.

"نیا پاکستان "مبارک ہو!

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فریقوں، گروہوں یا ممالک کے درمیان تنازعات، دلیل اور انصاف سے ہی طے ہوتے ہیں۔ اختلافات کی کنچھی ہوئی لائنیں مٹ جاتی ہیں جب فریقین ضد پر اڑ جاتے ہیں اور معاملات نو ریٹرن پر پہنچ جائیں تو کسی ثالث، ضامن یا رابطہ کار کی ضرورت موجود رہتی ہے جب تک یہ تینوں کردار موجود رہتے ہیں، فریقین کے مابین معاملات طے ہونے کی امید بندھی رہتی ہے۔ اگر کوئی فریق ضد اور ہٹ دھرمی سے کسی ہدایت یا درست بات کو نہیں مانتا اور ہر پہلو اور دلیل کو اپنی ضد سے شکست دینے پر تل جائے بھلا وہ کامیاب کیسے ہو سکتا ہے۔ محض ضد سے تو انصاف کے ترازو کو کھینچ کر اپنی طرف نہیں کر سکتے یا کوئی طاقت ور انصاف کا میزان کسی ایک طرف نہیں جا سکتا۔ ہم طالبان کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ہماری مشکل یہ ہے ہمیں قدم قدم پر کسی نہ کسی "طالب" سے وابستہ رہتا ہے۔ قومی منظر نامے کو دیکھیں ایک چھوٹے سے اقلیتی گروہ جو دو حصوں کے عنوان سے تقسیم ہے۔ ایک کو "طالبان خان" جو اپنے آپ کو کپتان کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ دوسرے شیخ الاسلام صاحب جو اپنے وعظ سے لوگوں کو رلانے کا فن ایسے خوبصورت انداز سے نبھاتے ہیں، مذاق بھی کر رہے ہوں تو اُن کے مرید زار و قطار روتے رہتے ہیں۔

ایوان صدر وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ پر حملہ کرنے سے پہلے جس طرح شیخ الاسلام نے کربلا کے مناظر کا نقشہ کھینچا، لوگوں کو رلاتے ہوئے جو کچھ مانگا وہ یہی تھا کہ آپ کے آنسو نہیں بلکہ خون چاہیے۔ (اپنا سینہ سب سے پہلے پیش کرنے والے شیخ الاسلام 17 گھنٹے تک اپنے کنٹینر سے نہیں نکلے) انگریزی زبان میں کیا جانے والا خطاب کسی اور کے لیے تھا جس میں امن، امن اور امن کی دہائی دی گئی تھی۔ یہ کیسا پر امن دھرنا تھا جہاں کارکنوں کے ہاتھوں میں کیل کانٹوں سے لیس لاٹھیاں تھیں، کلہاڑیاں، چھرے، کرین، ہتھوڑے اور غلیلیں تھیں۔ ایوان صدر پر حملہ ہوا، پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر ایک ٹرک کو ٹکرا کر جنگلہ ہی توڑ ڈالا۔ یہ عمارت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کے سپرد تھی۔ وارننگ ملنے پر انہیں پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنان کو رکنا پڑا پولیس حرکت میں آئی پھر جو کچھ ہوا سب نے دیکھا کل جب سپریم کورٹ ماورائے آئین اقدامات کے کیس کی سماعت کر رہی تھی۔ شیخ الاسلام کے کنٹینر سے اعلانات ہو رہے تھے کہ پاک سیکرٹریٹ پر قبضہ کر لیں۔ یہ سب کچھ کور کمانڈرز کی میٹنگ اور فیصلوں کے بعد ہوا، کپتان نے بھی اتوار کی رات اعلان کیا کہ ہم پوری تیاری سے آگے بڑھیں گے عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے تیاری کے ساتھ گوریلے بھیجے، پولیس پر وحشیانہ تشدد کیا، نئے آنے والے ایس ایس پی پر حملہ کیا۔ یہ ہے انقلاب اور نئے پاکستان کا منظر یکم ستمبر کی صبح طلوع ہوتے ہی 18 کروڑ عوام نے دیکھا۔

جو کچھ ہو رہا تھا۔ یہ سکرپٹ تھا؟ کہاں سے چلا اس کے تانے بانے کہاں بنے گئے۔ کپتان اور شیخ الاسلام کا میلاپ کیسے ہوا ان کے درمیان کس سہولت کار نے کس طرح رابطے کرائے۔ تین چار ماہ سے کپتان کے خواب میں دھاندلی کے خلاف جلسے اور پھر لانگ مارچ کا احساس کیسے پیدا ہوا۔ سازش، دیوار پر لکھی ہوئی صاف نظر آ رہی ہے۔ جاوید ہاشمی جو پاکستان اور جمہوریت سے بے پناہ محبت رکھنے والی سیاست دان ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے پاکستان تحریک انصاف کی صدارت سے ہٹائے جانے تک جدوجہد، قید و بند اور اقتدار میں آنے اور جانے کی زبردست تاریخ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اتوار کے روز خصوصی طور پر ملتان سے اسلام آباد پہنچ کر پریس کانفرنس کی۔ اُس سازش سے پردہ اٹھایا جس کا مقصد مارشل لاء یا ماورائے آئین کوئی اقدام اٹھانا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں جو اپنی دوغلی حکمت عملی سے اپنے غلط فیصلوں سے عوام کے سامنے بے نقاب ہوتی ہیں۔ عمران خان کی کور کمیٹی سے فیصلہ کیا تھا۔ شیخ الاسلام کو آگے جانے دیں ہم پارلیمنٹ ہاؤس یا وزیراعظم ہاؤس پر دھرنا نہیں دیں گے۔۔۔ فیصلہ ہو چکا۔ اتفاق رائے سے۔ اچانک شیخ رشید نے کوئی خاص پیغام عمران خان کے کان میں دیا، پھر کپتان خوشی سے جھوم اُٹھے۔

اعلان کر ڈالا کہ ہم قادری صاحب کے ساتھ جائیں گے یہ بھی اشارے ملے ہیں شاہ محمود قریشی بھی جاوید ہاشمی کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ مگر کپتان متفقہ فیصلے کو ویٹو کر چکے تھے۔ ہاشمی جرأت مندہی نہیں غیرت مند تھا گھر چلا گیا۔ جب خطرات بڑھے تو کپتان کے ڈھول کا پول اسلام آباد آ کر پریس کانفرنس میں کھول ڈالا، جاوید ہاشمی جب تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو کراچی کے جلسہ عام میں انہوں نے کپتان کی طرف اُنگلی اٹھا کر کہا تھا تمہارے لیے میں اپنا سیاسی کیرئر تباہ کر کے آ رہا ہوں تمہارے پروگرام سے متفق ہوں، اس لیے آپ نے آئندہ نسلوں کا مستقبل سوچا ہے۔ اگر تم نے دھوکہ دیا تو یاد رکھنا "ہاں میں باغی ہوں"۔۔۔ عمران نے دھوکہ دیا ہاشمی پھر باغی ہو گیا۔۔۔ کپتان اور اُن کے ساتھیوں کے چہروں سے پردہ اٹھا دیا شیخ رشید کن کے لیے کام کر رہے تھے اُن کا کردار بھی چھپا نہیں رہا۔ اعتزاز احسن بھی خطرات کو اچھی طرح سمجھ رہے تھے وہ کپتان اور شیخ رشید کے مقابلے میں جاوید ہاشمی کی بات کو حق اور درست سمجھتے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کے بعد جو صورت حال ہمارے سامنے حقیقت بن کر آن کھڑی ہوئی ہے۔ مارشل لاء اور جمہوریت کے درمیان فاصلہ تھوڑا ہی رہ گیا ہے۔ قوم ہاشمی کی شکر گزار ہے ان جیسی توانا، گرجدار اور بہادر آواز جب تک موجود ہے جمہوریت کے چہرے کامیاب نہیں ہو سکتے۔

پی ٹی وی عمارت پر قبضہ کرنے یا سیکرٹریٹ کو گھیراؤ ڈالنے سے انقلاب نہیں آ سکتا۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم ہاؤس یا پارلیمنٹ کی عمارت کو فتح کرنے سے نہ قومی اسمبلی ختم ہو سکتی ہے اور نہ وزیراعظم ہٹ سکتے ہیں۔ کپتان یا شیخ الاسلام چاہتے تھے ایسا کرنے سے فوری قومی حکومت بن جائے گی۔ ناممکن جی۔۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ پاکستان کی عدالتیں اور جمہوریت پسند لوگ اس دہشت گردی کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں بھی ایسے قوانین حرکت میں آ چکے ہیں کہ مارشل لاء یا کسی ماورائے آئین حرکت کی اب کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اتوار کے روز کور کمانڈرز کی جو ایمرجنسی میٹنگ ہوئی تھی اس میں حکمرانوں نے دونوں دھرنوں کے سربراہوں کے لیے پیغام بھی تھا وہاں جمہوریت کی بالادستی کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ تشدد کی مذمت بھی تھی۔ پولیس اور انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی۔ حکومت مذاکرات کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہاں تو منصوبہ بندی ہی اور تھی پیر کے روز کا منصوبہ بنایا گیا۔ سیکرٹریٹ پر قبضہ کیا پی ٹی وی پر قبضہ کیا اور عمران خان کنٹینر پر آ کر نواز شریف سے استعفیٰ مانگ رہے تھے۔ کیا خوب کپتان صاحب آپ کو ’’نیا پاکستان‘‘ مبارک ہو۔ یہ ناممکنات کا کھیل ہے کہ اب طاہر القادری اور عمران خان کو آئین شکنی کا جواب دینا پڑے گا۔ ان کو معلوم ہے ریاست کی رٹ کو پر تشدد ہجوم جو چند ہزار پر مشتمل ہو چیلنج نہیں کر سکتا۔ جب دنیا داعش اور طالبان کے ایجنڈے کو نہیں مانتی۔ کپتان اور طاہر القادری کے تشدد کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔

دونوں کا مقصد لاشوں کی سیاست کرنا تھا۔ یہ لاشیں انہیں نہیں مل سکیں۔ اب عمران اور قادری کا کھیل خاصی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ کپتان نے تو تشدد کا راستہ اختیار کر کے اپنی سیاست کا خاتمہ ہی کر لیا ہے۔ دونوں مغرب کے نوازے ہوئے ہیں۔ کپتان کچھ لوگوں کے لیے گماشتہ سیاست بننے کے لیے کیوں تیار ہوئے؟ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ آپ نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی بات کی ہے۔ کور کمانڈرز میٹنگ میں تو تشدد کی مذمت کی تھی۔ اُس سے اگلے روز تشدد کر کے آپ نے کیسی صبح کا آغاز کیا۔ ہاشمی نے تو آپ سے درست سوال پوچھا تھا، یہ کن کے اشارے پر کر رہے ہو، آپ نے تو جاوید ہاشمی سے راستے جدا کر لیے۔ سوال تو یہ ہے کہ آپ ایسے علاقے میں اپنے مداحوں اور ساتھیوں کو کیوں لے کر گئے اور ایک پر تشدد ہجوم کا حصہ کیوں بنے۔ شیخ الاسلام عمارتوں پر قبضہ کرنے کے ارادوں کے بعد عالمی طاقتوں کو بلا رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے جو طریق کار اپنایا ہے اس کو کوئی مناسب اور درست نہیں کہہ سکتا۔ کپتان سے شیخ الاسلام تک جو بھی پاکستان کی بدنامی کا سبب بنے ہیں، اب وہ آئین اور قانون کے سامنے ضرور پیش ہوں گے۔ تشدد کا انجام کسی نے کامیاب نہیں دیکھا۔ جمہوریت اور عوام کی حکمرانی ہی پاکستان کا مقدر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.