن پائے گا اور ویسے بھی سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور ججوں پر مکمل اعتماد کرنے والے عمران خان کیوں سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف ان ججوں کے عدالتی کمیشن پر انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے دوران اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موجودہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے ان معزز ججوں کو گمراہ کرے گا تو اس کا مطلب بھی سپریم کورٹ کے ججوں کی اہلیت اور صلاحیت پر عدم اعتماد ہے اور اس کا آئین میں کوئی ایسا فوری علاج نہیں جو تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران ہی ہو جائے۔

صورت حال کچھ ایسی ہی ہے کہ ایک محلے کے تھانیدار کو کسی شادی شدہ خاتون سے یکطرفہ محبت ہو گئی تو اس نے ایک سازش کے تحت ایک مقامی نوجوان سے یہ درخواست ڈلوا دی کہ اس نے کھڑکی سے سنا کہ خاتون کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے اور اب وہ نوجوان اس سے شادی کا حق رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوجوان نے اس خاتون کے گھر کے باہر دھرنا دے دیا۔ شریف شوہر نے اپنی حفاظت واسطے اسی تھانیدار سے مدد طلب کرلی۔ پھر کیا تھا اس تھانیدار نے اس گھر میں بسیرا کر لیا۔

پھر نوجوان کا مطالبہ آیا کہ وہ خاتون میں دلچسپی نہیں رکھتا مگر اصولوں کے مطابق اس کا حلالہ کرنا ضروری ہے۔ آگے کیا ہوا یا ہو گا یہ کہنا تو مشکل ہے مگر تھانیدار نے اس گھر میں رہائش اختیار کرلی اور نہ تو طلاق ہوئی اور نہ ہی حلالہ۔ عمران خان کا بھی یہ مطالبہ کہ وزیراعظم تیس دن کے لئے مستعفی ہو جائیں ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ جمہوریت کے حلالے کا مطالبے کر رہے ہوں اور اگر نواز شریف اس سیاسی حلالے سے بچ بھی گئے تو کیا تھانیدار سے پیچھا چھڑا لیں گے۔ اگر نہیں تو کروڑوں ووٹ والے عوامی مینڈیٹ کے شوہر کا کیا بنے گا۔
اتنے بڑے بحران کے بعد جو کچھ جمہوری اور آئینی نظام کے ساتھ ہو چکا ہے اس کے بعد یہ کہنا بہت مشکل ہو گا کہ جمہوریت بچ گئی یا جیت گئی۔ نواز حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اقتدار کی چھت تلے اس نے عوامی مینڈیٹ کی وفاداری کرنا ہے یا پھر کچھ اور۔ اگر عوامی مینڈیٹ کی دلہن بننے کے پہلے سال ہی حکومت یہ حالات ہیں تو پھر آئندہ عمر کیسے گزرے گی۔ اس بحران کے بعد کی جمہوریت وہ جمہوریت نہیں رہے گی جس کا وعدہ 2013ء کے انتخابات میں کیا گیا تھا۔

دوسری طرف عوامی تحریک کے طاہر القادری صاحب کے ماڈل ٹاؤن واقعے سے متعلق مطالبات بھی جائز ہیں۔ اب مسئلہ وہی ہے کہ جب تھانیدار گھر میں گھس کے بیٹھا ہو تو جرم کی تحقیقات منصفانہ کیسے ہوں گی۔ ماڈل ٹاؤن واقعے کے بعد پولیس کی طرف سے محکمانہ سطح پر جو ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے وہ تھانیدار کے آنکھ کے اشارے کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے اور پولیس کے نظام میں جب حکومتیں محض اقتدار کی لالچ میں عوامی مینڈیٹ کی توہین برداشت کر لیں تو پھر مقامی تھانیدار عوامی مینڈیٹ کے شوہر نامدار کے ساتھ یہی کچھ کرتے ہیں۔ نواز حکومت کو لانگ مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنوں کے بعد سنجیدگی سے اور جرات کے ساتھ تھانیداروں کو واپس تھانوں میں بھیجنا ہو گا تاکہ دوبارہ کوئی ایسی سازش نہ کر سکے ورنہ پھر اقتدار کے ان ایوانوں کے باہر یہ اطلاع عام لگوا دیں۔ "Don't Distrub"

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size