.

پولرائزیشن بش ازم تک پہنچ گئی ہے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدر جارج بش نے اپنے "ٹوئن ٹاورز" کی تباہی کے بعد کہا تھا کہ جو امریکہ کے ساتھ نہیں ہوگا وہ امریکہ کا دشمن کہلائے گا ان کے اس فیصلے کو "بش ازم" قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان میں دھرنوں کی وجہ سے وجود میں آنے والی "پولرآئی زیشن" کی انتہا اس بش ازم تک پہنچ چکی ہے جس نے اگر ہیرو کو زیرو بنا دیا ہے تو باغی کو بھی "داغی" قرار دیا جانے لگا ہے کسی بھی معاشرے کے لئے بہت ہی بدقسمت لمحات ہوتے ہیں جب غیر جانب دار عناصر غائب ہو جاتے ہیں یا غائب کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ کسی بھی جھگڑے یا تنازع میں غیر جانب دار عناصر کی عدم موجودگی میں صلح یا معاہدہ کی گنجائش نہیں رہتی اور جہاں صلح یا معاہدے کی گنجائش نہ ہو وہاں معاملات جوں کے توں رہتے ہیں ان میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا ہوتی دکھائی نہیں دیتی اور شائد اسی لئے گزشتہ 68 سالوں میں ہمیں اپنے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا ہوتی دکھائی نہیں دی۔ اگر کوئی مثبت تبدیلی ہوگی بھی تو فخر اور تعصب، خوف اور خواہش، پسند اور ناپسندیدگی کی عینکوں کے ذریعے دکھائی نہیں دے گی۔

ہمارے معاشرے میں معقول تعداد میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاک فوج کی قومی معاملات اور سیاست میں ماضی کی مداخلتوں کے قطعی برعکس موجودہ رجحانات کو ایک واضح طور پر مثبت تبدیلی گردانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ بعض عناصر کی مبینہ خواہشات کے خلاف پاک فوج وطن عزیز میں جاری آزادی تحریک اور انقلابی تحریک کے سلسلوں کی پشت پناہی نہیں کر سکتی اور کسی غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبے کی حمایت یا مدد نہیں کرے گی مگر "وال سٹریٹ جرنل" عالمی جنرل نالج کے بے پناہ ذخائر پر اپنی اجارہ داری کے دعوئوں کے باوصف پاکستان کےفوجی قائدین کی سوچ میں کسی مثبت تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے۔

چند روز پہلے حکومت پاکستان کے کہنے پر پاکستانی فوج کے سربراہ نے عمران خان اور علامہ قادری سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تو "وال سٹریٹ جرنل" نے فوری طور پر پرانی فائیلوں کو جھاڑتے ہوئے یہ خبر تخلیق کر دی کہ پاکستان کے فوجی سربراہ اور وزیرِ اعظم پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہونے والا ہے کہ وزیرِ اعظم حساس اداروں کی نگرانی اور امور خارجہ کے معاملات اور خاص طور پر پاک بھارت، پاک افغان اور پاک امریکہ تعلقات سے لاتعلق ہوجائیں گے اور یہ تمام معاملات مکمل طور پر فوجی قیادت کی تحویل میں چلے جائیں گے۔ گویا "وال سٹریٹ جرنل" کے مطابق پاکستان میں مارشل لاء نافذ کئے بغیر مارشل لاء کا نفاذ ہونے والا ہے۔

یہ خبر دیتے ہوئے معاصر نے یہ بھی بتادیا کہ اس نے حکومت پاکستان کے باخبر عناصر اور وزیروں سے اس سلسلے میں تصدیق طلب کی مگر کسی نے بھی سنوائی نہیں کی۔ یہاں تک کہ فوجی ترجمان نے بھی اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ وال سٹریٹ جرنل کے ڈسپیچ میں کہا گیا کہ 16 ماہ قبل عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت نے افواج پاکستان کے معاملات میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی جس سے فوجی قیادت ناراض ہو گئی اور وزیر اعظم کے اختیارات کے پر کترنے کا فیصلہ کر لیا اور ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ جن میں وزیر اعظم کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہو گیا اور ایسے حالات پیدا ہوگئے جن میں وزیر اعظم اپنے عہدے پر وجود رکھتے ہوئے بھی محض دکھاوے کے وزیر اعظم ہو کر رہ جائیں گے اور عالمی ادارے انہیں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیں گے۔ اس سلسلے میں شائع ہونے والی خبر میں تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کا حوالہ بھی دیا گیا کہ نرم قسم کا فوجی قبضہ تو ہو چکا ہے دیکھیں یہ قبضہ ٹھوس صورت کب اور کیسے اختیار کرتا ہے۔

"وال سٹریٹ جرنل" نے اپنی ان قیاس آرائیوں میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کا حوالہ بھی دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے پاکستان اور مقدمہ میں سے زندہ سلامت نکل جانے کا معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ ایسا ایک معاہدہ مارچ میں طے پایا تھا مگر سول حکومت نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا تھا۔ وال سٹریٹ جریدے کا یہ دعویٰ بھی اخبار میں چھپا ہے کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں شہباز شریف کے اقتدار سے محروم کئے جانے کا فیصلہ بھی ہو چکا تھا جس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ یہ کیسا نرم یا ٹھوس قبضہ ہے کہ جس میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کی نوبت ہی نہیں آتی؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.