.

”دھکّا سٹارٹ جمہوریت ۔ سہولت کار فوج !“

اثر چوہان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عمران خان اور علامہ طاہر اُلقادری اِس غلط فہمی کا شکار تھے کہ :"وفاقی حکومت کی دُرخواست پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اُن کے مطالبات تسلیم کرنے کے لئے انہیں شرفِ ملاقات بخشا ہے۔" چنانچہ وہ خُوش خُوش حاضرِ ہو گئے۔ ملاقات کے لئے تشریف لے جانے سے قبل "علمبردارِ آزادی" جناب عمران خان اور "قائدِ اِنقلاب" علّامہ القادری نے اپنے اپنے دھرنا دھارِیوں سے خطاب کرتے ہُوئے انہیں "جشنِ آزادی اور جشنِ اِنقلاب" منانے کا حُکم بھی دے دِیا۔ القادری صاحب نے حسبِ عادت وفاقی حکومت کی توہِین اور تحقِیر کرتے ہُوئے کہا کہ :"یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہُوا ہے کہ آپ لوگوں کے دباﺅ میں آ کر حکومت نے بھِکاری بن کر پاک فوج کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف حکومت اور ہمارے درمیان ثالث اور ضامن ہوں گے اور اب اِنقلاب آوے ای آوے!"۔ جنرل راحیل شریف سے عمران خان کی 1 گھنٹہ مُلاقات ہُوئی لیکن علّامہ القادری کی سوا 3 گھنٹے القادری صاحب نے شاید انہیں پہلے ہی بتا دِیا تھا کہ:
"لگے گی دیر ذرا حالِ دِل سُنانے میں!"

جناب عمران خان اور علّامہ القادری کے لئے سب سے بڑا مسئلہ وزیرِاعظم نواز شریف کا استعفیٰ تھا۔ اُن کے خیال کے مطابق "کینیڈین شیخ اُلاسلام" کی 24 گھنٹے کی گالی گلوچ سے تنگ آ کر وزیرِاعظم نواز شریف نے استعفیٰ دینے اور خُود کو گرفتای کے لئے پیش کرنے کے لئے آرمی چیف کو ثالث اور ضامن بنایا ہے۔" پاکستان بنانے والوں کی اولاد کہلانے والے جناب الطاف حسین (جو 20 سال سے ملکہ الزبتھ دوم کی چھتر چھایا کے نیچے برطانیہ میں ہیں)، بہت خُوش ہُوئے اور انہوں نے جنرل راحیل شریف کو پیغام بھجوایا کہ: "جنرل صاحب! آپ نے "مداخلت" کر کے لوگوں کے دِل جیت لئے ہیں۔" (حالانکہ جنرل صاحب نے مداخلت نہیں کی) اور اِس کے ساتھ ہی الطاف بھائی نے اپنی یہ درخواست بھی پیش کر دی کہ: "آرمی چیف ایم کیو ایم اور فوج کی 22 سال پُرانی غلط فہمیاں بھی ختم کرا دیں۔" دو روز قبل علّامہ القادری نے جناب عمران خان کو اپنا چھوٹا بھائی "Declare" کرتے ہُوئے کہا کہ "پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکُن اب آپس میں "First Cousins" ہو گئے ہیں۔" یاد رہے کہ "First Cousins" تایا، چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے لڑکوں اور لڑکیوں کو کہا جاتا ہے۔

دسمبر 2012 ءسے جنوری 2013 ءکے دوران اپنے "اِنقلاب" کی ناکامی پر عّلامہ القادری نے کراچی میں "نائن زیرو" پر حاضری دی تھی اور لندن سے الطاف بھائی نے القادری صاحب سے ٹیلی فون پر بات چیت کر کے انہیں اپنا بڑا بھائی بنا لِیا تھا۔ "پہلے آئیے اور پہلے پائیے،"لیکن علّامہ القادری نے یہ اعلان نہیں کِیا تھا کہ: " آج سے پاکستان عوامی تحریک اور ایم کیو ایم کے کارکُن آپس میں Cousins First ہیں۔ شاید اس لئے کہ ان دِنوں القادری صاحب "تحریکِ منہاج اُلقرآن" کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان میں اِنقلاب لانے کے لئے تشریف لائے تھے۔ پاکستان عوامی تحریک کو اس وقت سیاسی قبرستان سے نکالا گیا تھا جب علّامہ القادری اور وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف کے نمائندوں کے ساتھ انہوں نے "میثاقِ جمہوریت دو نمبر" پر دستخط کئے۔ الطاف بھائی اور علّامہ القادری میں ایک قدرِ مُشترِک یہ بھی ہے کہ دونوں نے ملکہ الزبتھ دوم کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ اِس لحاظ سے اُن کا "پِیر خانہ" ایک ہی ہے ۔

علّامہ القادری نے وفاقی حکومت کو "بھِکّاری" کہہ کر پکارا اور چیف آف آرمی سٹاف کی شان میں کئی بار نثری قصیدہ پیش کِیا تو وزیرِاعظم نواز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان کو قومی اسمبلی میں وضاحت کرنا پڑی کہ :"عمران خان اور علّامہ القادری نے خُود آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کی تھی" حکومت نے آرمی چیف کو ثالث یا ضامن نہیں بنایا۔" اُس کے بعد (پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ) آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصِم باجوہ کا یہ بیان جاری ہُوا کہ: "گزشتہ روز (29 اگست کو) وزیرِ اعظم ہاﺅس میں ہونے والے اجلاس کے دوران حکومت کی طرف سے آرمی چیف کو کہا گیا تھا کہ "وہ موجودہ تعطّل دُور کرانے کے لئے "سہولت کار" کا کردار ادا کریں۔" چودھری نثار علی خان کہتے ہیں کہ :"آئی ایس پی آر نے یہ بیان میرے مشورے سے جاری کِیا ہے۔"

یہ پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد میں بیک وقت "حقیقی آزادی" کے حصول اور "اِنقلاب" کی خاطر عمران خان اور علّامہ القادری کے لشکروں نے "Red Zone" میں ڈیرہ جما رکھا ہے۔ علّامہ القادری نے تو اپنے چند ہزار "کفن پوش اور جامِ شہادت نوش" کارکنوں کو ٹھاٹھےں مارتا ہُوا سمندر قرار دے کر اُن کے لئے قبریں بھی کھُدوا رکھی ہیں اور وہ یہ اعلان کر چُکے ہیں کہ 'اگر میرے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو پارلیمنٹ ہاﺅس کو "شُہداء کا قبرستان" بنا دِیا جائے گا۔ "انہوں نے اپنے مسلّح سکیورٹی گارڈز کے حِصار میں سِینہ تان کر یہ بھی اعلان کِیا ہے کہ "ظالمو! پہلی گولی مجھے مارو! سب سے پہلے مَیں شہادت دینے کو تیار ہُوں۔" سوال یہ ہے کہ (خُدانخواستہ) اگر پہلی گولی علّامہ القادری کے بجائے اُن کے کسی کارکُن کو لگی اور وہ جاں بحق ہو گیا تو علّامہ صاحب کی "فِقّہ" کے مطابق تو وہی کارکُن "شہیدِ اوّل" کہلائے گا۔ ایک اور سوال کہ کیا کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد (C-D-A) کے حُکّام خلافِ ضابطہ پارلیمنٹ ہاﺅس کو علّامہ القادری کے "شُہدائ" کا قبرستان بنانے کی اجازت دے دیں گے۔"

یہ بات ممکن ہے کہ "سہولت کار" کی حیثیت سے جنرل راحیل شریف "شہید" ہونے والے اُن معصوم اور بے گناہ لوگوں کے لواحقین کو حکومت یا مُلک کے مخّیر حضرات سے کُچھ سہولتیں دِلوا دیں۔ جناب عمران خان اپنی پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان سے استعفے دِلوا کر پارلیمنٹ سے باہر لے گئے ہیں۔ علّامہ القادری تو "Seasonal Politician" (موسمی سیاستدان) ہیں۔ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی ساری جماعتیں اِس لئے وزیرِاعظم کے استعفیٰ دینے کے خلاف ہیں کہ وہ "جمہوریت" کو پٹڑی سے اُترنے یا اُتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ :"بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔" سوال یہ ہے کہ "جمہور" کو بہترین جمہوریت کب نصیب ہو گی؟ اور انہیں کم از کم روٹی، کپڑا اور مکان دِلوانے کے لئے کون بطور "سہولت کار" ان کے کام آئے گا؟

پاکستان میں جب بھی آرمی چیف نے مارشل لاءنافذ کِیا تو وہ "Dictator" کہلایا۔ لیکن ہر ڈکٹیٹر نے خُود کو، نجات دہندہ قرار دِیا۔ کتنی اچھی روایت قائم ہو رہی ہے کہ "بدترین جمہوریت" کے دَور میں بھی آرمی چیف "Dictator" کے بجائے "Facilitator" کا کردار ادا کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اقتدار میں تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ :" آئِین کیا ہے؟ چند صفحوں کی کتاب ¾ جسے میں جب چاہوں پھاڑ کر پھینک سکتا ہُوں۔" سیاستدانوں کے بارے میں موصُوف نے کہا تھا کہ :"مَیں جب چاہُوں گا، بہت سے سیاستدان اپنی اپنی دُمیں ہلاتے ہُوئے میرے پاس چلے آئیں گے۔" پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ جنرل صاحب کے دربار میں وہ "بے دُم" سیاستدان بھی اپنی اپنی پُشت پر اِمپورٹڈ دُمیں لگوا کر پیش ہو گئے اور "نامور" بھی ہو گئے۔ شاعرِ سیاست نے کہا تھا :۔


"سکریپ بن نہ جائے لے جائیں نہ کباڑی!

لنگڑا کے چل رہی ہے جمہوریت کی گاڑی!"

خُدا کا شکر ہے کہ اس دور میں "دھکّا سٹارٹ جمہوریت" کے لئے سہولت کار فوج موجود ہے۔ نامور سیاستدان، صحافی، ادیب اور شاعر آغا شورش کاشمیری نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران ایک ترانہ لِکھا تھا جِس کا عنوان تھا "پاک فوج کو سلام!"

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.