شیخ الاسلام، کپتان اور شیر

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

مسلمانوں کی تاریخ ایک دوسرے پر کفر اور غداری کے الزامات سے بھری پڑی ہے۔ تیمور لنگ نیشاپور کو فتح کرنے کے بعد طوس پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ فارسی کا عظیم شاعر فردوسی اس شہر میں دفن ہے۔ تیمور لنگ نے فردوسی کی قبر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بتایا گیا کہ فردوسی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا گیا تھا کیونکہ اس پر کچھ علماء نے کفر کا فتویٰ لگا دیا تھا۔ فردوسی کو ایک باغ میں دفن کردیا گیا تھا۔ تیمور لنگ اس باغ میں پہنچا تو یہ محض ایک ویرانہ تھا جہاں اونچی اونچی گھاس اور خاردار جھاڑیاں سر اٹھائے کھڑی تھیں اور انہی جھاڑیوں کے درمیان مٹی کی ایک قبر موجود تھی۔ طوس کے رہنے والوں نے اس قبر کے سرہانے ایک پتھر رکھنے کی زحمت بھی نہ کی تھی۔ تیمور لنگ اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ اس نے وہیں کھڑے کھڑے فردوسی کی قبر کو پختہ کرنے کا حکم دیا اور سنگ مزار تیار کر کے نصب کرایا تاکہ فارسی کے اس عظیم شاعر کا نام و نشان نہ مٹنے پائے۔ ایک طرف تیمور لنگ نے فردوسی کی قبر کو مٹنے سے بچایا دوسری طرف اسی تیمور لنگ نے ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کو قتل کیا۔ تیمور لنگ کو ’’فاتح عالم‘‘ بننے کا شوق تھا۔ وہ تمام عمر اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے جنگ و جدل میں مصروف رہا۔

تیمور لنگ دونوں ہاتھوں سے تلوار چلانے والا سخت جان جنگجو تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ حافظ قرآن بھی تھا۔ عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتا تھا۔ فقہی بحثوں میں علماء کو لاجواب کر دیتا لیکن میدان جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد انسانی کھوپڑیوں کے مینار بھی بنواتا تھا تاکہ دنیا پر اس کی ہیبت طاری ہو جائے۔ ’’فاتح عالم‘‘ بننے کیلئے تیمور لنگ نے غیر مسلموں سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا اور جس کسی نے اس کے ظلم کے خلاف سر اٹھایا وہ واجب القتل قرار پایا۔ وہ ’’فاتح عالم‘‘ تو نہ بن سکا لیکن ’’فاتح عالم‘‘ بننے کی خواہش کا غلام ضرور بن گیا اور اسی غلامی کے باعث اکثر مورخین فردوسی کے اس پرستار کو انسانی کھوپڑیوں کے میناربنانے والے ظالم شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ خواہشات کی غلامی میں گرفتار ہونے والے اپنے آپ کو تو ’’فاتح عالم‘‘ اور ’’رہبر انقلاب‘‘ سمجھتے ہیں لیکن اپنے ناقدین کو ہمیشہ کافر، غدار، ملک دشمن اور نجانے کیا کیا قرار دے ڈالتے ہیں۔

ایک زمانے میں برطانوی حکومت کی طرف سے متحدہ ہندوستان کے ذہین اور باصلاحیت لوگوں کو بڑے خوبصورت خطابات دیئے جاتے۔ ان خطابات کا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ ذہین اور باصلاحیت لوگ غلامی کی زنجیریں توڑنے کا خیال اپنے دل میں نہ لائیں۔ اس مقصد کیلئے برطانوی حکومت کسی کو خان بہادر اور کسی کو شمس العلماء کا خطاب دیتی تھی۔ ڈاکٹر محمد اقبال کو ان کی خوبصورت شاعری کے باعث ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا لیکن یہ خطاب اقبال کی حریت فکر کو محبوس کرنے میں کامیاب نہ ہوا اور اقبال نے محمد علی جناح کو قائداعظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اقبال اور قائدِ اعظم کی بدولت ہم نے برطانیہ کی غلامی سے نجات حاصل کرلی لیکن ہمارا حکمران طبقہ اوراہل فکر و دانش کی ایک بڑی اکثریت اپنی خواہشات کی غلامی سے نجات نہ پاسکی۔ قیام پاکستان کے بعد کسی کو قائد ملت کا خطاب ملا ، کسی نے اپنے لئے فخر پاکستان کا خطاب تراش لیا۔

کوئی امام شریعت اور مفتی اعظم کہلوانے لگا کوئی پیر طریقت بن گیا۔ وقت گزرتا گیا تو سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کیلئے نئے نئے خطابات سامنے آنے لگے۔ قائد عوام، فخر ایشیا اور خالق آئین پاکستان کے خطابات پانے والوں کو ہم نے پھانسی پر لگا کر شہید جمہوریت بنا دیا۔ کسی کو دختر مشرق قرار دیا پھر اسی پر کفر اور غداری کے فتوے لگا کر انتہا پسندوں کے ذریعہ خون میں نہلا دیا۔ جیسے پاکستان کی سیاست میں ذہین اور بہادر لوگ کم ہوتے گئے تو نجات دہندہ اور مسیحائے قوم بننے کی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ لمبے لمبے آمرانہ ادوار کے باعث پاکستان کی سیاست میں منافقت، چاپلوسی اور جھوٹ کی جڑیں بہت گہری ہوگئیں۔ ہمارے کئی سیاسی رہنمائوں اور علماء نے اپنے عمل کے ذریعہ عوام کے دلوں میں عزت پیدا کرنے کی بجائے بڑے بڑے خطابات پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔

ایک زمانے میں اے کے فضل الحق اپنے آپ کو شیر بنگال کہلوایا کرتے تھے۔ پھر ملک غلام مصطفیٰ کھر کو شیر پنجاب بننے کا شوق چرایا اور اب ہر دوسرا سیاستدان اپنے آپ کو شیر پاکستان کہلوانے کا شوق رکھتا ہے۔ ایک زمانے میں علماء کو مفتی اعظم کہلوانے کی تڑپ ہوا کرتی تھی اب کچھ حضرات شیخ الاسلام بن چکے ہیں۔ آج کل ایک طرف شیخ الاسلام کا انقلاب ہے دوسری طرف نئے پاکستان کے نقیب نے اپنے آپ کو خود ہی کپتان کپتان کہنا شروع کردیا ہے۔ شیخ الاسلام کا انقلاب چوہدری پرویز الٰہی سے شروع ہو کر جنوبی پنجاب کے مشہور جاگیردار سیاستدان ملک غلام مصطفیٰ کھر پر ختم ہوتا ہے۔ کپتان کا نیا پاکستان پرویز مشرف کو سید مشرف کہنے والے شیخ رشید احمد سے شروع ہوتا ہے اور ملتان کے ایک گدی نشین شاہ محمود قریشی کی مشاورت پر ختم ہو جاتا ہے۔ تیسری طرف شیر کھڑا ہے جس پر الزام ہے کہ 17 جون کو لاہور میں 14 انقلابیوں کی موت کا ذمہ دار اس کا چھوٹا بھائی ہے۔

اگلے روز شیخ الاسلام نے کفن ہاتھ میں پکڑ کر کہا ہے کہ اب معاملہ شیر کی حکومت سے برطرفی پر نہیں بلکہ شیر کی پھانسی پر ختم ہو گا۔ شیر کے حامی کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام اور کپتان مل کر جمہوریت کے خلاف سازش کررہے ہیں لیکن شیر اس سازش کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ اگر سیاسی خطابات اور نعروں کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو شیر صرف اور صرف جنگلی درندہ ہے۔ اس درندے کے سامنے آئین اور جمہوریت کی کوئی وقعت نہیں۔ شیر جنگل پر اپنی بادشاہت قائم رکھنے کیلئے کسی ظلم سے گریز نہیں کرتا۔ آجکل شیخ الاسلام اور کپتان مل کر شیر کو بکری بنانے پر تلے بیٹھے ہیں لیکن شیر کچھ صبر سے کام لے رہا ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ شیخ الاسلام اور کپتان کو بقول شخصے ایک گروہ کی خفیہ حمایت حاصل ہے اور یہ گروہ کسی بھی وقت فیض آباد کے راستے اسلام آباد میں داخل ہو سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے ملک میں ایک شیخ الاسلام کفن ہاتھ میں لیکر دوسرے مسلمانوں کو یزید کے ساتھی قرار دیتا ہے، کپتان ایک ڈکٹیٹر مشرف کے ساتھیوں کو دائیں بائیں سجا کر ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑنے کے دعوے کرتا ہے اور شیر بن کر انسانوں پر حکومت کرنے کی خواہش رکھنے والا حکمران یہ نہیں سمجھ پایا کہ شیر کہلوانا کوئی اعزاز کی بات نہیں۔

شیر بہادری کی نہیں درندگی کی علامت ہے۔ انسانوں سے دوستی رکھنے والا شیر جنگل میں نہیں رہتا بلکہ انسانوں سے دوستی صرف سرکس کے شیر رکھتے ہیں۔ اگر ہم تیمور لنگ کی طرح ’’فاتح عالم‘‘ بننے کی خواہش کی غلامی سے نجات پالیں اور شیر کہلوانے کی بجائے صرف ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کریں تو درندگی پر انسانیت فتح پا سکتی ہے۔ پاکستان کسی جنگل کا نام نہیں ہے یہ انسانوں کا ملک ہے۔ یہاں شیر کی نہیں ایک اچھے انسان کی حکومت چاہئے۔ اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ انسانوں کو انصاف ملے گا تو کوئی شیخ الاسلام ہاتھ میں کفن پکڑ کر مسلمانوں کے ملک میں مسلمانوں کو یزید کے ساتھی قرار دیکر پھانسی کا مطالبہ نہ کر سکے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size