.

ایٹمی صلاحیت دفاعی ترپ کا پتہ

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں اس پر تبصرہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کو سزا کیوں نہیں دی جا سکتی یا پاکستان کو غزہ کیوں نہیں بنایا جا سکتا یہ بات کرنا نادانی کی انتہا ہے کہ یہ برصغیر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی مسابقت جاری ہے اس پر میں نے ایک کالم 22 اگست 2014ء کو پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات محفوظ، مغرب سازش بند کر کے عنوان سے لکھ دیا تھا۔ یہ کالم مغرب کو انتباہ تھا، مگر بھارت کو بھی قرار نہیں ہے۔ اس نے 1971ء میں المیہ مشرقی پاکستان میں عملی کردار ادا کیا پھر 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کر کے ڈرایا۔ جواباً پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا اور صرف 9 سال کی قلیل مدت میں 1983ء میں ایٹم بم بنا لیا اور 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنے آپ کو ایٹمی طاقت ثابت کر دیا۔

یہ وقت تھا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور امن و چین کی فضا قائم کر دیتے مگر کچھ دن چین سے گزرے کہ بھارت نے کولڈاسٹار ڈاکٹرائین پر عملاً کام شروع کر دیا، یعنی پاکستان کے 8 مقامات پر پوری فورس کے ساتھ اس طرح اندر گھسے کہ پاکستان کو ایٹم بم استعمال کرنے کا موقع نہ مل سکے اور پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے جواباً پاکستان نے قریبی فاصلے کے ہدف مار کے میزائل اور چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا کر اُن کے اِس ڈاکٹرائین کو ناکام بنا دیا جس پر 2013ء میں بھارتی ایٹمی بورڈ کے چیئرمین شیام سرن نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے یہ ایٹمی ہتھیار استعمال کئے تو ایٹمی جنگ چھڑ جائے گی کیونکہ اِن کے استعمال سے پاکستان پر یہ الزام نہیں لگ سکتا تھا کہ اُس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کئے ہیں مگر 20 - 10 ہزار افراد اور اُن کے ساتھ میزائل، راکٹ اور ہتھیاروں کو بھاپ میں بدل دیتے اور عام تباہی کی بجائے وہ محدود تباہی کے زمرہ میں آتا۔ اس کا ذکر میں نے اپنے کالم 5 جون 2013ء کو اِس اخبار میں لکھا ہے۔ اس سے پہلے 28 جنوری 2013ء ایٹمی جنگ، بھارت مایوسی کا شکار اور پھر 16 ستمبر 2013ء کو بھارت۔ نئے ایٹمی نظریہ کا مخمصہ۔ کے عنوان سے کالم لکھے۔ بھارت اپنی سرشت سے باز نہیں آتا اب بھلا یہ سوچنا کہ پاکستان کو کیوں غزہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اُس کو سزا کیوں نہیں دی جا سکتی۔ اس کے جواب میں فوربس میگزین میں 5 دلائل دے گئے ہیں کہ پاکستان کو کیوں غزہ نہیں بنایا جا سکتا۔ فور بس میڈیا 1917ء سے تجارت، ٹیکنالوجی اور سیاست پر مضامین شائع کر رہا ہے۔

کئی بھارتی دانشور یہ سوال اٹھاتے سنے گئے کہ اِس سوال کی کیا ضرورت تھی، اس طرح کا مضمون کیوں شائع کیا گیا۔اس مضمون کے جواب میں تنکو وردرہ جین نے کئی بھارتی اور امریکیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ:" بھارت اس لئے نہیں کر سکتا کہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔" انہوں نے کہا کہ: "اسرائیل فلسطین اور پاکستان اور بھارت میں جو چیز مشترک ہے اور وہ "پی" اور "آئی" کی ہے۔" اِس کے علاوہ کسی طرح تقابلی جائزہ غزہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ پاکستان، دشمن کو 8 سیکنڈ میں صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ اسی بات کو تنکو صاحب نے واضح طور پر کہا کہ : "پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان پر کسی قسم کا حملہ دُنیا کی تباہی کے خطرہ کو دوچار کر سکتا ہے دوسری وجہ یہ ہے جو بھارت کو پاکستان پر حملہ کا اختیار نہیں دیتا کہ پاکستان سرکاری طور پر دہشت گرد حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔

اس لئے پاکستان کو غزہ جیسی صورتِ حال سے دوچار کرنے کا جواز نہیں ہے۔ تیسری وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکہ میں بھارتی لابی اتنی بااثر نہیں ہے جتنا کہ اسرائیلی لابی جو امریکہ کو پاکستان کے خلاف متحرک کر دے یا امریکہ بھارت کو پاکستان پر حملے کی اجازت دیدے۔ اب امریکہ بھارت کو مضبوط کرنے کے لئے جو کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے اور پیشکش پر پیشکش کئے جا رہا ہے۔ تنکو کے کہنے کے مطابق پاکستان امریکہ کے لئے اسٹرٹیجک بنیادوں پر اہم ہے۔ اس لئے پانچویں وجہ بتائی گئی کہ امریکہ بھارت کو پاکستان کے معاملے میں صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اِس میں پاکستان کا ایٹم بم پاکستان کے تحفظ اور پاکستان پر کسی کو حملہ سے روکنے کے لئے ترپ کارڈ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو دن رات بڑھا رہا ہے۔ جس پر مغرب نکتہ چینی کرتا رہتا ہے اور پاکستان پر دبائو ہے کہ وہ ایٹمی مواد نہ بنانے کا معاہدہ کرے۔

جس پر پچھلے ایک عشرے سے بحث و مباحثہ جنیوا میں ہوتا ہے۔ مگر پاکستان اِس کو رد کر دیتا ہے۔ پاکستان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس جو ایٹمی مواد ہے وہ دُنیا بھر کے ایٹمی مواد رکھنے والے ممالک میں سوائے شمالی کوریا کے سب سے کم ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان پر دبائو کہ وہ ایٹمی مواد بنانا بند کرے جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر لیا اور اُس کو دفاعی میزائل نظام دے رہا ہے۔ اس لئے پاکستان کو اپنے طور پر اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی اخلاقی اور دفاعی اجازت مل جاتی ہے، سو پاکستان اپنی سی کوشش کر رہا ہے۔ میں اگر یہ کہوں کہ اگر پاکستان کو کسی آزمائش میں ڈالا گیا تو اُس کی حیرت انگیز دفاعی صلاحیتیں منظر عام پر آجائیں گی جو اس وقت مغرب کے تصور میں بھی نہیں ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اِس صورتِ حال کے پیش نظر بھارت خود پاکستان پر حملے سے گریز کرتا ہے۔

پاکستان کے 2 فائیو اسٹار جنرلوں نے ایک برطانوی صحافی کو بیچ میں بٹھا کر کہا تھا کہ "اگر بھارت نے کوئی ایسی کوشش کی تو آپ جا کر اُن کو بتا دیں کہ 8 سیکنڈ میں آدھا بھارت ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔" اسی وجہ سے ایک بھارتی افسر نے اپنا نام بتائے بغیر کہا:
"اگر بھارت پاکستان پر کوئی سرجیکل اسٹرائیک کرتا ہے تو اُس کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے جو ہم دشمن کو پہنچانا چاہتے ہیں۔ جب آپ جنگ شروع کریں تو آپ کو 100 فیصد یقین ہونا چاہئے کہ فتح یاب ہوں گے۔ اگر آپ ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ نکتہ چیں آپ پر الزام دھر دیں گے جو آپ کو جنگ کے لئے اکسا رہے ہوتے ہیں کہ یہ حملہ کیوں کیا۔"

تاہم امریکہ نے بھارت کی حمایت میں اکثر اپنا وزن ڈالے رکھا ہے جیسے کہ اس نے کارگل میں کیا اور ساتھ ساتھ اسرائیل سے ایسے ہتھیار دلوا دیئے۔ جس کی وجہ سے بھارت شیر ہو گیا اور فلسطین کی حمایت سے بھی دستبردار ہو گیا۔ جس کی حمایت میں وہ ایک اچھا ریکارڈ رکھتا تھا۔

1971ء کے المیہ مشرقی پاکستان کے وقت بھی امریکہ بھارت کے ساتھ تھا۔ 2001/2002ء میں بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر مسلح افواج لگا دیں اس پر امریکہ، بھارت کو مسلح افواج ہٹانے میں ناکام رہا۔ 2008ء میں امریکہ نے پاکستان کو مغربی سرحد پر مسلح افواج تعینات کرانے پر راضی کیا۔ یعنی بھارت کی حمایت میں امریکہ دور تک جاسکتا ہے اور پاکستان کے فائدے میں وہ کچھ نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ امریکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

وہ ایشیائی نیٹو ۔بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور خود شامل ہو کر چین کے خلاف متحد ہو رہا ہے۔ بھارت کا عالمی ایجنڈا بھی اُس کی راہ میں حائل ہے وہ اکھنڈ بھارت بنانے کا خواہشمند ہے جس میں اس کی سلطنت انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی ہو جس میں پاکستان اور افغانستان بھی اس کا حصہ ہوں۔ اب پاکستان اس کے عزائم میں حائل ہے اور انتہائی مضبوطی اور کامیابی کے ساتھ اُس کے عزائم کو ناکام بنا رہا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ عالمی طاقتیں بھی پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ ایک جدید ایٹمی نظام رکھتا ہے جس میں اسٹرٹیجک ہتھیاروں کے علاوہ ٹیکنیکل ہتھیار اور ہر طرح کے میزائل موجود ہیں اور منجمد کرنے کے آلات اور رد منجمدی کے آلات سے پاکستان آراستہ ہے اور یہ کہ پاکستان کی مسلح افواج اُس اسلحے کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں اور استعمال کرنے میں کسی قسم کا گریز یا جھجک اُس کے اندر موجود نہیں ہے۔ مزید برآں پاکستان کا طے شدہ اصول پہلے حملے کرنے کا موجود ہے۔ اگر وہ کسی قسم کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے یااس کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ بے دریغ ایسا حملہ کر سکتا ہے جو تباہ کن ہو۔ اس لئے پاکستان کو غزہ بنانے کا خیال بھی دل میں لانا نہیں چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.