بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

بھارت ایک زمانے میں سونے کی چڑیا مانا جاتا تھا اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اس لئے دُنیا بھر کے مہم جُو اس کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے اور پھر یہاں قبضہ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ یہ ملک پھر اُسی مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس لئے امریکہ اُس کے اتحادی بھارت میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اس کی دولت اپنا فوجی و تجارتی مال بیچ کر لوٹیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اپنے عالمی عزائم کی تکمیل کے لئے بھی بھارت کو ساتھ ملانا چاہتا ہے جس میں چین کو گھیرنے اور روس کو بھارت کی دفاعی مارکیٹ سے محروم کرنا شامل ہے۔ روس اور چین اپنے دفاع میں بھارت کو سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ چین کے خلاف ایشیائی نیٹو منظم کررہا ہے جس میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہوں گے۔ اس پر میرا ایک کالم پہلے بھی شائع ہوچکا ہے۔ 16 جولائی 2014ء کو بھارت کے وزیراعظم اور چین کے سربراہ کے درمیان برازیل میں مذاکرات ہوئے جو کہ 80 منٹ تک جاری رہے۔

اس میں چین نے بھارت کو کئی اہم باتوں پر توجہ دلائی کہ ایک تو وہ پڑوسی ملک ہیں، دوسرے چین اور بھارت کے درمیان سرحد متعین نہیں ہے، اس لئے بھارت کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ چین بھارتی سرحد کی خلاف ورزی کرتا ہے اور چین سے ملحق علاقوں کے رہائشیوں کو ویزا پرمٹ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے یہی ریت چلی آرہی ہے، اب ایک کمیشن بنایا جاسکتا ہے جو سرحدوں کی حدبندی کرے اور معاملہ طے ہوجائے، دوسرے تجارتی میدان میں چین اور بھارت میں مسابقت نہیں ہے۔ بھارت کا سوفٹ ویئر چین خریدتا ہے اور اسی طرح چین کا سامان بھارت، پھر چینی سربراہ نے چین سے کلکتہ تک ایک نئی شاہراہ ریشم بچھانے کی پیشکش کی۔ اس سے پہلے چینی وزیر خارجہ ینگ وی 8 جولائی 2014ء کو بھارت تشریف لے گئے اور انہی بنیادوں پر اُن سے گفتگو کی تھی۔ برکس ممالک جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں کی سربراہی کانفرنس میںآئی ایم ایف نے ایک نیا بینک بنانے کا فیصلہ کیا جو غریب و ترقی پذیر ممالک کو آسان قسطوں پر قرضے دے گا اور کسی سیاسی مفاد کے حصول کو پیش نظر نہیں رکھے گا۔ یہ ایک قسم کا متبادل معاشی نظام ہے، جس پر میرا ایک تفصیلی مضمون شائع ہوچکا ہے۔

یہ امریکہ کے لئے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے جس کی وجہ سے اُس کی دُنیا پر بالادستی دھندلا جائے گی۔ اِس صورتِ حال کے پیش نظر امریکہ متحرک ہوا، جولائی کے مہینے میں کئی امریکی وفود بھارت کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے پہنچے اور پھر 31 جولائی و یکم اگست کو وزیر خارجہ جان کیری آدھمکے اور انہوں نے بھارت کو امریکہ کی طرف رُخ کرنے کیلئے کئی اور پیشکش کیں مگر اس دوران جہاں برکس کا معاملہ امریکہ کیلئے مسئلہ تھا وہاں بھارت نے عالمی تجارتی تنظیم WTO اور FTA تجارتی معاہدہ کے تعاون کو رد کر دیا کیونکہ اس معاہدے میں دودھ اور دیگر ڈیری کی اشیاء پر ٹیکس لگانے کی شرط عائد کی جا رہی تھی، اس طرح امریکہ بھارت کے غریب عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنا چاہتا تھا جس کو بھارت نے منظور نہیں کیا اس پر جان کیری چراغ پا تھے مگر تاحال بھارتی حکومت راضی نہیں ہوئی، پھر 8 اگست کو امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل بھارت گئے اور بھارت کے عالمی طاقت بننے اور پاکستان کو زیر کرنے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہیں سات جدید طرز کے ہتھیاروں پر مشترکہ تحقیق کرنے اور مشترکہ پیداوار کرنے کی پرکشش پیشکش کی۔ چیک ہیگل کا یہ کہنا تھا کہ ایسی حساس ٹیکنالوجی پر ساتھ کام کرنے اور مشترکہ پیداوار کی آفرپیشکش ہم نے کسی اور ملک کو نہیں دی۔ ان طرزیات میں Path Breaking Alogrithms حساب کتاب کے عمل راہ میں حائل ہر چیز کو ہٹانے، سپر کمپیوٹر جس میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکھٹی کی جاتی ہیں جسے ایل میل، فیس ٹیلی فون کالز وغیرہ جو جاسوسی کے لئے بھی کام آسکتا ہے اور پھر اُس کو کسی بھی کام کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسمارٹ یا مستعد و متحرک نگرانی کا نظام، ٹینک کو کاٹنے کا نظام، ہاک 21، جیوونل میزائل تیز رفتار اور محفوظ جو زمین سے فضا میں مارنے کا کام کرتا ہے۔ مقناطیسی غلیل جو چھوٹے سے بحری جہاز سے بڑے طیارے کو اڑانے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کے علاوہ امریکہ نے جاپان کو بھی متحرک کیا ہوا ہے۔ جاپان کے وزیر اعظم 29 جنوری 2014ء کو بھارت آئے تھے اور انہوں نے منموہن سنگھ جو اس وقت بھارت کے وزیراعظم تھے کو کئی بڑی پیشکشیں کی تھیں اول اسٹرٹیجک تعاون، دوئم ملٹری سے ملٹری تعلق داری، جواباً بھارت نے چین کے ممنوعہ فضائی زون ایئر ڈیفنس شناختی زون پر جاپان کی حمایت کردی تھی۔ المختصر امریکہ کیلئے بھارت بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے، اس لئے وہ بھارت کو ہر طرح سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے مگر وہ اپنا ایجنڈا بھی نہیں بھولتا، کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتا، ملانا چاہتا ہے تو اپنی شرائط پر اس نے یورپ کو عملاً غلام بنا رکھا ہے۔ یورپ اتنا آزاد نہیں ہے جتنا کہ پاکستان ہے اسلئے وہ بھارت کو کھانے کی اشیا پر کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یورپ کے ساتھ بھی اس نے یہی کیا تھا۔ یورپ نے جزبز کے بعد امریکی شرائط مان لی تھیں، جس کے یہ معنی ہوئے کہ امریکہ دُنیا بھر کی خوراک کو اپنی دسترس میں لا کر دُنیا پر قبضے کو مکمل کرنا چاہتا ہے۔ فی الحال بھارت نے اِس کو رد کیا ہے مگر وہ امریکہ کے سامنے کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے۔

بھارت میں تضادات کا انبار ہے، وہاں 22 ریاستوں میں تحریک آزادی چل رہی ہے جس میں نکسل مائو تحریک 1967ء سے جاری ہے اور جو اتنی خطرناک اور جان لیوا ہے کہ بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے دو مرتبہ یہ کہا تھا کہ پاکستان سے زیادہ بھارت کو نکسل باڑیوں سے خطرہ ہے، بھارت ان نکسل باغیوں کی نسل کشی کر رہاہے۔ یہ تحریک چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، بہار، اڑیسہ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر کے علاوہ دیگر صوبہ جات میں بھارتی پولیس و افواج کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ بھارت کے 600 اضلاع میں سے 300 اضلاع اس کی تباہ کاریوں کے زیراثر ہیں۔ آسام میں کئی تحریک آزادی، یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام، مسلم لبریشن ٹائیگرز آف آسام، نیشنل فرنٹ آف بوڈو لینڈ کے نام سے بھارت کی سالمیت کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ناگالینڈ، تری پورہ، ارون چل ڈریگن فورس تنظیم کے علاوہ تامل نیشنل بحالی ٹروپس جو 18ویں صدی میں قائم سلطنت کو دوبارہ قائم کرنا چاہتی ہے اور سب سے بڑھ کر کشمیر کی آزادی کی تحریک ہے جو اب وہاں نئی حکومت قیامت ڈھانے کو ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اکتوبر 2014ء کے الیکشن میں کامیاب ہو کر حکومت بنانا چاہتی ہے۔ مرکز اور کشمیر میں اس پارٹی کی حکومت خون خرابے کا پیغام لے کر آرہی ہے۔

بھارت کو امریکہ ہر طرح سے قابو میں کرنے کی کوشش کرے گا۔ سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلا تو وہ اِن آزادی کی تحریکوں کو جلابخش کر بھارت کو مجبور کردے گا کہ وہ اس کے ساتھ مل جائے، روس بھی بھارت کو اپنی طرف متوجہ رکھنا چاہتا ہے کہ وہ اس کے اسلحہ کی منڈی ہے۔ جواباً جاپان کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے اور بھارت کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے جس کی وجہ سے بھارت فلسطین کی حمایت سے تائب ہو چکا ہے۔ اس وقت بھارت عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح اِس صورت سے نمٹتا ہے۔ 31 اگست کو نریندر مودی جاپان کے دورے پر جارہے ہیں۔ اس دورہ کے بعد کیا بھارت ایشیائی نیٹو میں شامل ہوجائے گا یا پھر وہ ابھی اِس سے دور رہے گا یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔ یہی فیصلہ بھارت کی آئندہ کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size