.

پاکستانی اسٹائل شطرنج

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مبارک ہو نیا پاکستان بن گیا اور انقلاب بھی برپا ہو گیا۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے، بہت سے محاورے دل و دماغ میں مچل رہے ہیں مثلاً پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، مگر مجھے آج نئے پاکستان کی بات نہیں کرنی۔ مجھے جمہوریت کا نوحہ نہیں پڑھنا، سیاست کے سانحۂ ارتحال پر فاتحہ خوانی نہیں کرنی کیونکہ پاکستان نیا ہو یا پُرانا، مصالحت کے لئے امپائر کو ثالث بنانا ہی پڑتا ہے۔ کیوں نہ آج کسی ایسے موضوع پر بات کی جائے جو سیاست سے ہٹ کر ہو۔ مجھے شطرنج کے کھیل سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ یہ بادشاہوں کا کھیل رہا ہے تاہم گزشتہ دنوں اس کھیل کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کر رہا تھا تو معلوم ہوا کہ یہ کھیل برصغیر پاک و ہند سے متعارف ہوا مگر آج پوری دنیا میں مقبول ہے اور اس پر یورپ کی اجارہ داری ہے۔ شطرنج کے مقامی اور عالمی قوانین میں معمولی سافرق ہو سکتا ہے لیکن اس کے بنیادی قواعد و ضوابط دنیا بھر میں کم و بیش ایک جیسے ہیں۔

64 خانوں پر مشتمل شطرنج کی بساط پر چال چلنے میں امکانات کی گنجائش اس حد تک کہ اس کائنات میں جو کھرب ہا الیکٹرونز ہیں ،شطرنج کی بعض چالیں چلنے کے امکانات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ شطرنج دو یا دو سے زیادہ کھلاڑی مل کر کھیل سکتے ہیں جن کے پاس ایک بادشاہ، ایک وزیر، دو اونٹ ،دو گھوڑے ،دو ہاتھی اور آٹھ پیادے یا سپاہی مہرے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ سب سے اہم مہرہ وزیر ہوتا ہے جسے انگریزی میں کوئین کہتے ہیں اسے اہمیت کے اعتبار سے تولا جائے تو اس کا وزن 9 سپاہیوں یا پیادوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے بعد رُخ یا ہاتھی کا مہرہ گرانقدر سمجھا جاتا ہے جو پانچ سپاہیوں کے برابر ہوتا ہے۔ گھوڑا تین سپاہیوں کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شطرنج کے اس کھیل میں بادشاہ بے مول ہوتا ہے۔ کھلاڑی اپنے مہروں کو مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھاتے ہیں اور ضابطے سے ہٹ کر کوئی چال نہیں چل سکتے۔ جیسا کہ سپاہی پہلی چال میں تو دو قدم چل سکتا ہے مگر اس کے بعد اس کی حرکت ایک قدم تک محدود ہو جاتی ہے کیونکہ یہ پیادہ ہے۔ اس کی ایک اور مجبوری یہ ہے کہ اسے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں بس آگے ہی بڑھنا ہے۔ گھوڑے کی خوبی یہ ہے کہ کھلاڑی چاہے تو اسے جمپ کرا سکتا ہے اور یہ ایک چال میں ڈھائی قدم کی پیش قدمی کر سکتا ہے۔ رُخ یا ہاتھی افقی یا عمودی سمت میں ہی آگے بڑھتا ہے مگر اسے ایک سیدھ میں چلتے ہوئے کسی بھی خانے تک لایاجا سکتا ہے۔

وزیر ٹیڑھا بھی چل سکتا ہے اور سیدھا بھی۔ کامیاب کھلاڑی وہ ہوتا ہے جو اپنے مہروں کے ذریعے یوں پیش قدمی کرے کہ بادشاہ کو گھیرے یا محاصرے میں لے لیا جائے۔ اگر مد مقابل کھلاڑی تگڑا ہو تو وہ اپنے بادشاہ کو محاصرے (Check) سے نکال بھی سکتا ہے۔جب بادشاہ اس طرح گھیرے میں آ جائے کہ ہاتھی،اونٹ ،گھوڑا، وزیریا سپاہی اس کا تحفظ نہ کر پائیں تو گیم اینڈ ہو جاتا ہے۔یہ تو ہے شطرنج کھیلنے کا وہ طریقہ جو پوری دنیا میں معروف ہے لیکن پاکستان میں کھیلی جا رہی شطرنج پوری دنیا سے نرالی اور عجیب و غریب ہے۔ یہاں شطرنج بہت سے لوگ مل کر کھیلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کئی ذہین و فطین اور تیز و طرار کھلاڑیوں میں سخت ترین مقابلہ جاری ہے ۔لوگ دم سادھے اور ٹکٹکی باندھے منتظر ہوتے ہیں کہ آخر شطرنج کی یہ بازی کون جیتے گا اور کس کس کو مات ہو گی۔ اچانک پردہ اُٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو سب فریب نظر تھا ۔جو کھلاڑی کی حیثیت سے کھیل رہے تھے وہ تو دراصل مہرے تھے، کھلاڑی تو بس ایک ہی تھا جو دونوں طرف سے چالیں چل رہا تھا۔ جب یہ کھلاڑی بیک وقت دونوں طرف سے چالیں چل رہا ہوتا ہے اور خود کو کھلاڑی سمجھ کر بازی لگانے والے مہروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہوتے ہیں تو پہلے سے دھوکہ کھائے ہوئے کھلاڑی بتاتے ہیں کہ تمہیں استعمال کیا جا رہا ہے لیکن یہ ہاتھی، گھوڑے، اونٹ ، وزیر اور پیادے اس وقت تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کرتے جب تک کسی چال کا حصہ بن کر اپنی موت آپ مر نہیں جاتے۔ کئی بار بادشاہ محاصرے میں آتا ہے، کھلاڑی خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ بس اب بازی ان کے ہاتھ میں آجائے گی لیکن اصل کھلاڑی کوئی ایسی چال چلتا ہے کہ بادشاہ گھیرے سے نکل آتا ہے۔یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ،مہرے بدلتے رہتے ہیں اور شطرنج کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی اسٹائل کی اس شطرنج میں کوئی قانون، کوئی ضابطہ، کوئی اخلاق، کوئی دستور نہیں ہوتا۔ اگر کھلاڑی چاہے تو ہاتھی ٹیڑھا چلنے کے بجائے سیدھا سب کچھ روندتا ہوا، وہاں تک پہنچ جائے جہاں کسی مہرے کو جانے کی اجازت نہیں۔

کھلاڑی کی منشاء ہو تو سپاہی بے حس و حرکت اپنے خانے میں موجود رہے اور اگر چاہے تو ایک یا دو قدم توکیا کئی قدم آگے لے آئے۔عام طور پر وزیر ٹیڑھا یا سیدھا چل سکتا ہے مگر پاکستانی شطرنج میں بادشاہ کو بھی گھٹنوں کے بل چلایا جا سکتا ہے۔کسی بھی مہرے کو بساط سے باہر بٹھایا جاسکتا ہے اور بوقت ضرورت اسے کھیل کا حصہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ان روایتی مہروں سے ہٹ کر بعض اوقات کوئی نیا مہرہ بھی کھیل میں شامل کیا جا سکتا ہے،مثلاً گھوڑے کی جگہ گدھے کو دے دی جائے،اونٹ کو کسی کروٹ بٹھا کر کسی منہ زور بیل کو کھیل کا حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان میں رائج شطرنج میں بادشاہ اور وزیر کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور سب سے اہم مہرہ سپاہی ،ہاتھی اور گھوڑے کو سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اس پاکستانی شطرنج کے کھیل میں کوئی ضابطہ حتمی نہیں ہوتا، قواعد بدلتے رہتے ہیں اس لئے میں تو کیا سالہا سال سے شطرنج کا کھیل دیکھنے والے بھی اسے نہیں سمجھ پائے۔اگر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے رابطہ کیا جائے تو پاکستانی شطرنج کو دنیا کا سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین کھیل قرار دلوایا جا سکتا ہے۔ویسے تو مسابقت ایک سے زائد کھلاڑیوں میں ہوتی ہے اس لئے پاکستان میں شطرنج کے کھلاڑی کو کبھی شکست ہو ہی نہیں سکتی لیکن اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کھلاڑی کی چال کبھی الٹ ہوبھی جائے اور اسے مات ہو جانے کا اندیشہ ہو تو فوراً بساط لپیٹ دی جاتی ہے تاکہ نہ رہے کھیل اور نہ رہیں مہرے۔میں اس غیر سیاسی کالم کے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا تو معلوم ہوا کہ مخدوم جاوید ہاشمی المعروف باغی اسلام آباد کا دھرنا چھوڑ کر ایک بار پھر ملتان روانہ ہو گئے ہیں۔ ملتان میں انہیں میڈیا سے گفتگو کرتے اور نئے پاکستان کی تشکیل پر خوش ہونے کے بجائے افسردہ ہوتے دیکھا تو خیال آیا شاید اس بھولے بادشاہ کی عمر بیت گئی مگر اسے شطرنج کھیلنی نہ آئی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.