دھرنا اور جواب دہی

طلعت حسین
طلعت حسین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

یہ گالیوں کا موسم ہے۔ بات کرو۔ گالی۔ جواب دو۔ گالی۔ رائے کا اظہار کرو۔ گالی۔ تاریخ دہراو۔ گالی۔ حقیقت بتلائو۔ گالی۔ آئین کا حوالہ دو۔ اْس سے بھی بڑی گالی۔ ان بے شمار گالیوں میں بدترین گالی تہمت کی شکل میں دی جا رہی ہے۔ پاگلوں کی منطق کی طرح یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر آپ عمران خان کے ساتھ نہیں ہے تو آپ اس کے بدترین مخالف ہیں۔ لہٰذا آپ نواز لیگ کے ساتھ ہیں۔ جس سے مراد یہ ہے کہ آپ پیسہ لے کر منہ کھولتے ہیں۔ آپ کے قلم میں ڈلی ہوئی سیاہی حرام مال ہے۔

مختلف ذرایع سے موصول ہونے والی تہمتوں، دھمکیوں اور گالیوں میں مسلسل یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ میری تنقید میں وزن نہیں بغض ہے اور یہ نواز لیگ کی آواز ہے۔ دوسرے صحافیوں کے ساتھ پچھلے ہفتے وزیر اعظم پاکستان اور اْن کی کابینہ کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ میں شرکت کے دوران میں نے نواز شریف صاحب کو کہا کہ ساری زندگی بہت سی انہونی باتیں میرے ذہن میں آئیں مگر یہ کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ نواز لیگ کی وجہ سے مجھ پر بدترین ذاتی حملے ہوں گے۔

اس جملے کا مقصد مزاح پیدا کرنا نہیں تھا، یہ اْس ذاتی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جو بیشتر سیاسی حلقوں کو کسی نہ کسی طرح میرے بارے میں معلوم ہے۔ میں نے آج تک کسی انتخاب میں مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔ بطور شہری ووٹ دینے کی حد تک سیاسی وابستگی کا اظہار ہمیشہ مسلم لیگ مخالف جماعتوں کے ساتھ ہی کرتا رہا۔ بطور صحافی اس جماعت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خراب رہے۔ کو آپریٹو اسکینڈل سے لے کر موٹر وے اور موجودہ میٹر و بس تک کے سیاسی سفر کی طویل داستان میں میرے تجزیئے اور رپورٹنگ ہمیشہ نواز لیگ کو بری طرح چبھتے رہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ چند ماہ پہلے تک نواز لیگ مجھے پاکستان تحریک انصاف کے کیمپ کا نمایندہ سمجھتی تھی۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ میں تحریک انصاف کی تمام قیادت کو ذاتی طور پر اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ عمران خان کے اس قریبی حلقے کو چھوڑ کر جو اْن کے ذاتی معاملات کا دائرہ متعین کرتا ہے ملک میں اکا دکا صحافیوں کے علاوہ شاید ہی کوئی اور ہو جو مجھ سے بہتر عمران خان کی سیاسی تاریخ رقم کر سکتا ہو۔ میں اس تاریخ کے بننے کا عینی شاہد ہوں۔ اور بعض اہم مواقعے پر اثر انداز ہو کر اپنا حصہ بھی ڈالا ہے۔

وہ مواقعے اور موڑ کون سے تھے اْس کے بارے میں عمران خان بھی جانتے ہیں اور جہانگیر ترین بھی۔ جب کبھی حقائق تحریری صورت میں آئیں تو پتہ چلے گا کہ مجھے تحریک انصاف کے اندر کے معاملات سمجھنے میں اپنی برادری کے دوسرے ممبران کی نسبت آسانی کیوں ہوتی ہے۔ میں تحریک انصاف کی فیصلہ سازی اور اس کی موجودہ ساکھ اور سوچ کا بہترین ماہر تو نہیں ہوں لیکن یہ ضرور ہے کہ علم ضرور رکھتا ہوں کہ عمران خان اور جہانگیر ترین یا شاہ محمود قریشی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے پیچھے کیسی سوچ اور محرکات کارفرما ہو سکتے ہیں۔

اس وقت تحریک انصاف ذرایع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ایک حصے میں خصوصی تشہیر سے پیدا کیے ہوئے مثبت شور و غوغے سے پرے ہٹ کر گہرے بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ اس کی پالیسوں پر کئی ایسے اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کی بنیاد مضبوط اور جن کا اثر پاکستان کے جمہوری مستقبل پر گہرے انداز سے پڑ رہا ہے۔

پہلا بڑا اعتراض آئینی ہے۔ ملک کے کسی بھی منتخب وزیر اعظم کی کنپٹی پر پستول رکھ کر استعفی لینے کی گنجائش موجود نہیں۔ احتجاج کے حق کو آئینی نظام کی روح کو قبض کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ طاہر القادری کا سانحہ ماڈل ٹاون پر مقدمہ بجا اور احتجاج سچا ہے۔ مگر پارلیمان پر دھاوا بولنا اور اسمبلیوں کی تحلیل کر نے کا مطالبہ اور ریاستی نظام کو درہم برہم کرنے کی دھمکی بغاوت ہے۔

یہ قانون میں نے نہیں بنایا یہ اس ڈھانچے کا حصہ جس کے تحت ہم اپنی آزادیاں اور حقوق رکھتے اور غصب ہونے کی صورت میں واپس مانگتے ہیں۔ عمران خان کے مطالبے پارلیمان کی حیثیت ویسے ہی چیلنج کرتے ہیں جیسے طاہر القادری کے زبانی حملے۔ عدلیہ پر بداعتمادی یہ مفروضہ کہ نواز شریف نے بحیثیت شخصیت تمام آئینی عمل پر حاوی ہو کر دھاندلی کی تحقیقات کو آزاد منش ججوں کے ہاتھوں سے چھین لیا ہے۔ ایسا الزام ہے جسکو بہترین وکیل بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ نظام کے بوگس ہونے کا نعرہ لگانے کے باوجود تمام تر توجہ صرف ایک شخص پر مرکوز کر دی ہے۔ ظاہر ہدف وہی شخص ہے نظام نہیں۔

تحریک انصاف کی طرف سے دھاندلی کا مقدمہ انتہائی مضبوط ہوتا اگر یہ جماعت سیاسی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے صوبائی اسمبلی سے خود کو علیحدہ کرتی۔ تمام ممبران اپنے استعفی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کو دینے کے بعد قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اپنے دوستوں کو اگلے مرحلے کی طرف راغب کرتے۔ اور اس طرح اسمبلیوں سے باہر آ کر اس مبینہ دو نمبر ڈھانچے پر پتھر پھینکتے تو مناسب لگتا۔ مگر خیبر پختو نخوا میں طاقت عزیز ہے وہاں پر دھاندلی والا نظام قبول ہے۔ مرکز میں بھی استعفی ایسا گورکھ دھندا بنا دیا گیا ہے جس سے نتیجہ حاصل کرنا فی الوقت مشکل نظر آ رہا ہے۔

میں تقریباً ایک درجن پاکستان تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی سے بالمشافہ مل چکا ہوں۔ میں تمام تر دیانت داری سے بتا سکتا ہوں کہ اپنی قیادت کے بارے میں وہ جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں اْس کے سامنے ہماری طرف سے ہونے والی تنقید تعریف کی طرح محسو س ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں سے منتخب ہونے والوں ممبران قومی اسمبلی کا پرویز خٹک کی حکومت کے بارے میں تجزیہ سنیے تو آپ کو عابد شیر علی اور طلال چوہدری تحریک انصاف کے دوست محسو س ہونگے۔

ظاہر ہے تحریک انصاف کے اندر اس نظام کو تہہ و بالا کرنے پر واضح اکثریت راضی نہیں ہے۔ مگر عمران خان اور جہانگیر ترین کو کچھ خاص معلوم ہے کہ وہ اکثریت کی رائے کو مسترد کر کے اپنے احتجاج پر لگے ہوئے ہیں لہذا یہ اندر کی باتیں باہر نہیں آ رہیں۔ بہر حال جب تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں گے تو آپ کو پتہ لگ جائے گا۔ اس سے بھی بڑا اعتراض ان قوتوں کے ساتھ مل بیٹھنا ہے جو اس ملک میں ایسی سیاست کی نما یندگی کرتی ہیں جس نے نظام میں فساد اور عناد کے سوا کچھ جنم نہیں دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چند ایک کارکنان کو چھوڑ کر جلسے میں عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے چند چہروں کو چھوڑ کر غور سے دیکھئے کہ ان میں سے انقلاب لانے والے کتنے ہیں۔ اگر اس ملک میں انقلابی فلسفے کا استاد شیخ رشید ہے تو خود ہی سمجھ جایئے گا کہ انقلاب کیسا ہو گا۔ میڈیا کی طرف سے پھیلائی ہوئی دھند اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگوں کی آنکھوں کے پانی کو گدلا کر رہی ہے۔ 2008ء کے بعد فیس بک کے ذریعے شعور پانے والی نئی پود کی یادداشت اتنی محدود ہے۔ اسکو کچھ بھی بتا دیا جائے وہ اس پر یقین کر لیتی ہے۔

تحریک انصاف کے پاس موجودہ بحران میں سے بہترین نتائج نکالنے کا موقع سامنے کھڑا ہے۔ نظام میں اصطلاحات اور بہترین جمہوریت کے قیام کا ایک شخص کے استعفیٰ سے کوئی تعلق نہیں اگر نظام کی تطہیر اور تبدیلی پر اتفاق رائے بن چکا ہے تو نواز شریف کو گردن سے پکڑ کر نکالنے یا فوج سے مدد طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر نواز شریف اس ملک کی جمہوریت کے لیے سب سے برا خطرہ ہے تو اچھی جمہوریت اْس خطرے سے خود ہی نپٹ لے گی۔ مگر تحریک انصاف کی قیادت اچھی جمہوریت حاصل کرنے کا یہ موقع کیوں نہیں حاصل کرے گی۔

جب ہم یہ سوچنے ہر مجبور ہوں کہ اچھی جمہوریت اور بہترین نظام اور نئے پاکستان کے تمام دعوے جن کو کنٹینر کے سامنے عوام کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کنٹینر میں موجود منصوبہ سازوں کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اچھی جمہوریت کی زد سے سیاسی جماعتوں کی موجودہ قیادت میں سے شاید ہی کوئی بچ پائے۔ معاملہ جمہوریت کا نہیں نواز شریف کو فارغ کرنے کا ہے۔ یہ عوامی تحریک نہیں مہم جوئی ہے۔ اس ذاتی لڑائی میں سچائی اور حقیقت وہ اجناس ہیں جن کی کوئی مانگ نہیں مگر یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے جواب نہ عمران خان کو دینا ہے نہ نواز شریف کو۔ میں صرف اپنے ضمیر کو جوابدہ ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size