.

بھاری مینڈیٹ، بھاری ستم

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کارل مارکس نے کیا خوب کہا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے... پہلے سانحے کی صورت میں اور پھر مزاحیہ ڈرامے کی صورت میں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے ہی المناک اور طربناک واقعات کا چکر چلتا رہتا ہے۔ 1999ء کے شب خون پر افسوس سے آنسو بہائے جا سکتے تھے لیکن اس مرتبہ بھاری مینڈیٹ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر ہنسی ہی آتی ہے۔ مرض الموت میں مبتلا بھاری مینڈیٹ کراہ رہا ہے جبکہ معالج (فوج) کی انگلیاں ٹٹول رہی ہیں کہ اس میں کتنی جان باقی ہے۔ قریب ہی ’’مرگِ انبوہ، جشنِ دارد‘‘ کی مثل علامہ قادری اور کپتان کے پیروکار رقص کناں ہیں۔ وہ پارلیمنٹ جس میں کل جمہوریت کے حق میں دھواں دار تقاریر کی گئی تھیں، دم بخود ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا۔ خورشید شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ اُنہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔ جناب وزیر ِ اعظم قومی اسمبلی کو ہی اعتماد میں لے کر بتا دیتے کہ یہ سیاسی جمود نہیں ٹوٹ رہا اور ڈاکٹر قادری اور عمران خان بضد ہیں لہٰذا بادلِ ناخواستہ فوج سے رجوع کر رہے ہیں۔ اُنہیں اس صاف گوئی پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا کیونکہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور پھر فوج کے کردار پر بحث بھی ہو جاتی۔ تاہم میاں صاحب نے وہی کیا جو اُنھوں نے ء2000 میں نوابزادہ نصراﷲ خان اور اے آرڈی کے ساتھ کیا تھا... جب ان سے جمہوری جد و جہد کی باتیں کی جارہی تھیں تو درپردہ دفاعی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہو رہی تھیں۔ آج قومی اسمبلی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ اگر آخر میں یہی پتھر اٹھانا تھا تو سید خورشید شاہ اور پی پی پی سے اتنی کسرت کیوں کروائی؟ اس کھیل پر نظر ڈالیں... افسران نے کیا لمبی کبڈی کھیلی ہے۔ حکومت کو بھگا بھگا کر ہلکان کردیا اور جب حکومت کو اپنی بے بسی کا پوری طرح احساس ہوگیا تو پھر وہی کچھ ہوا جس بات کا اندیشہ (یا اندازہ؟) تھا کہ فوج آکر اس الجھی ہوئی گرہ کو سلجھائے۔

ویسے یہ حکومت نے اچھا کیا۔ جب ان سے معاملات نہیں سلجھ رہے تھے تو سپہ سالار صاحب کو خود ہی کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ جنہیں دعوت دے کر بلایا جائے، ان کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ پتہ نہیں کس کا شعر ہے...’’وہی ذ بح بھی کرے، لے وہی ثواب الٹا‘‘۔ عجیب زمانہ ہے، گلے پر چھری چلانے والے کو ثواب ملتا ہے اور قربان ہونے والا خود ہی دوڑا چلایا آیا ہے۔ اس سے پہلے تو فوج پر الزام لگایا جاتا تھا کہ اس نے جمہوریت کا جھٹکا کر دیا لیکن آج جھٹکا نہیں لگا، بلکہ تھکا تھکا کر نڈھال کر کے گرایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سارے فیصلے حکومت کے اپنے ہی تھے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہی ہماری جمہوری ترقی ہے کہ اب دفاعی اداروں نے کچھ نہیں کیا، ہم نے خود ہی اُنہیں سے کچھ کرنے کی درخواست دی ۔ اس طرح ہم نے تہذیب کادامن تھام کرفوج کو مداخلت کی دعوت دی ہے۔ میر نے سچ کہا تھا... ’’دامن پہ کوئی داغ نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ... تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو۔‘‘ ان کی کرامت پر تو بڑے بڑے شیخوخ مرید ہونے کو تیار ہوں گے۔ یقیناً ہم پرانے زمانے میں شائستگی سے تہی داماں تھے... کہاںاچانک دستوں کا ٹی وی اسٹیشن پر چڑھ دوڑنا، وزیرِاعظم ہائوس کا گھیرائو اورگھسی پٹی تقریر...’’میرے پیارے ہم وطنو‘‘۔’’ اگلے وقتوں کے تھے وہ لوگ، اُنہیں کچھ نہ کہو‘‘۔آج تہذیب اور تمدن کی کیا اوج ہے کہ بہت بہتر اسلوب اختیار کیا گیا ۔ جب ہر چیز صلح صفائی سے ہوجائے تو بدمزگی سے بچنا چاہئے۔ مہذب اور شریف قوموں کا یہی وتیرہ ہے۔ بہرحال جو کچھ ہوا ہے، اسے انہونی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ حالات اسی رخ جا رہے ہیں۔ بہت سے پنڈت جمہوریت کا راگ الاپ رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ اب ہم جمہوریت کی راہ میں بہت آگے آچکے ہیں، اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن کیا کیا جائے، دل تھا کہ مانتا نہیں۔ کبھی سننے میں آتا تھا کہ طاہر القادری بند گلی میں آ چکے ہیں، کبھی کہا جاتا تھا کہ کپتان اپنے راستے بند کر بیٹھا ہے، اس لئے اُنہیں کوئی محفوظ راستہ دے دینا چاہئے تاکہ وہ اپنی عزت و آبرو بچا کر نکل جائیں۔ تاہم اظہر من الشمس تھا کہ یہ حکومت ہے جو بند گلی میں پھنس چکی ہے، لیکن حسب ِ معمول حکومت کو یہ بات بہت دیر سے سمجھ میں آئی۔

نواز شریف تو حکمت ِ عملی بنانے کے جادوگر نکلے۔ پہلے فوج سے بگاڑ لی ، اور وہ بھی غیر ضروری طور پر۔ یوم ِ عاشور پر راولپنڈی میں ایک سنگین فرقہ وارانہ تصادم ہوا جس میں درجن کے قریب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کرفیو نافذ کرنا پڑتا ہے اور فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے۔ اس معاملے پر پردہ ڈالنے کے لئے اگلے ہی دن جنرل مشرف کے خلاف غداری کیس شروع کر دیا جاتا ہے۔ اسکے بعد ایک اور آفت آسمان سے ٹوٹ پڑی۔ علامہ طاہرالقادری نے اپنی پاکستان آمد کا اعلان کیا کیا کہ حکومت بوکھلا گئی۔ ذرا تصور کریں، دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ایک شخص کی آمد کے اعلان سے لرز اٹھی۔ اُس وقت پنجاب کے حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ قادری صاحب کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے، لیکن جب سبق کی مشقت کی دھول چھٹی تو ماڈل ٹائون سانحہ اپنی تمام تر ہولناکی کے ساتھ حکمرانوں کے گلے کا پھندا بن چکا تھا۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود منہاج القرآن کی طر ف سے ایف آئی آر نہ کاٹی گئی۔ خادم ِ اعلیٰ اور رانا ثنا اﷲ اس کی مختلف تاویلیں دیتے رہے۔ اس دوران خادم ِ اعلیٰ اپنی انگلی پر ؎زور طریقے سے ہلا ہلا کر دعویٰ کرتے رہے کہ اگر اس کیس میں ان کی طرف انگشت نمائی بھی ہوئی تو وہ مستعفی ہوجائیںگے۔ تاہم اب جسٹس باقر جوڈیشل کمیشن نے ان کو مورد ِ الزام ٹھہرایا ہے لیکن ابھی تک استعفیٰ نہیںآیا۔

حکومت کا پہلے تو ارادہ تھا ک پاکستان عوامی تحریک اورپی ٹی آئی کے ساتھ سختی کی جائے لیکن سانحہ ِ ماڈل ٹائون کے بعد پنجاب پولیس کا مورال گر چکا تھااور وہ تحریری احکامات کے بغیر کسی کارروائی پر آمادہ نہ تھی۔چاروناچار،تشدد اکا راستہ ترک کرنا پڑا... پھر کہنے لگے کہ وہ خون خرابہ نہیں چاہتے تھے۔ اس کے بعد حکومت نے امیدلگالی کہ مارچ کے شرکا تھک ہار کر واپس چلے جائیںگے، لیکن آج پارلیمنٹ کے سامنے وہ پوری تندہی سے دھرنا دئیے ہوئے ہیں اوروہ پسپائی اختیار کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ علامہ طاہر القادری کے پیروکاروںنے تواستقامت اور نظم و ضبط کی مثال قائم کی ہے۔ دھوپ اور بارش میں بھی وہ استقامت سے اپنی جگہ پر موجود رہے۔ اس دوران حکومت ان سے مذاکرات کرتی رہی، سیاسی جماعتیں اپنے تئیں کوشش میں رہیں۔ گورنر سندھ اور گورنر پنجاب بھی اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن نتیجہ صفر۔ اس دوران قومی اسمبلی میں تقریریں ہوتی رہیں لیکن لوگ علامہ صاحب کاخطاب اور عمران خان کے ترانے سنتے رہے۔ اس دوران حکومت کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ ماڈل ٹائون سانحہ کی ایف آئی آرہی درج کرلیتی۔ اس کے بعد پھر وہ ہماری قومی زندگی کی اہم ترین رات آئی جب آرمی چیف کو ثالثی کے لئے کہا گیا۔ رات طاہر القادری اور عمران خان کی چیف صاحب سے ملاقات ہوئی ،تاہم دن نکلا تو قومی اسمبلی میںہونے والی تقاریر نے معاملے کو پھر کنفیوژن میں ڈال دیا۔ اب حال یہ ہے کہ دھرنا تو بعد میں ختم ہوگا ، لوگ کہتے کہ پہلے جھوٹ سچ کا تو فیصلہ کرلیا جائے۔ یقینی طور پر آرمی چیف کی مداخلت سے اس معاملے میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔ اگر عمران خان اور طاہر القادری ان کی ثالثی کو قبول نہیں کرتے تو عوام ان کے اس اقدام کو پسند نہیں کریں گے۔ اگر نواز شریف کو گھر بھیج دیا جاتا ہے تو وہ سیاسی شہید بن جائیں گے۔ حکومت کے وزراء کا کہنا ہے کہ وہ دھرنا دینے والوں کو لاشیں نہیں دیںگے، عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف کو سیاسی شہادت کے رتبے سے سرفراز نہیں ہونے دیںگے۔ کالم کی اشاعت تک کچھ اہم واقعات پیش آچکے ہوںگے۔ قارئین اپنے دل کی دھڑکن پر قابو رکھیں۔ پی ایم ایل (ن) آئندہ رو رو کر باری تعالیٰ سے فریاد کیا کرے گی کہ آئندہ اُنہیں کبھی بھاری مینڈیٹ نہ دے۔ بس مناسب سی اکثریت جو کسی کو ساتھ ملاکر حکومت بنا لے، ان کے لئے اتنی ہی کافی ہے۔ اس سے زیادہ کا انجام وہی ہو گا جو پہلے ہوا تھا اور جو اب ہونے جا رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.