دھرنے، شروع سے آخر تک

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

یہ سلسلہ ایک غلط فہمی سے شروع ہوا اور اس غلط فہمی نے 13 فروری 2014ء کو جنم لیا، ترکی نے فروری میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے لیے سہ فریقی کانفرنس بلائی، یہ ترک صدر عبداللہ گل اور وزیراعظم طیب اردگان کا آئیڈیا تھا، پاکستان اور افغانستان دونوں نے یہ دعوت قبول کر لی۔

13 فروری کا دن طے ہوا، حامد کرزئی اپنی انٹیلی جنس کے سربراہ رحمت اللہ نبیل، وزیر خارجہ ضرار احمد عثمانی اور وزراء بسم اللہ محمدی، صلاح الدین ربانی، ڈاکٹر رنگین دادفر اور یحییٰ معروفی کے ساتھ انقرہ پہنچ گئے، پاکستان سے وزیراعظم میاں نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، سرتاج عزیز، طارق فاطمی اور محمود خان اچکزئی بھی ترکی چلے گئے، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو شمالی وزیرستان کی وجہ سے وفد میں شامل کیا گیا تھا، تحریک طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں پناہ گزین تھی۔

یہ لوگ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرتے تھے، فوجی قیادت کا خیال تھا افغان حکومت اگر پاکستانی طالبان کے سر سے ہاتھ اٹھا لے تو پاکستان ان لوگوں سے نبٹ لے گا، پاک فوج اور آئی ایس آئی کی قیادت طالبان کے خلاف ثبوت ساتھ لے کر گئی تھی، محمود خان اچکزئی بلوچستان کے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، ان کے بھائی محمد خان اچکزئی بلوچستان کے گورنر بھی ہیں اور یہ بلوچستان میں میر حاصل بزنجو اور ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کے اتحادی بھی ہیں، بلوچستان میں افغانستان کے ذریعے دس سال سے مداخلت ہو رہی ہے۔

بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ افغانستان کے راستے بلوچستان میں افراتفری پھیلا رہی ہے، افغانستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے ٹھکانے بھی موجود ہیں، محمود اچکزئی کو اس ایشو پر گفتگو کے لیے وفد میں شامل کیا گیا تھا، یہ لوگ 12 فروری کو انقرہ پہنچے ، 13 فروری کو میٹنگ شروع ہوئی تو حامد کرزئی نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی، ان کا کہنا تھا پاکستانی فوج نے افغانستان کے دشمن پال رکھے ہیں، یہ پاکستان سے افغانستان آتے ہیں اور نیٹو فورسز اور افغان حکومت کو بھاری نقصان پہنچا کر واپس پاکستان چلے جاتے ہیں، وہ بار بار اس نیٹ ورک کا نام بھی لیتے تھے۔

حامد کرزئی کا لہجہ غیر سفارتی اور اشتعال انگیز تھا، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پروٹوکول کی وجہ سے خاموش رہے، ان کا خیال تھا وزیراعظم فوج اور آئی ایس آئی کی صفائی دیں گے لیکن میاں صاحب حسب عادت خاموش رہے، یہ خاموشی طول پکڑ گئی تو ڈی جی آئی ایس آئی مداخلت پر مجبور ہو گئے، انھوں نے افغانستان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا، انھوں نے طالبان کے افغان کنیکشن بھی بیان کیے اور بلوچستان میں افغان اور بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی پیش کر دیے۔

حامد کرزئی مزید غصے میں آ گئے، عبداللہ گل نے مداخلت کی، فریقین کو ٹھنڈا کیا، میٹنگ ختم ہوئی اور آخر میں عبداللہ گل، حامد کرزئی اور میاں نواز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، پاکستانی وفد واپس آ گیا لیکن وفد کے آنے سے قبل پاکستان کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں حکومت اور فوج کے درمیان کچھاؤ کی افواہ پھیل گئی، فوجی مبصرین کا خیال تھا، میاں صاحب کو حامد کرزئی کے سامنے پاک فوج اور آئی ایس آئی کا دفاع کرنا چاہیے تھا۔

حامد کرزئی پاکستان پر الزام لگا رہے تھے جب کہ میاں صاحب خاموش بیٹھے تھے، فوج کو ان کے اس رویئے پر اعتراض تھا، یہ افواہ پاکستان کے اعلیٰ حلقوں میں تیزی سے پھیلنے لگی اور اس نے آگے چل کر اس غلط فہمی کی بنیاد رکھ دی جس کی کوکھ سے موجودہ بحران نے جنم لیا۔

مارچ اور اپریل کے مہینے آئے تو مزید دو واقعات وقوع پذیر ہو گئے، ملک میں خبر گردش کرنے لگی حکومت نے جنرل پرویز مشرف کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے اور جنرل مشرف کسی بھی وقت باہر چلے جائیں گے، یہ خبر ابھی افواہ تھی کہ خواجہ آصف نے دو ٹی وی پروگراموں میں کہہ دیا : ’’جنرل پرویز مشرف بھی قومی مجرم ہیں اور مشرف کے حکم نامے پر انگوٹھے لگانے والے بھی قومی مجرم ہیں اور یہ لوگ اب حکومت کے پائوں پڑ رہے ہیں۔‘‘

فضا میں ابھی ان انٹرویوز کا ارتعاش موجود تھا کہ خواجہ سعد رفیق نے بھی پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے کھڑے ہو کر بیان دیا ـ:’’پرویز مشرف مرد کے بچے بنیں اور ڈرامے بازی چھوڑ کر مقدمے کا سامنا کریں‘‘۔ خواجگان کا ہرگز ہرگز وہ مطلب نہیں تھا جو ان بیانات سے اخذ کر لیا گیا، یہ بیانات محض بیانات رہ جاتے اگر انقرہ کا واقعہ نہ ہوا ہوتا، خواجگان کو بھی اگر انقرہ کے واقعے کا علم ہوتا تو یہ بھی یقینا ان بیانات سے پرہیز کرتے، یہ بے چارے سادگی اور جذبات میں مارے گئے اور ان کے بیانات نے تنائو میں اضافہ کر دیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف 7 اپریل کو تربیلا میں ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کے دورے پر گئے، وہ وہاں کہنے پر مجبور ہو گئے : ’’غیر ضروری تنقید پر افسروں اور جوانوں کے تحفظات ہیں، فوج اپنے وقار کا ہر حال میں تحفظ کرے گی‘‘ اور یوں فوج اور سول حکومت کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، 19 اپریل کو کراچی میں حامد میر پر حملہ ہوا، جیو نے اس حملے کے بعد غیر ذمے داری کا ثبوت دیا، ڈی جی آئی ایس آئی کو حملے کا ذمے دار قرار دیا گیا، ساڑھے آٹھ گھنٹے ان کی تصویر ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی، فوجی حکام اس دوران حکومت سے رابطے کی کوشش کرتے رہے مگر حکومت نے جیو کو نہیں روکا، یہاں تک کہ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے مداخلت کی، میر شکیل الرحمن کو فون کیا اور یوں جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر ٹیلی ویژن اسکرین سے ہٹی۔

وزیراعظم میاں نواز شریف 21 اپریل کو حامد میر کی عیادت کے لیے اسپتال چلے گئے، فوج کے بعض اعلیٰ عہدیداروں نے اس عیادت پر اعتراض کیا، ان کا خیال تھا وزیراعظم کو حامد میر کی عیادت سے قبل آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر آنا چاہیے تھا اور ادارے کو اپنی حمایت کا یقین دلانا چاہیے تھا، وزیراعظم نے حامد میر کی عیادت کر کے فوج کو یہ پیغام دیا: ’’ ہم آپ کے بجائے جیو کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ اس عیادت نے غلط فہمی کی خلیج میں اضافہ کر دیا، رہی سہی کسر پرویز رشید کے اس بیان نے پوری کر دی جس میں انھوں نے فرمایا : ’’ ہم دلیل کے ساتھ ہیں، غلیل کے ساتھ نہیں‘‘۔ فوج میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو 19 اپریل کے واقعے کو حکومت اور جیو کی ملی بھگت قرار دیتے ہیں۔

ان تمام واقعات کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان رابطے تقریباً منقطع ہو گئے اور یہ افواہ پھیل گئی، میاں صاحب کسی بھی وقت جنرل راحیل شریف سے استعفیٰ مانگ لیں گے، مجھے ایک ریٹائرڈ جنرل نے بتایا : ’’ فوج کو یقین تھا جنرل راحیل شریف وزیراعظم کے دفتر جائیں گے اور ان سے استعفیٰ مانگ لیا جائے گا، فوج نے جنرل شریف کو انکار کا مینڈیٹ تک دے دیا تھا‘‘۔

عمران خان، علامہ طاہر القادری اور چوہدری صاحبان فوج اور حکومت کے ان اختلافات کو گہری نظر سے دیکھ رہے تھے، ان کا خیال تھا، یہ حکومت پر حملے کا سنہری موقع ہے، فوج اور حکومت میں فاصلہ ہے، ہم اگر اس وقت حکومت پر حملہ کرتے ہیں تو فوج نیوٹرل ضرور رہے گی چنانچہ 30 مئی 2014ء کو علامہ طاہر القادری، عمران خان اور چوہدری صاحبان نے لندن میں ملاقات کی اور حکومت کے خلاف فیصلہ کن لانگ مارچ کا معاہدہ کر لیا، یہ معاہدہ ہوا تو تین اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے، سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 12 جون 2014ء کو جنرل پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست نبٹا دی، عدالت نے وفاق کو 15 دن کے اندر جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا حکم دے دیا، یہ فیصلہ حکومت کے حلق میں پھنس گیا۔

اسلام آباد میں آج بھی بے شمار لوگ دعویٰ کرتے ہیں، حکومت کے ایک سینئر وزیر نے فوجی قیادت کو یقین دلایا تھا عدالت اگر حکم دے دے تو ہم جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹا دیں گے لیکن جب فیصلہ آیا تو حکومت نے نہ صرف سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا بلکہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے بھی انکار کر دیا، یہ فیصلہ براہ راست وزیراعظم نے کیا تھا اور اس میں وزیر داخلہ تک کو بائی پاس کر دیا گیا تھا، فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وعدہ یاد کرایا تو میاں صاحب نے جواب دیا : ’’ میں نے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا‘‘ وعدہ کرنے والے وزیر سے پوچھا گیا تو وہ شرمندہ ہو گئے اور اس شرمندگی میں ان کے وزیراعظم کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے، دوسرا واقعہ آپریشن ضرب عضب تھا، 13 جون کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہو گیا، حکومت نے 15 جون کو آپریشن کا اعلان کیا، دو دنوں کے اس گیپ نے سیاسی حلقوں میں یہ افواہ پھیلا دی کہ ’’فوج نے حکومت کی اجازت کے بغیر آپریشن شروع کر دیا‘‘۔

پاکستان مسلم لیگ ق، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان آج بھی ٹیلی ویژن پر یہ دعویٰ کرتے ہیں، یہ اطلاع بہرحال غلط تھی کیونکہ آپریشن کے معاملے میں سیاسی اور فوجی قیادت حقیقتاً ایک صفحے پر تھی، آپریشن ضرب عضب نے علامہ طاہر القادری اور عمران خان دونوں کو کنفیوژ کر دیا، یہ محسوس کرنے لگے فوج اور حکومت کے اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور آپریشن کے دوران اب کچھ نہیں ہو سکے گا چنانچہ مولانا نے ملک میں واپس آنے کا ارادہ ملتوی کردیا جب کہ عمران خان نے جلسے روکنے کا فیصلہ کرلیا لیکن پھر 17 جون کا واقعہ ہو گیا، پولیس نے لاہور میں ادارہ منہاج القرآن کے کارکنوں پر فائرنگ کی، 14 لوگ شہید اور 80 زخمی ہو گئے، یہ سانحہ حکومت کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، علامہ صاحب 23 جون کو پاکستان آ گئے، عمران خان نے 27 جون کو بہاولپور کے جلسے میں لانگ مارچ کا اعلان کر دیا، چوہدری صاحبان اور شیخ رشید ایکٹو ہوئے اور باقی کہانی آپ کے سامنے ہے۔

سانحہ ماڈل ٹائون کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم واقعہ بھی پیش آیا، محمود اچکزئی 17 اور 18 جون کو افغانستان گئے، صدر حامد کرزئی نے انھیں شاہی مہمان قرار دیا اور واپسی پر انھیں آئی ایس آئی کے خلاف جھوٹے ثبوتوں کے پلندے تھما دیے، محمود اچکزئی نے یہ ثبوت وزیراعظم کو دے دیے، وزیراعظم نے یہ ثبوت متعلقہ اداروں کو بھجوا دیے، اس پر بھی فوج برا مان گئی، فوج کو برا منانا بھی چاہیے تھا کیونکہ ہم جب غیرملکی اداروں کو ملکی اداروں پر فوقیت دیں گے تو دل تو ٹوٹیں گے، ناراضگیاں تو جنم لیں گی لہٰذا ناراضگیاں پیدا بھی ہوئیں اوردل بھی ٹوٹے اور آپ نے آنے والے دنوں میں ان ٹوٹے ہوئے دلوں کا نتیجہ بھی ملاحظہ کیا۔

ہم اب مارچ، دھرنے اور تھرڈ ایمپائر کی طرف آتے ہیں۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا خیال تھا (باقی کل ملاحظہ کیجیے)۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size