عاشق من الفلسطین

زاہدہ حنا
زاہدہ حنا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ہمارے ادب میں یہ مولانا حسرت موہانی تھے ، جنہوں نے اعلان بالفور کے بعد ء1929 میں سب سے پہلے فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی تھی ، اس کے بعد یہ اقبال تھے جنہوں نے عربوں کی تقسیم در تقسیم اور فلسطین کے مسئلے کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اس کے بعد سے اب تک ان ہمارے ان گنت شاعروں اور ادیبوں نے فلسطین کا غم منایا ہے۔
فیض نے فلسطینی بچے کے لیے لوری لکھی:

مت رو بچے …کچھ ہی پہلے تیرے ابا نے…

اپنے غم سے رخصت لی ہے…مت رو بچے…

تیرے آنگن میں…مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں…

چندرما دفنا کے گئے ہیں…

جالب نے فلسطین پر نظم لکھی تو کہا:

روشنیوں کی راہ میں جو دیوار بنے گا…نہیں رہے گا…
غاصب کو غاصب جو کھل کر نہ کہے گا…نہیں رہے گا…

فلسطین کے لیے یہ نظم جالب نے اس وقت کہی تھی جب ضیاالحق جنھیں اس وقت تک جنرل ہونے کااعزاز حاصل نہیں ہوا تھا، شاہ حسین کی خواہش پر دریائے اردن کے کنارے فلسطینی پناہ گزینوں کا ستھراؤ کر رہے تھے۔ خبریں بتاتی ہیں کہ اس مرد حق کی نگرانی میں ہزاروں فلسطینی بچے، عورتیں اور مرد قتل کیے گئے۔ ان ہی خدمات کے صلے میں انھیں ستارۂ اردن سے نوازا گیا۔ نیلے رنگ کے چوڑے ریشمی پٹکے میں ٹنکا ہوا اردن کا سب سے بڑا اعزاز جسے وہ مسلمانوں کے درد سے بھرے ہوئے اپنے چوڑے سینے پربہ صد افتخار سجاتے تھے۔

فلسطین پر احمد ندیم قاسمی ، ابن انشا، ادا جعفری، احمد فراز ، زہرہ نگاہ، کشور ناہید، اسلم فرخی ،فہمیدہ ریاض، شاہدہ حسن اور ہمارے کتنے ہی شاعروں نے دل صد چاک سے نظمیں لکھیں ۔ شاہدہ حسن کی نظم ، وادیٔ خوں رنگ، میں کیسا زندہ اور دھڑکتا ہوا درد ہے جو اس کی ایک ایک سطر سے عیاں ہے:
"یہ خطّہ، وادیٔ خوں رنگ ہے، اپنے لہو میں تر… اندھیروں میں کہیں گُم اس کے بام و در…یہاں پھولوں سے نازک جسم بھی…بارود کے شعلوں میں جلتے ہیں… یہاں پر چاند، سورج اور ستارے قتل ہوتے ہیں۔"

الطاف فاطمہ، خالدہ حسن، انتظار حسین، اور کئی دوسرے افسانہ نگاروں نے فلسطینیوں پر ٹوٹنے والے کوہ ستم اور ان کی در بدری کے بارے میں لکھا لیکن قرۃ العین حیدر کو اس حوالے سے اولیت حاصل ہے کہ انھوں نے 1967ء میں اپنے افسانے ، یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے، میں ایک نوجوان فلسطینی خود کش بمبار کا قصہ بیان کیا جو اپنی شناخت چھپانے کے لیے خود کو ایرانی النسل بتاتا تھا۔

یہودی النسل تمارا گرین برگ بھی اس سے اپنی اصلیت چھپاتی ہے اور سب کچھ کھلتا اس وقت ہے جب ٹیلی وژن اسکرین پر نوجوان فلسطینی کے بدن کے ٹکڑے نظر آتے ہیں اور جرمن نیوز کاسٹر یہ خبر سناتا ہے کہ اس خود کش حملے کے جواب میں آج خیمہ گاہوں پر بمباری کی گئی ہے اور اقبال کے شعر کا ایک مصرعہ ، قبا چاہیے اس کو خون عرب سے، کہانی کے جگ سا پزل کو مکمل کر دیتا ہے ۔ قرۃ العین حیدر کی یہ کہانی اردو ادب میں دو حوالوں سے اولیت رکھتی ہے ۔
پہلا حوالہ اردو میں فلسطینی نوجوانوں کی آشفتہ سری کا افسانے میں بیان ہے اور دوسرا یہ کہ اس کہانی میں پہلی مرتبہ کسی خودکش بمبار کے بارے میں لکھا گیا ۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے فلسطین کے موضوع کو ایک نئے زاویے سے دیکھا اور ان کی کتاب، ایک ہی باپ کی اولاد، اس طور سے اہم ہے۔

اردو ادب کا اگر جائزہ لیا جائے تو تخلیقی ادب سے کہیں زیادہ وہ رپورٹیں ، رپورتاژ ، روزنامچے ، نظمیں اور مضامین ہیں جن میں سے بہت سے فلسطینیوں اور کچھ یہودیوں اور امریکیوں نے لکھے اور ہمارے یہاں ترجمہ ہوئے ۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق کی خاطر لڑنے والوں اور ان کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرنے والوں میں عیسائی اور یہودی سرفہرست تھے ۔ ایڈورڈ سعید، حنان اشروی، لیلیٰ خالد اور ایسے کئی دوسرے جن میں سے کوئی بھی فلسطینی مسلمان نہ تھا، ان لوگوں نے دنیا والوں کے ضمیر کی عدالت میں فلسطینیوں کا مقدمہ خوب لڑا ۔
18 دسمبر 1987ء کو مشہور شامی شاعر نزار قبانی کی نظم "اطفال الحجر" (پتھر کے بیٹے) شایع ہوئی اور اس کے صرف تین دن بعد 21 دسمبر 1987ء کو مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے عربوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ ایک پُر امن اور غیر مسلح جدو جہد کا آغاز کر رہے ہیں جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے حقوق ان کو مل نہیں جاتے۔ یہ جنگ مقبوضہ علاقے کے بچوں، عورتوں اور مردوں اور بوڑھوں نے رائفلوں، بموں توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی اور دنیا میں یہ لڑائی انتفاضہ کے نام سے پہچانی گئی جس نے اسرائیل کے اندر بھی اپنے حمایتی پیدا کر لیے۔

یہ بعد کی الم ناک کہانی ہے جب ایک برادر اسلامی ملک نے اپنے مسلح لڑاکوں کے ذریعے وہ خون ریز نیابتی جنگ شروع کی جس نے انتقاضہ کو پیچھے دھکیل دیا۔ عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا اور اسرائیل کے اندر میزائیلوں کی بارش شروع گئی کی جس سے اسرائیلیوں کو تو کوئی خاص نقصان نہ پہنچا لیکن ہزاروں بے گناہ فلسطینی اسرائیل کی جوابی جنگی کارروائی میں ہلاک ہوئے اور ان کی آبادیاں تباہ و برباد ہو گئیں.

اردو میں فلسطین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا قصہ ادبی تراجم کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچا۔ لیلیٰ خالد جس نے اسرائیل کا طیارہ اغوا کیا اور پوری دنیا کی توجہ فلسطینیوں کے عذابوں کی طرف مبذول کرائی ، اس کی خود نوشت کا ترجمہ کشور ناہید نے کیا ۔ لیلیٰ نے طیارے کے اغوا کا دم بہ دم جو احوال ڈائری کی صورت لکھا، اسے میں نے ترجمہ کیا اور وہ قسط وار شایع ہوا ۔محمد کاظم نے فلسطین کی نمودار شاعرہ فدویٰ طوقان کی ڈائری اردو میں منتقل کی۔

فلسطینی محمود درویش کی شاعری کی تپک پاکستان میں اس حد تک محسوس کی گئی کہ ہمارے معروف ادیب اور مدیر"دنیا زاد" آصف فرخی نے درویش کے مجموعے "عاشق من الفلسطین" کے عنوان سے دو جلدوں میں ایک انتخاب مرتب کیا جس سے فلسطین کے آشوب کے کتنے ہی پہلو ہمارے سامنے آجاتے ہیں ۔ محمود درویش کی نظم "عاشق من الفلسطین" کی چند سطریں ملاحظہ فرمائیں :

" لوٹ آؤ،… تم اب جہاں بھی ہو، جو کچھ بھی بن گئی ہو… میرے بدن … اور چہرے کی گرمائی ،…میرے سنگیت اور رزق کا نمک…مجھے لوٹا دو …زیتون کی کوئی شاخ مجھ سے لے لو،…میرے المیے کی کوئی سطر ،…خیال کی کوئی لڑی…بچپن کا کوئی کھلونا…مصائب کی اس چہار دیواری میں سے کوئی اینٹ…کہ ہمارے بچے، بچوں کے بچے ، رستے کا سراغ رکھیں…اور لوٹ آئیں… تمہاری آنکھیں فلسطینی ہیں…تمہارا نام فلسطینی… تمہارے خواب، خیال، تمہارا بدن، تمہارے پیر… تمہاری چپ، تمہارے بول…تم حیات میں بھی فلسطینی ہو… موت میں بھی فلسطینی رہو گی ۔"


دنیا زاد کے اس شمارے میں فلسطینی ادب کا وہ جائزہ ہے جو فیض صاحب نے لکھا اور الطاف فاطمہ کی ایک اہم تحریر بھی ہے۔ مشہور فلسطینی شاعرہ فدویٰ طوقان کی خود نوشت کے کچھ حصے ہماری معروف افسانہ نگار خالدہ حسین نے ترجمہ کیے۔ حنان اشروی، ہلڑمان اور ڈان الماگور کی کچھ نظمیں میں نے اردو میں منتقل کیں ۔انور زاہدی ، کشور ناہید ، خالد سہیل ، آصف فرخی ، منو بھائی ، تنویر انجم ، سید حیدر جعفری ، مسعود اشعر ، ستار طاہر ، حمرا خلیق ، کاشف رضا ، امجد طفیل ، شاہد حمید ، افضال احمد سید ، اسلم خواجہ اور دوسرے بہت سے ادیب اور شاعر ہیں جنہوں نے فلسطینی شاعروں اور افسانہ نگاروں کو اردو میں منتقل کیا ۔ فتح محمد ملک نے اپنے مضمون ، فلسطین ، اردو ادب ، میں اس موضوع کو بہت تفصیل سے سمیٹا ہے ۔ وہ نم راشد، ابن انشا اور ادا جعفری کے حوالے دیتے ہیں ، انتظار حسین کے افسانے کا اقتباس ہمیں سناتے ہیں ۔ کچھ پاکستانی لکھاری ایسے بھی ہیں جنہوں نے ، صیہونیت اور یہودیت میں باریک فرق کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔

اسرائیل کے اندر جو یہودی، فلسطینیوں کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں ، جیل جا رہے ہیں ، ملازمتوں سے نکالے جا رہے ہیں ، قید تنہائی میں ڈالے جا رہے ہیں ان کا قصہ اس عاجز نے بھی لکھنے کی کوشش کی ہے جن کا احاطہ "سیاہ پوش عورتیں اور ماتم گسار مرد" ، " فلسطینیوں کا قتل عام" ، "ہم سب منافق ہیں" اور میری ایسی ہی کئی دوسری تحریروں میں ہوا ہے۔

1989ء میں یاسر عرفات چند دنوں کے لیے ہمارے مہمان ہوئے تو میں نے "یاسر عرفات مع الاحترامات" کے عنوان سے لکھا تھا۔ "آزادی میٹھے پانی کا چشمہ نہیں جو زمین کی گہرائیوں کو چیرتا ہوا پھوٹ بہے اور انسانوں کو سیراب کرے۔ آزادی میٹھے پانی کا کنواں ہے جسے کھودنے کی خواہش اور کوشش میں سیکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں افراد جان سے جاتے ہیں۔"

فلسطینی بھی آزادی کے میٹھے پانی کا کنواں کھود رہے ہیں اور اب چند برسوں سے اس میں "سیاہ پوش یہودی عورتیں" مرد کئی ونونو، ایڈورڈ سعید، حنان اشروی اور جورج گیلوے جیسے دوسرے بہت سے غیر مسلم شاعر اور ادیب شامل ہو گئے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کنواں اب زیادہ تیزی سے کھودا جاسکے گا۔

( انجمن ترقی پسند مصنفین، کراچی کے سیمینار، فلسطین اور ہمارا ادب، میں 30 اگست 2014ء کو پڑھا گیا۔)

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size