.

اڈولف ہٹلر سے 'دیسی ہٹلر' تک

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میوزیم میں ہلکی ہلکی روشنی اور مکمل خاموشی تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے وہاں موجود لوگوں کی زبانیں گنگ ہو چکی ہوں ، وہ دم بخود ہو کر ان ہیبت ناک مناظر کو دیکھ رہے تھے جن کی وجہ سے انسانی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لئے بدل گیا، ایک منظر میں انسانی کھوپڑیوں کو مشین کے ذریعے اکٹھا کر کے اجتماعی قبر میں پھینکا جا رہا تھا ،دوسرے منظر میں برہنہ اور فاقہ زدہ مرد و زن قطار میں کھڑے تقدیر کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے کہ آیا جرمن سپاہی انہیں غلام بنا کر کام لینے کے لئے منتخب کریں گے یا ناکارہ قرار دے کر اکٹھے ایک ہزار لوگوں کو گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کر دیں گے ، تیسرے منظر میں ایک عورت کی کہانی تھی جو دہائی دے رہی تھی کہ کم از کم اس کے بچے کو زندہ رہنے دیا جائے اور چوتھے منظر میں تا حد نگاہ لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور چند لوگ ان کے پاس کھڑے اس بات کا فیصلہ کر رہے تھے کہ انہیں دفنانے کے لئے کتنی جگہ درکار ہوگی۔یہ واشنگٹن کا ہولوکاسٹ میوزیم تھا۔

اس میوزیم کو دیکھنے سے پہلے میرا تاثر تھا کہ یہاں ہولوکاسٹ سے متعلق چند تصاویر ہوں گی ،اکا دکا ویڈیو کلپ دکھائے جائیں گے یا زیادہ سے زیادہ وہ کتابیں ہوں گی جو مختلف لوگوں نے ہولوکاسٹ سے متعلق تحریر کیں، تاہم یہاں آ کر احساس ہوا کہ ہم لوگ دنیا کے بارے میں ایک ایسا نظریہ رکھتے ہیں جس کا حقیقت سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ۔اپنے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ہٹلر کو ایک کرشماتی لیڈر سمجھتے ہیں ،اس کے یہودیوں کے قتل عام کو اگر معمولی جرم نہیں سمجھتے تو کم از کم اسے مغرب کی مبالغہ آرائی ضرور گردانتے ہیں، علم و دانش کے کئی مقامی قطب مینار تو سرے سے ہولوکاسٹ کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔

دراصل قصور ان بیچاروں کا نہیں ،قصور اس نصاب کا ہے جو ہمیں سکولوں میں پڑھایا گیا ہے، اس کے نتیجے میں ایسے دولے شاہ کے چوہے ہی پیدا ہونے تھے جنہیں یہ بات ہضم کروانی نا ممکن ہے کہ پاکستان سے باہر ایک پوری دنیا آباد ہے اور وہ دنیا جمہوریت ، شخصی آزادی اور روشن خیالی پر یقین رکھتی ہے ، اس دنیا میں نسل پرستی کے خلاف شدید ترین قوانین ہیںاوراس دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جمہوریت سمیت آپس میں چند معاملات میںاجماع کر چکی ہیں اوراب ان پر بحث کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتیں،جبکہ اپنے ہاں تو آج بھی ٹی وی شو ز کی سرخی یہ لگائی جاتی ہے کہ جمہوریت نے ہمیں کیا دیا ،گویا چار آمریتیں تو اس ملک میں دودھ اور شہد کی کاک ٹیل بہا چکی ہیں!

اس میوزیم کی چار منزلیں ہیں ،ہر منزل تاریخی اعتبار سے ترتیب دی گئی ہے، میوزیم کی شروعات چوتھی منزل سے ہوتی ہیں جہاںہٹلر کے عروج میں آنے کا دوردکھایا گیا ہے، لفٹ کے ذریعے جب آپ یہاں پہنچتے ہیں تو شروع میں ایک چھوٹا سا ہال نما کمرہ ہے، یہاں چودہ منٹ کی ایک ڈاکیومنٹری دکھائی جاتی ہے‘ مبہوت کردینے والی یہ فلم دراصل ہٹلر کے اقتدار میں آنے کی داستان ہے، اس فلم میں ہٹلر کی بچپن اور جوانی کی تصاویر اور بعض نہایت نایاب ویڈیو کلپس ہیں جو شائد ہی کہیں اور دستیاب ہوں۔ ہٹلر نے جرمن قوم کو دلفریب نعرے دئیے اور ایسے سبز باغ دکھائے کہ جرمن قوم اسے اپنا مسیحا سمجھنے لگی ،ہٹلر کا نسخہ سادہ مگر مجرب تھا ،جرمن قوم پہلی جنگ عظیم کی ہزیمت اٹھا چکی تھی، کساد بازاری اور بدعنوانی عروج پر تھی، قومی منظر پر کوئی ڈھنگ کا لیڈر نہیں تھا جو قوم کی رہنمائی کرتا، ایسے میں ہٹلر نے پورے نظام کو تبدیل کرنے کا نعرہ لگایا، اس کی ولولہ انگیز تقاریر میں وہ تمام وعدے تھے جن کی جرمن عوام کو آرزو تھی، الیکشن مہم کے دوران ہٹلر نے جو تقاریر کیں وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں، ہٹلر کی پروپیگنڈا مہم نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ،کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اپنے استقبال کے لئے آنے والے بچوں کو پیار کرنے والا یہ شخص فقط چند سال بعد دس لاکھ بچوں کا قاتل بن جائے گا،یہ تمام مناظر فلم کے فیتے پر محفوظ ہیں ۔یکے بعد دیگرے ہونے والے انتخابات میں ہٹلر کو مکمل اکثریت نہ مل سکی تاہم بعد ازاں ہٹلر کوہی جرمنی کا حکمران نامزد کرنا پڑا کیونکہ ادھیڑ عمر چانسلر کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

میوزیم کا دوسرا حصہ ہمیں اس دور میں لے جاتا ہے جہاں سے نازی جرمنی میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز ہوا، اقتدار میں آنے سے پہلے ہٹلر نے یہودیوں کو جرمن قوم کی شکست و بدنصیبی کا ذمہ دار قرار دیا تھا چنانچہ سب سے پہلے اس نے تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر اس کے لیڈروں کو نظر بند کیا تاکہ اقتدار پر اس کی گرفت مضبوط ہو، اس کے بعد جرمنوں کو ’’ایک ملک، ایک قوم، ایک لیڈر‘‘ کا نعرہ دیا جس میں ہٹلر کے علاوہ کسی دوسرے کی اطاعت کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔بڑے بڑے اجتماعات میں ہٹلر کی ذاتی وفاداری کا حلف اٹھایا گیا اور یوں اپنی طاقت میں اتنا اضافہ کر لیا کہ اب اسے کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا۔

یہودیوں کے خلاف بائیکاٹ شروع ہوا، سر بازار ان کی کتابیں جلائی گئیں ،ان کے دکانوں کو آگ لگائی گئی اور پھر ایک نہ ختم ہونے والی نسل پرست مہم کا آغاز ہوا۔ میوزیم میں یہ تمام ریکارڈ تصاویر ،تقاریر کے اقتباسات اور ویڈیو کلپس کی شکل میں موجود ہیں، اس زمانے میں بیرونی دنیا کو کچھ علم نہیں تھا کہ جرمنی میں کیا لاوا پک رہا ہے، اس دور میں جرمنی میں اولمپک کھیل منعقد ہوئے جن کا مقصد دنیا کو یہ بتایا تھا کہ ایک ’’نیا جرمنی‘‘ وجود میں آ چکا ہے، اولمپک کھیلوں کی تقریب کی جھلکیاں میوزیم میں موجود ہیں جنہیں دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس جرمنی میں آئندہ چند برس میں کیا قیامت برپا ہونے والی ہے!

تاریخ کا بے رحم پہیہ چلتا ہے اور پھر وہ مرحلہ آتا ہے جب جرمنی کا قبضہ سوائے انگلستان کے قریباً پورے یورپ پر ہوتا ہے، ایسے میں ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی شروع کی۔ میوزیم کے اس حصے میں انتہائی ہولناک فلمیں اور تصاویر ہیں جنہیں دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھتی ہے، مگر لوگ یہاں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر آتے ہیں اور یہ ہیبت ناک مناظر دکھاتے ہیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ قوموں نے آزادی کی کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ میوزیم میں ان بچوں کے جوتے تک رکھے ہیں جو ہولوکاسٹ کا شکار ہوئے، ان کے نام ان کی تصاویر موجود ہیں،گیس چیمبرز کی ہولناک موت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ چوتھی منزل میں ان لوگوں کی یادیں ہیں جو ہولوکاسٹ سے زندہ بچ نکلے اور ان سفاک جرمن افسران کے ٹرائل کی روداد ہے جو نیورمبرگ کے نام سے مشہور ہیں، ہولوکاسٹ کے ذمہ دار تین لوگوں ہٹلر، ہیملر اور جوزف گوئبلز نے خود کشی کر لی تھی جبکہ دیگر لوگوں میں سے جنہیں سزائیں ہوئیں انہیں بہت نرم سمجھا جاتا ہے۔

ہولوکاسٹ میوزیم میں مجھے تین باتیں شدت سے محسوس ہوئیں۔ پہلی ‘ہم نے بھی آزادی کے وقت دس لاکھ جانیں قربان کیں، ظلم و بربریت کی داستانیں ہیں جو کسی ہولوکاسٹ سے کم نہیں، ہمیں بھی ایسا ہی ایک میوزیم بنایا چاہئے اور اسے ہولوکاسٹ آف سب کانٹینینٹ کا نام دینا چاہئے، یہ وہ نام ہوگا جس سے ہم دنیا کو بتا سکیں گے کہ ہم بھی اسی ظلم کا شکار ہوئے جس کے بارے میں ان کے ہاں بات کرنے پر پابندی ہے !دوسرا احساس یہ ہوا کہ جو ظلم ہٹلر نے یہودیوں پر کیا، اس سے اسرائیل کو سبق سیکھنا چاہئے، مگر آج وہی داستان اسرائیل دہرا رہا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہٹلر کی جگہ نیتن یاہو نے لے لی ہے اور یہودیوں کی جگہ فلسطینی مسلمان ہیں۔ تیسری بات، ہٹلر کے ہاتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیںجن میں کم از کم دس لاکھ معصوم بچے تھے ‘آج ہمیں بھی ایک ایسے ہی ہٹلر کا سامنا ہے جو ’’نئے پاکستان‘‘ کا خواب دکھا رہا ہے، فرق یہ ہے کہ اڈولف ہٹلر یہودیوں سے نفرت کے جنون میں مبتلا تھا جبکہ ہمارا دیسی ہٹلر اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہے!

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.