.

انقلاب اور آنسو گیس

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مظاہروں میں تین افراد کی ہلاکت اور پولیس تشدد انتہائی قابل مذمت ہے۔ عمران خان نے آنسو گیس زدہ رات کی اگلی ہی صبح میڈیا سے کہا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حکومت اتنا تشدد کرے گی۔ حیرانگی ہے کہ عمران خان وزیراعظم ہاؤس پر یلغار کا اعلان کرتے ہوئے آخر کیا سوچ رہے تھے ان کے خیال میں پولیس کو کیا کرنا چاہئے تھا؟ ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے بعد وفاقی حکومت کی مصلحت پسندی احتجاج کرنے والوں کو ریڈ زون تک لے آئی تھی اور ساری دنیا میں خبر کچھ یہ تھی کہ ایٹمی قوت پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے، آخر عمران خان نے یہ کیسے سوچ لیا کہ نوازشریف ذاتی طور پر آ کر ان کے ڈنڈے اور غلیل بردار کارکنوں کا وزیر اعظم ہاؤس کے گیٹ پر استقبال کریں گے یا پھر وہ چودھری نثار بطور وزیر داخلہ انہیں وزیر اعظم صاحب کے بیڈ روم کا داخلہ پاس جاری کریں گے۔ ان حالات میں ڈاکٹر طاہر القادری سے کوئی گلہ نہیں رہتا کہ انہوں نے نہ تو کرکٹ کھیل کر سپورٹس مین ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ ہی وہ جامع آکسفورڈ کے سند یافتہ ہیں مگر دنیا بھر میں اپنے فلاحی کاموں اور تعلیم کے فروغ کے لئے منشور عمران خان کو نجانے کیوں اقتدار کی آنسو گیس چڑھ گئی ہے، 1993ء کا ورلڈ کپ جیت کر جو نام انہوں نے ملک کے لئے کمایا تھا وہ نام انہوں نے وزیراعظم ہاؤس پر عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر یلغار کرکے بدنام کر دیا‘ کیا نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی کی سیاست کے بارے میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں یہی پڑھایا جاتا ہے؟ کیا انقلاب اور نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگانے والے لیڈر نیلسن منڈیلا مہاتما گاندھی اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے انقلابی لیڈروں کا نام اپنی زبان پر لانے کا حق رکھتے ہیں۔

خاص کر جب کوئی خفیہ پیغام آپ کو اپنی پارٹی کے فیصلے کے برعکس وزیر اعظم ہائوس یلغار پر مجبور کر دے تو آپ کے انقلابی ٹھہرے ۔ جاوید ہاشمی کے بیانات نے خان صاحب کے نئے پاکستان کا نقشہ افشا کر دیا ہے۔ کپتان میچ فکس کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بقول جاوید ہاشمی تحریک انصاف کے فیصلے کے برعکس شیخ رشید کے ذریعے خفیہ پیغام ملنے پر عمران خان نے وزیر اعظم ہائوس پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مارشل لا لگا تو ذمہ دار عمران خان ہو گا۔ اب بات کرتے ہیں انقلابیوں کی سیاسی سہاگ رات کی۔ انقلاب اور نئے پاکستان کے مستریوںکا کیا کہنا کہ ساری رات کارکن آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا مقابلہ کرتے رہے اور یہ حضرات اپنے کنٹینر اور بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کر ٹی وی چینلوں کو بڑے پرسکون انداز میں انٹرویو دیتے رہے، جب صبح ہوئی تو وضاحتیں تیار تھیں تحریک انصاف کے راہنما عارف علوی نے ٹی وی چینلوں کو انٹرویو میں یہ بتایا کہ آنسو گیس شیلنگ اتنی زور دار تھی کہ ان کے قائد کنٹینر میں محصور ہو کر رہ گئے، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس کو زیادہ سے زیادہ کتنے آنسو گیس کے گولے پھینکنے چاہیے تھے کہ عمران خان صاحب بھی کنٹینر سے باہر آ کر اپنی جوان ہڈی والے جسم کے ساتھ متاثرہ کارکنوں کی مدد کرتے، انہوں نے ہی کہا تھا کہ ان کی عمر 63 سال ہی سہی مگر ان کی ہڈیاں ایک 35 سالہ نوجوان کی سی ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی صبح سویرے اپنے کنٹینر سے باہر آکر اپنے بچے کھچے کارکنوں کے سمندر سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے حال ہی میں کینیڈا سے آنکھ کا آپریشن کرایا تھا اور آنسو گیس کے باعث انہیں آنکھوں میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی جس کے باعث وہ رات کو اپنے مظلوم کارکنوں سے خطاب نہ کر سکے۔ اب ایسی صورت میں کارکنوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے قائد کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں کہ ان کے قائد کی دور اندیش آنکھ کمزور ہوں اور پھر انہیں علاج کی غرض سے کینیڈا جانا پڑے، ویسے بھی پاکستان میں انقلاب تو آتے ہی رہتے ہیں مگر اﷲ تعالٰی کی عطا کردہ قوت بینائی کوئی انقلاب نہیں جو آتی جاتی رہے ہفتے اور اتوار کی نصف شب جو شاہراہ دستور پر ہوا وہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے لئے کوئی قابل فخر بات نہیں۔ مگر اس کی ذمہ داری کسی ایک پر ڈالنا بھی مناسب نہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ جانی نقصان نہیں ہوا جو روایتی انقلاب میں ہوتا ہے مگر یہ تاریخ کا پہلا انقلاب تھا جو محض آنسو گیس کے استعمال سے بظاہر روک لیا گیا ہے، اس وقت عمران خان کی تحریک کے ایک نوجوان کارکن کا وہ انٹرویو یاد آ رہا ہے جو اس نے لاہور میں ایک لاٹھی چارج کے بعد دیا تھا جس سے انقلاب کا ایک نیا فلسفہ وجود میں آیا، اس لڑکے کا کہنا تھا :" اگر پولیس ہمیں ڈنڈے مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے"۔

آج تحریک انصاف کے راہنما عارف علوی کا بیان بھی کچھ مختلف نہیں لگتا جب وہ کہتے ہیں کہ :" پولیس کے زبردست آنسو گیس شیلنگ کے باعث عمران خان کنٹینر میں محصور ہو کر رہ گئے"۔ بات تو صحیح ہے اگر پولیس تھوڑا سا لحاظ کرتی تو عمران خان صاحب نے باہر آکر اپنے نوجوان ہاتھوں سے کنٹینروں کو ہٹانا تھا، کارکنوں کو پولیس کے چنگل سے چھڑانا تھا انہیں پانی اور نمک فراہم کرنا تھا عورتوں اور بچوں کو ایمبولینسوں میں ڈالنا تھا مگر اس پولیس کا ستیاناس جس نے نیا پاکستان نہ بننے دیا، اب اگر پچ ہی خراب ہو گراؤنڈ گیلی ہو اور ایمپائر منہ پھیر لے تو ایک کپتان کیا کرے، اگر پولیس اس طرح آنسو گیس کا استعمال کرے گی تو آخر نیا پاکستان کیسے بنے گا اور وہ انقلاب کیسے آئے گا جس میں طاہر القادری صاحب نے پولیس والوں کو دو سال کے رکے ہوئے انکریمنٹ اور اضافی تنخواہوں کا اعلان کیا تھا پولیس والے بھی چالاک نکلے اپنا مسئلہ قادری صاحب کے ذریعے مشتہر کرکے ایسے ڈنڈے چلائے اور گیس کے گولے برسائے کہ شاید اب وزیر داخلہ ان کے دو سال سے رکے ہوئے انکریمنٹ بخوشی جاری کر دیں گے۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ مذاکرات میں جن انتخابی اصلاحات پر اتفاق ہوا تھا اب حکومت ایک فاتح کی مانند ان سے بھی مکر نہ جائے، انقلاب اور نئے پاکستان کا انجام جو بھی ہو اس تمام صورت حال میں حکومت کی انتظامی مشینری کی ناکامی روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے بعد اس طرح گولی تو نہیں چلی مگر محض آنسو گیس کے گولے مار کر شہریوں کو زخمی یا بے ہوش کرنا بھی کوئی حکمت عملی نہیں ہوتی، پولیس والے آنسو گیس کے گولے پھینک کر ایسے بھاگتے تھے جیسے کوئی بچہ دولھے کے پاؤں میں پٹاخہ بجا کر بھاگتا ہو، تاریخ میں پہلی مرتبہ پولیس کو ملک کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا ایسے دفاع کرنا پڑا، انقلاب اور نیا پاکستان کے فلسفے سے اختلاف اپنی جگہ مگر عوام کا جوش اور ہمت دیکھ کر یہ امید پیدا ہو چلی کہ آئندہ کوئی ظالم، جابر اور آمر حکمران لوگوں کا استحصال اور قتل عام کر کے اپنے گھر میں محفوظ نہیں رہ سکے گا مگر اس کے لئے ہمیں اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست اپنانا ہو گی۔ سیاستدان نہ سہی امید واثق ہے کہ ہمارے سپہ سالار ملک و قوم کی خاطر قربانی کی خاندانی روایات کو برقرار رکھیں گے اور اپنے کسی اقدام سے پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر پر سیاست کا دھبہ نہیں لگنے دیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.