کیمرون منٹر، مائیکل ہیڈن اور پاکستان؟

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکہ میں بے چین پاکستانی آبائی وطن سے اچھی خبر کے لئے شدت سے منتظر ہیں کہ دھرنا سیاست کے قائدین اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی ختم ہو معیشت بہتر ہو پاکستان میں امن ہو۔ ادھر پاکستان میں بسنے والے یہ جاننے کے لئے بے چین ہیں کہ دھرنا سیاست کے قائدین حکومت اور پارلیمانی اپوزیشن کے درمیان موجودہ محاذ آرائی کے بارے میں امریکہ کیا حکمت عملی رکھتا ہے اور اگر یہ تصادم کی سیاست جاری رہی یا ممکنہ مداخلت کی نوبت آ گئی تو پھر عالمی سپر پاور امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا؟ متعدد جوتشیوں اور فلکیاتی گردش کے بارے میں مہارت رکھنے کے دعویدار پاکستان کے بارے میں اس عرصہ کے لئے مشکل حالات کی پیش گوئی بھی کر چکے ہیں مگر عجب اتفاق ہے کہ کسی پامسٹ یا اسٹرالوجسٹ کی کسی پیش گوئی کے بغیر ہی پچھلے دو ہفتے صحافتی اعتبار سے میرے لئے بہت اچھے یوں ثابت ہوئے کہ پاکستان کی موجودہ مشکل صورتِ حال اور تشویشناک امکانات کے تناظر میں غیر متوقع طور پر ایسی امریکی شخصیات سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہوا جو پاک۔ امریکہ تعلقات کے خفیہ اور اعلانیہ پہلوئوں کے بارے میں بڑی معلومات رکھتے ہیں۔

ان میں ایک تو جنرل (ر) مائیکل ہیڈن تھے جو امریکی سی آئی اے کے سربراہ رہ چکے ہیں اور جب آصف زرداری صدر مملکت منتخب ہو کر اقوام متحدہ سے اپنی زندگی کے پہلے خطاب کے لئے نیو یارک آئے تھے تو 2008ء میں آصف زرداری سے امریکی سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر مائیکل ہیڈن نے نیو یارک میں ایک اہم، غیراعلانیہ اور خفیہ ملاقات کی تھی اور جب یہ خفیہ ملاقات ہوٹل میں جاری تھی تو میں نے ’’جیو‘‘ پر اس ملاقات کا راز اور مقصد دونوں افشا کردئیے تھے جس کی تصدیق جنرل (ر) مائیکل ہیڈن نے تقریباً 6 سال بعد 16 اگست 2014ء کو ڈاکٹروں کی تنظیم ’’اپنا‘‘ کے تحت ایک مذاکرہ کے دوران تصدیق کر کے میری صحافتی ساکھ میں اضافہ یہ کہہ کر کیا کہ ہم نے اس ملاقات کی ’’سیکریسی‘‘ کی خاطر کاروں کا استعمال نہیں کیا مگر اس پاکستانی صحافی نے آصف زرداری سے میری ملاقات کی خبر دے کر راز افشا کر دیا۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے ’’جیو‘‘ کے لئے انٹرویو کے دوران بھی جمہوریت کے تسلسل اور آئین کی برتری کی واضح اور پرزور حمایت کی اور ڈائیلاگ کے ذریعے سیاسی مسائل کے حل پر دو ٹوک الفاظ میں زور دیا۔ جنرل (ر) کیانی اور جنرل (ر) پاشا سے اپنے مذاکرات کو خوشگوار تو قرار دیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاکستانی ہم منصبوں کا فوکس افغانستان کی اسٹرٹیجک گہرائی برائے پاکستان تھا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سیکورٹی کا حصول پاکستانی جنرلوں کا مقصد تھا۔ لہٰذا پاک۔امریکہ تعلقات مبہم اور غیرمستحکم رہے۔ امریکہ کا فوکس دہشت گردی کے خاتمہ پر تھا جوکہ پاکستانی جنرلوں اور حکمرانی کے لئے کئی مسائل میں سے ایک مسئلہ تھا۔ اور اس طرح انہوں نے پاک۔ امریکہ تعلقات کی ناہمواریاں بیان کیں۔ مگر وہ اس معاملے میں بہت واضح تھے کہ صرف آئینی اور جمہوری تسلسل اور سیاسی طور پر متحارب عناصر کے درمیان ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل ہی واحد راستہ ہے۔ مائیکل ہیڈن خود فوجی جنرل رہے ہیں مگر وہ امریکی ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کے لحاظ سے صرف جمہوری تسلسل اور آئین کے تحت ورکنگ کے حامی ہیں۔ اسی اثناء میں امریکہ محکمہ خارجہ کے حکام سے سوالات کا تبادلہ اور جوابات جاننے کا بھی موقع ملا۔ اور اب 24 اگست 2014ء کو پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر کیمرون منٹر سے نیو یارک میں امریکی اسٹاک ایکسچینج NASDAC میں ایک ایسی ٹیکنالوجی کمپنی کے رکن بننے کی تقریب کے بعد تبادلہ خیال کے نتیجے میں سامنے آئے (ٹیکنالوجی کمپنی پاکستان میں 1500 افراد کو روزگار فراہم کئے ہوئے ہے۔

اور اس امریکی کمپنی کے بانی چیئرمین اور سی ای او پاکستانی نژاد محمود حق ہیں جبکہ کیمرون منٹراس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں) تقریب کی رسومات اور کارروائی کے ختم ہونے پر پاکستان کی موجودہ صورت حال کے بارے ان کی دانشورانہ سوچ اور ماہرانہ رائے جاننے کی کوشش کی تو وہ عمران، طاہر القادری اور نواز شریف کی داخلی سیاست بازی کے بارے میں کچھ کہنے کے بارے میں محتاط رہے مگر انہوں نے بھی یہ کہہ ڈالا کہ صرف اور صرف جمہوری عمل کا تسلسل ہی امریکا کے لئے قابل قبول ہے۔ جمہوری عمل سے انحراف نہ صرف امریکہ کو ناقابل قبول ہے بلکہ پاکستان کے لئے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ کیمرون منٹر جیسے شستہ ڈپلومیٹ اور دانشور بھی اپنی گفتگو میں واضح اشارے دے رہے ہیں کہ پاکستان میں موجودہ صورت حال میں فوج کی مداخلت کی صورت میں پاکستان اور امریکہ میں ناراضگی بڑھے گی۔ بعض امریکی ذرائع نے تو واضح طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ اگر دھرنا اور مارچ کی اس تلخ تند و تیز تصادم کی نوعیت والی صورت حال کے نتیجے میں مداخلت ہوئی تو امریکہ اپنے قوانین کے تحت پاکستان پر اقتصادی اور امداد کی پابندیاں عائد کردے گا۔ اصول اور جذبات کے لحاظ سے تو پاکستان پر امریکی پابندیوں کے امکانی نفاذ مذاق اڑایا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر آج کے غیرمستحکم معاشی مسائل کے شکار پاکستان کیلئے ایسی امریکی پابندیاں اس کی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گی۔ لہٰذا عمران خان، طاہر القادری اور وزیر اعظم نواز شریف کو یہ طے کرنا ہے کہ تلخیوں، تصادم اور ذاتی انا کے ساتھ دھرنا اور مارچ ،ڈنڈے اور جوشیلے نعروں کی گرم سیاست کے ذریعےایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے یا پھر پاکستان کے اجتماعی مفادات کے استحکام اور جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لئے فی الوقت صبر و برداشت اور بقائے باہمی کے اصول کو پیش نظر رکھ کر آئین و پارلیمینٹ کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ آئینی حدود میں رہ کر رشوت اور مہنگائی و دیگر مسائل کے حل کے لئے آئینی طور پر تیاری کریں اور انتخابات میں ایجنڈہ تیار کر کے حالات اور حکومت پر قبضہ کا عوامی طریقہ استعمال کریں۔ فوجی مداخلت کے لئے حالات پیدا کرکے حکومت کو گرانے کی کوشش پاکستان کیلئے بڑی مہنگی پڑے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size