امریکہ کا احتجاجی قاعدہ۔ شخصیات عارضی وطن دائمی

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ٹورنٹو کینیڈا سے بیرسٹر عثمان خان کا فون آیا کہ ہم کینیڈین۔ پاکستانی پریشان اور شرمندہ ہیں کہ طاہر القادری نے مہذب، پارلیمانی نظام والے پرامن کینیڈا میں بھی پاکستانی کمیونٹی کے لئے ندامت اور بدنامی کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ جمہوریت اور عوام کے نام پر احتجاج اور "انقلاب" کے لئے "پرامن" مارچ کو کیلوں سے مسلح ڈنڈے، لوہا کاٹنے کے اوزار، غلیل اور شیشے کی گولیوں سے مسلح ہجوم کو بھی "پرامن" قرار دے کر دارالحکومت میں پارلیمینٹ، پرائم منسٹر ہائوس اور دیگر سرکاری عمارتوں کا گھیرائو اور قبضہ کرنے کا فعل علامہ طاہر القادری پاکستان میں ہی کرسکتے ہیں۔ بیرسٹر عثمان خان اپنے موقف میں درست ہیں۔ جمہوری پارلیمانی کینیڈا میں بھی کرپشن میں ملوث سینیٹر کے خلاف کرمنل تحقیقات ہورہی ہیں۔ موجودہ کینیڈین حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی اور اقدامات پر بھی احتجاج ہورہا ہے نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ ؔقادری انقلابؔ نہ سہی لیکن احتجاج کی پوری گنجائش ہے۔ لیکن کیا کینیڈین شہری کیلوں سے لیس ڈنڈوں، لوہا کاٹنے کے اوزار، بھاری ہتھوڑوں، غلیل اور پتھروں سے مسلح ہجوم کے ساتھ کینیڈا کے کسی بھی چھوٹے بڑے شہر یا دارالحکومت اوٹاوا میں ایک بھی جلوس نکال سکتے ہیں؟

اس ہفتے میں امریکہ میں عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ اجتماعات بھی جاری ہیں جبکہ بظاہر عمران خان امریکہ مخالف ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دورہ کینیڈا و امریکہ کے موقع پر امریکی امیگریشن نے ٹورانٹو ائیرپورٹ پر خان صاحب کو فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ہی روکا تھا اور امریکہ کے لئے فلائٹ بھی مس کرنا پڑی تھی۔ اوورسیز پاکستانیوں میں عمران خاں جس طرح پہلے انتہائی مقبول تھے اب وہ صورت حال نہیں رہی بلکہ پاکستانی سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اسلام آباد شام کے دارالحکومت دمشق اور لیبیا کے طرابلس کے مناظر پیش کررہا ہے مگر طاہر القادری اور عمران خان اپنے ہجوموں کے ساتھ پورے سسٹم کو تباہ کرنے میں لگے ہیں۔ نواز شریف حکومت تو عارضی معاملہ ہے۔ جاوید ہاشمی تو نواز شریف سے بھی باغی ہیں اور فوجی حکومت کے ہاتھوں بھی سزا بھگتنے کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ اب وہ عمران خان کے آزادی مارچ کے حوالے سے جو بیانات و انکشافات کررہے ہیں وہ نواز شریف کی حمایت نہیں اوورسیز پاکستانی پریشان ہوکر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ صحافی معوذ صدیقی نے فون پر کہا کہ عمران خان نے قوم کو مزید تقسیم کردیا ہے وہ نوجوان جو عمران خان کی قیادت میں تبدیلی کے کچھ نئے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے اب عمران خان کی ناکامی کی صورت میں اگلے کئی سال تک مایوسی و ناکامی کے احساس کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

ایک اور پاکستانی نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے جمہوری اور مہذب معاشروں سے واقفیت رکھنے والے اعلٰی تعلیم یافتہ عمران خان کینیڈین علامہ طاہر القادری نے"پرامن احتجاج" و "انقلاب" کے جو عملی نمونے اسلام آباد کی شاہراہوں اور سرکاری عمارات پر پیش کئے ہیں وہ نہ صرف امریکہ و کینیڈا کے پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں بلکہ پاکستان کے لئے بھی بڑی بدنامی کا باعث ہیں۔ نیویارک کے اویس بٹ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر نواز شریف ہی مستعفی ہوکر عمران خان اور طاہر القادری کی پیدا کردہ خطرناک صورت حال کا حل پیش کردیں۔ یہ پاکستانی نواز شریف کے اقتدار طاہر القادری کا اپنے فتویٰ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "انقلاب" اور عمران خان کی "انا" اور مارچ کی حمایت و مخالفت سے زیادہ پاکستان کی بقاء، استحکام اور مفاد کے حامی ہیں۔ وہ پاکستان کو ایٹمی اثاثوں سے محروم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے عمران خان اور طاہر القادری امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے جمہوری ممالک میں احتجاج اور مظاہروں کے حقوق و آزادی کی بات تو کررہے ہیں لیکن وہ ان ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے آرگنائزرز اور قائدین کی وہ ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں جن کی پابندی نہ کرنے والوں کو سزا گرفتاری اور جیل کے علاوہ آئندہ کے لئے احتجاج کا پرمٹ بھی دینے سے انکار کردیا جاتا ہے بہتر ہوگا کہ نیویارک اور ٹورنٹو کے شہروں میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے لئے پرمٹ، قواعد و ضوابط، اوقات کی پابندی اور دیگر ذمہ داریوں کا ذکر ہوجائے واشنگٹن میں "ملین مارچ" جوکہ واقعی ایک ملین افراد پر مشتمل تھا انتہائی پرامن تھا۔ امریکی کانگریس، وہائٹ ہائوس اور باقی تمام اہم سرکاری عمارتوں میں نہ کوئی داخل ہوا نہ ہی کسی فرد کے ہاتھوں میں نہ ڈنڈا تھا نہ غلیل نہ شیشے کی گولیاں اور نہ پتھر تھے اگر یہ سب کچھ احتجاج کرنے والوں کے پاس ہوتا تو احتجاج کے قائدین، آرگنائزرز اور مسلح مظاہرین سبھی گرفتاری اور جیل کے مزے اٹھاتے۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سامنے کی شاہراہ احتجاج کرنے والوں کے لئے ریڈ زون ہے آپ سڑک پار موجود پارک میں پولیس کی متعین کردہ لائن کے اندر رہ کر مظاہرہ کرسکتے ہیں اور کسی ڈنڈے، پتھر، غلیل کی قطعاً اجازت نہیں۔

آپ پولیس لائن سے باہر نکلیں تو یا تو گھر جائیں یا پھر لائن کے اندر رہ کر مظاہرین کے ساتھ مظاہرہ کریں توڑ پھوڑ یا خلاف ورزی پر قائدین احتجاج قابل گرفتاری ہیں۔ آپ یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں کہ یہ لوگ ہمارے نہیں ہیں۔ جو مناظر اور اشتعال انگیز تقاریر اسلام آباد میں کی گئی ہیں۔ اگر کوئی مقرر نیویارک یا ٹورنٹو کے احتجاجی مظاہرے میں ایسی تقریر کرے تو اسے نفرت پھیلانے، اشتعال پھیلانے، تخریب کاری اور نہ جانے کتنے قوانین کے تحت جیل جانا ہوگا۔ وہائٹ ہائوس کے سامنے مظاہرہ کرنے والے وہائٹ ہاوس کا جنگلہ توڑ کر دکھائیں۔ کاش عمران خان اور طاہر القادری برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں آزادی احتجاج کا حوالہ دینے سے قبل وہاں کے متعلقہ قوانین اور ضابطوں کو بھی پڑھ لیتے۔ شخصی انتقام اور اقتدار کی خواہش میں اندھے ہوکر اسے "انقلاب" یا "آزادی" کا نام دینا ملک اور نظام میں تبدیلی نہیں تقسیم اور منافرت پھیلانے کا فعل ہے۔ نواز شریف عارضی چیز ہیں ملک اور اس کی چار دیواری یعنی سسٹم کو باقی رکھنا ضروری ہے چار دیواری کی حرمت و اصلاح ضرور ہونا چاہئے۔ اگر آئین اور حکومتی نظام کی دیواریں بھی گرا دیں تو ملک کا وفاق ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ اگر پارلیمینٹ اور پرائم منسٹر ہائوس کا گھیرائو اور قبضہ ہو گیا تو پھر عالمی طاقتیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گی کہ پاکستان میں بدامنی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پاکستان نہیں کر سکتا لہٰذا عالمی تحویل میں لے کر امن عالم کو لاحق خطرات دور کئے جائیں۔

جس طرح افواج پاکستان کے حوالے سے پنٹاگون، سی آئی اے اور دیگر اداروں میں "افواہیں" گردش کررہی ہیں وہ پاکستانی فوج کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ مجھے پاکستان مخالف سابق سینیٹر لیری پریسلر کا وہ بیان یاد آرہا ہے جو انہوں نے بھارت اور پاکستان کے دورہ کے وقت دیا تھا۔ پریسلر ترمیم کے خالق امریکی سینیٹر پریسلر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے بم بنا بھی لیا تو پاکستانیوں کو خود یہ بم اپنے ہی چوراہوں پر پھاڑنا پڑے گا۔ خدا نہ کرے کہ ہمارے قائدین وہ صورت حال پیدا کردیں جو لیری پریسلر کے اس کئی سال پرانے بیان کو درست ثابت کردے۔ ذرا سوچئے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے تبصرے تجزیے کیا کہہ رہے ہیں ہم اسلام آباد میں کس کی املاک برباد کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے آدمی نہیں ہیں کہہ کر طاہر القادری یا عمران خان بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ آخر ان مظاہرین کے دھرنا کے ایام میں خوراک، ہتھیار اور دیگر اخراجات کہاں سے آئے کون ادا کررہا ہے؟ 18؍مئی کو ٹورنٹو میں برطانوی شخصیات سے خفیہ ملاقات اور اس کے بعد کے معاملات کہاں طے پائے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر آگے بھیج کر خود پیچھے محفوظ رہنا کونسی جرات و بصیرت ہے؟

اگر وزیر اعظم ہائوس اور پارلیمینٹ محفوظ نہیں تو ایٹمی اثاثے کیوں کر محفوظ سمجھے جائیں؟ کئی سو ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھا کر احتجاج کرنے والے طاہر القادری اور عمران خان سوچیں کہ وہ ملک کو کدھر لے جارہے ہیں؟ کیا پاکستان اتنا مہنگا انقلاب برداشت کرسکتا ہے؟ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے کنونشن اور احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں مگر پرمٹ، قانونی حدود اور غیرمسلح ہونے کی شرائط اور وعدے کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی قونصیلٹ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے عمران خان امریکی قواعد کی تفصیل اپنے ہی کارکنوں سے معلوم کر لیں۔ محض توسیع ملازمت اور سویلین حکمرانوں کو نکیل ڈالنے کے لئے ملک کی سلامتی کو دائو پر لگانا قوم کی مذمت نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹنگ میں بھی امریکی میڈیا کا رپورٹنگ ماڈل ہی اپنا لیں تو بحران سے نکلنے کی راہ مل سکتی ہے۔ نظام کی اصلاح کریں نظام نہ توڑیں شخصیات سے نجات کا مہذب اور جمہوری طریقہ اپنائیں ورنہ نئی نسلیں اداس رہیں گی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں