.

بوئے خوں ہے ایاغ میں گل کے

وجاہت مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کے نوبل انعام یافتہ مصنف لیوگی پیراندیلو کا شہرہ آفاق ڈرامہ "چھ کردار مصنف کی تلاش میں" اسلام آباد کے ریڈ زون میں کھیلا جا رہا ہے۔ یہ کھیل انسانی اجتماع کے پس پردہ محرکات ، زیر زمین قوتوں اور ذاتی جاہ پسندی کے منافقانہ پہلو بے نقاب کرتا ہے۔ ہمارے ضمن میں اضافی ڈرامائی پہلو یہ ہے کہ کردار تو شاید چھ ہی ہیں مگر مصنف ایک سے زیادہ ہیں۔چند ماہ قبل وفاق اورتمام صوبوں میں پاکستان کی منتخب حکومتیں معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔مئی کے اواخر میں امکان پیدا ہو گیا کہ طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات بند گلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا اشارہ ملتے ہی وہ قوتیں سر گرم ہو گئیں جنہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران نہایت تندہی سے طالبان اور ان سے جڑے ہوئے اجتماعی بیانیے کا دفاع کیا تھا۔ مئی کی آخری تاریخوں میں لندن میں ایک سیاسی اجلاس ہوا جس میں جانے پہچانے چہرے شریک ہوئے۔ اس کے بعد کھیل کے مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آنا شروع ہو گئے۔ لاہور سے روانہ ہونے والے دو احتجاجی جلوسوں کے رہنما ایک کے بعد ایک وعدہ توڑتے ہوئے مظاہرین کو ریاست کے اہم ترین اداروں کی دہلیز تک لے آئے ہیں۔ تادم تحریر تربیت یافتہ جتھوں کی مدد سے ریاستی ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کرنے کے بعد اسے خالی کر دیا گیا ہے۔

یہ ایک علامتی کارروائی تھی جس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ حسب ضرورت دوسرے ریاستی اداروں پر بھی قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ پرامن احتجاج اور جمہوری حقوق کی باتیں تو محض ریاستی ردعمل کو مفلوج رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ادھر تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے وڈیو پیغام جاری کیا ہے کہ اسلام آبادمیں 20 سے 30 ہزار لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: "حکومت کے اوسان خطا ہیں، ہمیں موقع مل جائے گا"۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ : "درد ایسا نہیں کہ تم سے کہیں…"۔ ایک طرف خود ساختہ رہنمائوں کے نیم پختہ ہتھکنڈوں سے آئینی عمل میں تعطل کا خدشہ ہے تو دوسری طرف دہشت گرد دانت تیز کئے بیٹھے ہیں۔ اس نازک صورت حال کے ذریعے ملکی مستقبل دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ملکی معیشت معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے گر گئی ہے۔

اس موقع پر یہ کہنا بے وقت کی راگنی معلوم ہو گا کہ پاکستان سمیت کسی بھی قومی ریاست کے لئےجمہوریت ہی واحد قابل قبول طرز حکومت ہے۔ جمہوریت ریاست میں داخلی سطح پر عوامی بہبود و ترقی اور خارجی سطح پر امن کی ضمانت دیتی ہے۔ پاکستان کی مشکلات جمہوریت کی ناکامی نہیں بلکہ جمہوریت سے انحراف کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کے نتیجے میں حکومتیں تو بنتی رہی ہیں لیکن کسی جمہوری حکومت کو شرح صدر کے ساتھ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی ترجیحات کو آگے بڑھانے کا موقع نہیں مل سکا۔ ایک کے بعد ایک بحران ایک ڈرامائی تسلسل کے ساتھ منتخب حکومتوں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارا جمہوری تجربہ تسلسل اور استحکام سے محروم رہا اور ہم جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے مستفید نہیں ہو سکے۔ آج کی دنیا میں جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں ہے کیونکہ جمہوریت کی عدم موجودگی میں ناگزیر طور پر ایسی مشکلات پیدا ہوتی ہیں جنہیں کسی ہنگامی اور عبوری طرز حکومت کی مدد سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ برسوں میں ہماری سب سے بڑی اجتماعی ناکامی یہ ہے کہ ہم اپنے سیاسی اور تمدنی مکالمے میں تمام سطحوں پر جمہوریت کو واحد اور ناگزیر طرز حکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

سیاست اور ذرائع ابلاغ میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کے مؤقف سے باور ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی افق سے غیر جمہوری مداخلت اور کسی "مسیحا" کے ورود کا آسیب دور نہیں ہوا۔ اتفاق سے یہ وہی قوتیں ہیں جو بظاہر "حقیقی" جمہوریت کی بحالی کو اپنی جدوجہد کا مقصد قرار دیتی ہیں لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پندرہ برس پہلے ملک کا آئین معطل کیے جانے اور ایک منتخب حکومت کو زبردستی برطرف کرنے پر ان قوتوں کا ردعمل کیا تھا۔ جن عناصر کو ماضی میں آمریت کے ہاتھ مضبوط کرنے میں عار نہیں تھا ، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ آج آئینی بندوبست کی پاسداری اور جمہوری عمل کے تسلسل کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔

ہمارا تجربہ بتا تا ہے کہ آمر ملکی حالات سدھارنے کے لئے نہیں بلکہ ذاتی جاہ پرستی کی تسکین کے لئے وارد ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے مسیحا آئے اور پھر اپنے صدری نسخوں سمیت تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔ آمریت رخصت ہونے کے بعد اس کی پیدا کردہ خرابیاں گنوانا آسان ہوتا ہے۔ جمہوریت سے حقیقی وابستگی تقاضا کرتی ہے کہ آمریت کے امکان کی اس وقت مزاحمت کی جائے جب اس کا امکان پیدا ہو۔ ریفرنڈم، عبوری آئینی حکم اور آمرانہ آئینی ترامیم کی حمایت کرنے کے بعد شفاف جمہوریت کی ڈفلی اٹھانے سے موسیقی پیدا نہیں ہوتی ، ایک شور بے ہنگم جنم لیتا ہے۔
یہ امر قابل اطمینان ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کے استحکام سے اپنی وابستگی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ماضی میں ہماری عدالتی تاریخ قابل رشک نہیں رہی۔ چنانچہ ضروری ہے کہ عدلیہ کو اس کی یہ آئینی ذمہ داری بار بار یاد دلائی جائے کہ اسے ہر طرح کے حالات میں آئین کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ امر بھی قابل تحسین ہے کہ عسکری قیادت نے ایک بار پھر جمہوریت کی تائید کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم ماضی میں غیر آئینی مداخلت کا ذریعہ بننے والے ادارے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر ہی نہیں بلکہ تاثر کی سطح پر بھی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے غیر جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو تاکہ پاکستان کے عوام کو یکسوئی کے ساتھ جمہوری نظام میں در آنے والی خرابیوں کے ساتھ نمٹنے کا موقع مل سکے۔

جمہوری حکومت کا احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن حزب اختلاف کے اس حق کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہئے کہ کاروبار حکومت معطل ہو کر رہ جائے۔ حکومت فیصلہ سازی میں مفلوج ہو کر رہ جائے۔ انتخابی عمل انقلاب کا نہیں، آئین کے تسلسل کا تقاضا کرتا ہے۔ جو عناصر آج احتجاج کے جمہوری حق کی آڑ میں میاں نواز شریف پر چاند ماری کر رہے ہیں، وہ بدلے ہوئے حالات میں اسی روایت کا سہارا لے کر کسی ممکنہ آئندہ حکومت کے خلاف بھی بندوق چھتیائے کھڑے ہوں گے۔ اس مشق کا نتیجہ 1990ء کی دہائی کی سیاست کی طرف مراجعت ہوگی جس سے قوم کو نقصان ہوا تھا اور طالع آزما عناصر نے مفادات کی فصل کاٹی تھی۔جمہوری عمل میں تعطل کسی قوم کے لئے بدترین سانحہ ہوتا ہے۔ یہ صرف سیاسی کارکنوں، مٹھی بھر وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں ہی کا فرض نہیں کہ آمریت کے خلاف سڑکوں پر ڈنڈے کھائیں اور بندی خانوں کی رونق بڑھائیں۔ ہمارے طویل سیاسی تجربے نے ثابت کیا ہے کہ آمریت کے خلاف حقیقی مزاحمت کے لئے رائے عامہ، ذرائع ابلاغ اور تمام سیاسی قوتوں میں اس امر پر مکمل اتفاق رائے ضروری ہے کہ عوامی مفادات اور قومی وقار کے حقیقی تحفظ کے لئے جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں اور اس سے انحراف کی کسی بھی کوشش پر پوری قوم کی طرف سے بھرپور مزاحمت کی جانی چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.